تہران ۔۔ گردوپیش رپورٹ ۔۔ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خمینی کے دور (1979 سے 1989 کے درمیان ) خاص طور پر انقلاب کے ابتدائی برسوں کے دوران بہت سے ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کو "انقلاب دشمنی”، "فساد فی الارض” یا سابقہ شاہی نظام سے وفاداری کے الزامات کے تحت سزائے موت دی گئی یا وہ جیلوں میں پرسرار طور پر ہلاک ہوئے۔
ان میں سے چند نمایاں نام درج ذیل ہیں:
1.سعید سلطان پور (Saeed Sultanpour)
سلطان پور ایک معروف شاعر، ڈرامہ نگار اور ہدایت کار تھے۔ انہیں 1981 میں ان کی شادی کی رات ہی گرفتار کیا گیا اور کچھ عرصہ بعد فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ان کا جرم ان کی انقلابی شاعری اور بائیں بازو کے نظریات تھے۔
2. رحمان ہاتفی (Rahman Hatefi)
وہ ایک ممتاز صحافی اور شاعر تھے۔ انہیں 1983 میں گرفتار کیا گیا اور ایون جیل (Evin Prison) میں تشدد کے دوران ان کی موت واقع ہوئی۔ وہ اپنے قلمی نام "آذرنگ” سے مشہور تھے۔
3. سمین بہبہانی پر پابندیاں اور دیگر کا قتل
اگرچہ بہت سے نامور ادیبوں (جیسے کہ احمد شاملو) کو براہ راست سزائے موت نہیں دی گئی، لیکن ان پر زندگی تنگ کر دی گئی۔ تاہم، منوچہر محجوبی اور غلام حسین ساعدی جیسے ادیبوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، جہاں وہ جلاوطنی کے دوران انتقال کر گئے۔
4. فرخ رو پارسا (Farrokhroo Parsa)
وہ ایران کی پہلی خاتون وزیر (تعلیم) اور ایک معتبر ماہر تعلیم تھیں۔ اگرچہ وہ بنیادی طور پر سیاستدان تھیں، لیکن علمی اور ادبی حلقوں میں ان کا بڑا احترام تھا۔ انہیں 1980 میں "فساد فی الارض” کے الزام میں سزائے موت دی گئی۔
5. فنکار اور گلوگار
بہت سے فنکاروں کو سرعام پھانسی دی گئی یا جیلوں میں ڈالا گیا۔
پرویز مقصدی: مشہور موسیقار، جنہیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
کئی رقاصوں اور تھیٹر کے فنکاروں کو "اسلامی شعائر کی توہین” کے الزام میں سزائیں دی گئیں۔
"قتلِ زنجیری” (Chain Murders)
خمینی کے دور کے فوراً بعد (اور کچھ حد تک آخری ایام میں) ایران میں "قتلِ زنجیری” کا سلسلہ شروع ہوا جس میں درجنوں دانشوروں، شاعروں اور لکھاریوں کو منظم طریقے سے قتل کیا گیا۔ اس میں محمد مختاری اور محمد جعفر پویاندہ جیسے بڑے نام شامل تھے۔
اس دور میں ایرانی ادیبوں کی بڑی تعداد نے پیرس، لندن اور امریکہ میں جلاوطنی اختیار کی، جسے "ایران کا عظیم فکری انخلا” کہا جاتا ہے۔
فیس بک کمینٹ

