واشنگٹن : امریکی صدر نے ایران کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ: ’نہ تو ان کے پاس کوئی فضائیہ رہ گئی ہے، نہ فضائی دفاع۔ ان کے تمام طیارے ختم ہو چکے ہیں، ان کا مواصلاتی نظام ختم ہو چکا ہے۔‘صدر ٹرمپ نے انٹر میامی کے کھلاڑیوں اور سٹاف سے ملاقات کے دوران اپنی گفتگو میں مزید کہا کہ ایرانی حکام ’فون کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم کوئی معاہدہ کیسے کر سکتے ہیں؟‘
’میں نے ان سے کہہ رہا ہوں کہ آپ نے دیر کر دی ہے۔ ہم اب لڑنا چاہتے ہیں۔‘
خیال رہے اس سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کر چکے ہیں۔
انھوں نے این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ ہمارا امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا تجربہ مثبت نہیں رہا ہے، خاص طور پر اس انتظامیہ کے ساتھ۔ ہمیں نے گذشتہ برس اور اس برس دو مرتبہ مذاکرات کیے ہیں اور پھر مذاکرات کے درمیان انھوں نے ہم پر حملہ کر دیا۔‘
سینٹکام کمانڈر نے دعوی کیا ہے کہ ہم اب تک ایران کے 30 سے زائد بحری جہاز تباہ کرچکے ہیں، سینٹ کام کمانڈر ایڈمرل بریڈ کاپر نے ایران پر حملوں سےمتعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں میں پہلے دن سے 90 فیصد کمی آئی۔ اگلے مرحلے میں ایران کی میزائل پیداواری صلاحیت کو ختم کردیں گے۔
( بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

