مکہ کی سیاہ وادی جسے قرآنی زبان میں ضلال مبین کہا گیا۔جہاں انسان پست ترین اخلاقی اقدار کے ساتھ جہالت کے اندھیروں میں ظلم و جبر ،لوٹ کھسوٹ،قتل و غارت،دختر کشی اور بردہ فروشی جیسے المیوں سے گزر رہا تھا ایسے عہد ظلمت میں ایک ایسی عظیم شخصیت جو انسانی وقار کی بہترین مثال، بے نواؤں فقیروں اور مسکینوں کی غم خوار ،سخاوت اور کریمی کا بہترین شاہکار ،جہالت میں علمی محافل کی بنیاد رکھنے والی، سود جیسے نجس کاروبار کے دور میں برابر مضاربے پر پاکیزہ کاروبار کرنے والی،زندہ درگور ہوتی بنت حوا کے لیے محفوظ پناہ گاہ ،بھوکےسماج کی بہترین مددگار ،غلاموں اور کنیزوں کو ازادیوں کی نوید سناتی مہربان ہستی جناب خدیجۃ الکبریٰ کی صورت سامنے آتی ہے جو پیغمبر اکرم کے اعلان رسالت سے بہت پہلے سماجی اور معاشرتی خدمات اور معاشی عروج کے ساتھ پورے مکہ کی کفیل اور محسنہ ہیں وہ ملیکۃ العرب ہیں جنہیں پورا عرب انتہائی تکریم کی نظر سے دیکھتا ہے ان کی عفت حیا اور پاکیزگی کی وجہ سے عرب انہیں طاہرہ کے لقب سے پکارتے ہیں ان کے معاشی عروج کے سبب عرب معاشرہ انہیں سیدۃ القریش اور ملیکه التجار کہتا ہے صاحب عقل اور صاحب حکمت ہونے کی وجہ سے عربوں کی زبان پر عقیلۃ القریش کا لقب جاری ہے۔۔ اس عظیم ہستی نےاس وقت کے تمام مفاسد معاشرہ سے لڑ کر عظمتوں کا عظیم نصاب لکھا اس زمانے میں جہالتوں کا دور دورہ تھا آپ نے اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل جو انجیل زبور اور تورات کے عالم ربانی ، محقق لاثانی اور ایک خدا کے ماننے والے تھے ان کے تعاون سے علمائے یہود و نصارٰی کی علمی محافل برپا فرمائیں کہ جہاں پر ان آسمانی کتابوں کے دروس اور مطالب بیان کیے جاتے جن میں خاص طور پر آخری نبی کی بعثت کے بارے میں بہت ساری معلومات پیش کی جاتیں یہی چشم بصیرت جب عرفان میں ڈھلی تو بی بی نے پوری بصیرت کے ساتھ آقا مصطفی کی نبوت کو اعلان رسالت سے پہلے پہچانا اور آپ کی نبوت کی پہلی گواہ بنیں اس دور میں لوٹ مار اور ایک دوسرے پر شب خون مارنے اور ایک دوسرے کا مال ہتھیانے کی روایت جاری تھی اس لوٹ مار کے عہد میں آپ نے اپنے گھر کو دارالمساکین قرار دیا جہاں پر تمام نادار ،فقیر ،یسیر اور ضعیف لوگ مدد خواہی کے لیے موجود رہتے گویا پہلے دارالامان کا اہتمام بھی جناب سیدہ کی طرف سے کیا گیا اور لوٹ مار کے اس دور میں مسلسل کھلا رہنے والا دروازہ جس کی سخاوت اور کریمی کی وجہ سے لوگوں نے آپ کو ام المساکین کہنا شروع کیا اور کئی مقامات پر اپ کو ام الایتام بھی کہا گیا۔۔
یتیموں کی کفالت کرنے والی شہزادی نے اس دور میں اپنے دروازے کو سنت الہی پر مسلسل کھول کر لوگوں کو بخششیں عطا کر کے سماج کوانسانیت کی خدمت کے راستے دکھائے اس کے علاوہ عرب معاشرے میں دختر کشی کا ہولناک مرثیہ موجود تھا جس کے جواب میں سیدہ نے ان تمام بچیوں کو جن کے باپ انہیں زندہ درگور کرنے پر بضد ہوتے آپ انہیں اپنے دارالامان میں اپنی چھت تلے سائبان فراہم فرماتیں گویا اس زمانے کی رد شدہ مخلوق عورت کو عزت دینے والی سانس عطا کرنے والی ان کی ماں صرف اور صرف خدیجہ تھیں شاید اسی باعظمت صفت کی بدولت خدا نے اس رد شدہ مخلوق کو زندگی دینے اور ان کو چھت فراہم کرنے کے بدلے میں سیدہ کو ایک ایسی بیٹی عطا کی جو عالمین کے باعظمت ترین مردوں کی بھی سردار کہلائی۔۔ عرب معاشرے میں بردہ فروشی کارواج تھا ایک ایسا مافیا حرکت میں تھا جو مسافرت میں کاروانوں پر شب خون مارتا بچوں اور عورتوں کو اغوا کر کے دور کے بازاروں میں بطور غلام اور کنیزیں بیچ دیا کرتا تھا شہزادی نے ایسے بے شمار غلاموں اور کنیزوں کو خریدا اور آزاد فرمایا شہزادی کے اپنے محل میں بھی بے شمار سہیلیاں جن کا تاریخ میں بہت تذکرہ ملتا ہے یہ سب سہیلیاں شہزادی کی آزاد کردہ کنیزیں تھیں جنہیں جناب سیدہ نے پوری عزت اور وقار کے ساتھ سہیلیوں میں میں بدل دیا ۔۔
مکہ کی سیاہ نگری میں سودی کاروبار عروج پر تھا ایک نجس کاروبار جس سے غریب غریب سے غریب تر اور امیر امیر سے امیر تر ہوتا چلا جاتا ہے شہزادی نے یہ مقولہ سچ کر دکھایا کہ زمانہ تمہیں نہ بدلے بلکہ تم اپنے اندر زمانے کو بدلنے کی طاقت پیدا کرو آپ نے برابر مضاربے پر ایک ایسے تجارتی نظام کی بنیاد رکھی کہ جہاں مال لے جانے والے اور خود مالک کے درمیان منافع برابر تقسیم ہوتا۔۔ گویا عرب میں جو معاشرے کی مصیبتیں اور مفاسد تھے ان سے بی بی نے ڈٹ کر مقابلہ فرمایا اور معاشرے کی سربلند ترین خاتون کہلائیں مردوں کی پگڑیاں جہاں سرداری کا نشان تھیں وہاں بی بی کو سید و سردار قرار دیا گیا یہ کردار کے وقار کی ایک عظیم الشان فتح تھی جو تاریخ کے ماتھے پر اب بھی سنہرے حروف سے لکھی جا سکتی ہے آپ ام المعصومین ، ام الائمہ ،ام السادات ،ام الفضائل اور ام الزہرا ہیں اپ کے القابات میں سیدۃ النساء ،سیدة القریش ،صدیقہ، طاہرہ ،سیدہ ،عذرا ،کبریٰ، ام المساکین ملیکۃالتجار ،ملیکۃ العرب اور عقیلة القریش جیسے القابات زیادہ معروف ہیں۔
رسول خدا ایک روایت میں بیان فرماتے ہیں کہ خدا نے 10 عورتوں کو مختلف خصوصیات عطا فرمائیں جس میں حوا کو توبہ حضرت سارا کو جمال ،رحمہ ایوب کی زوجہ کو حفاص، آسیہ کو حرمت ،زلیخہ کو حکمت ،بلقیس زوجہ سلیمان کو عقل ،مادر موسی کو صبر، مریم کو پاکیزگی اور جناب فاطمہ زہرا کو علم عطا کیا اور پھر فرمایا کہ خدیجۃ الکبریٰ کو خدا نے اپنی رضا عطا کی رضا وہ جامع ترین وصف ہے جس میں پچھلی دس صفات بھی جمع ہو جاتی ہیں گویا شہزادی نے خدا سے ایسی تجارت فرمائی کہ جس طرح حضرت علی ع نے شب ہجرت تلواروں کے سائے میں بستر قتل پر سو کر اپنے نفس کو خدا کے حضور بیچا اور اس تجارت میں خدا نے علی کو اپنی رضا عطا کر دی ۔۔بالکل ایسے ہی جناب خدیجہ نے بھی خدا سے تجارت فرمائی علی نے نفس بیچا اور رضائے خدا حاصل کی اسی طرح جناب سیدہ خدیجہ نے مال کثیر دے کر خیر کثیر خرید لیا بی بی نے متاع عمر متاع حیات متاع نفس اور متاع دنیا کو خدا کے حضور ہدیہ کیا اور خدا نے جوابا کوثر کی عطا بی بی کے سپرد کر دی جناب رسول خدا ایک مقام پر جناب سیدہ خدیجہ کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جمال کے اعتبار سے خدیجہ کائنات کی سب سے پرجمال خاتون ہیں عقل میں سب سے کامل ترین ہیں رائے اور مشورے میں سب سے زیادہ موثر ہیں پوری کائنات میں عفت میں سب سے زیادہ ،حیا میں سب سے اگے اور مروت میں سب سے زیادہ معروف ہیں پھر فرمایا اور مال و دولت میں دنیا کی ساری خواتین پر اولیت رکھتی ہیں گویا اقا کی نظر میں بی بی کا مال سب سے اخر میں ہے جبکہ فضائل معنوی کا تذکرہ آقا نے ابتدا میں فرمایا اپ کی عمر مبارک 28 برس تھی اہل سنت کی تاریخ طبقات ابن سعد میں صاحب طبقات ابن سعد بیان کرتے ہیں کہ عام الفیل یعنی ابرہہ کے حملے کے سال رسول خدا کی ولادت باسعادت ہوئی اور واقعہ فیل سے تین برس پہلے جناب سیدہ کی ولادت ہوئی جبکہ شیعہ منابع میں مسلسل 28 برس ہی بی بی کی عمر بیان کی گئی ہے گویا جناب سیدہ کی عمر 28 برس تھی اور رسول خدا 25 برس کے تھے جب عالمین کا یہ سب سے حسین و جمیل زوج انجام پذیر ہوا 25 برس رسول اکرم کے ساتھ جناب سیدہ کا ایثار تسلیم اور وفا سے بھرا ہوا یہ رشتہ آپ کی وفات تک جاری رہا اپ اپنی زندگی میں رسول کی بلا فصل اور لاشریک زوجہ رہیں۔۔مکہ میں کفار کے ظلم و ستم کے مقابلے میں پوری استقامت صبر اور ایثار کے ساتھ جناب سیدہ کا پیغمبر گرامی کے ساتھ بطور مجاہدہ ایک عظیم کردار تاریخ کے لیے لازوال مثال ہے
( جاری )

