نیٹ فلکس کے شہرۂ آفاق سلسلے Black Mirror کی پہلی سیزن کی دوسری قسط Fifteen Million Merits دیکھنے کے بعد ذہن میں ایک بے چین کرنے والا سوال رہ جاتا ہے۔ یہ محض ایک ڈرامہ نہیں بلکہ ہمارے عہد کی معاشی اور سماجی سمت پر ایک گہرا تبصرہ ہے۔
اس قسط کی دنیا میں انسان ایک عجیب مشین کا پرزہ بن چکا ہے۔ لوگ دن بھر بند کمروں میں سائیکل چلاتے ہیں اور اس کے بدلے ڈیجیٹل سکے کماتے ہیں جنہیں “میرٹس” کہا جاتا ہے۔ یہی سکے ان کی خوراک، تفریح اور زندگی کی دوسری ضرورتوں کا ذریعہ ہیں۔ چاروں طرف اسکرینیں ہیں، اشتہارات ہیں اور ایک ایسا نظام ہے جو انسان کے وقت، محنت اور جذبات سب کو بازار کی اشیا میں تبدیل کر دیتا ہے۔
یہ منظر بظاہر مستقبل کی ایک ڈسٹویپیائی کہانی معلوم ہوتا ہے، مگر اگر غور کیا جائے تو اس کے خدوخال آج کی دنیا سے زیادہ مختلف نہیں۔ انسانی محنت، تخلیقی صلاحیت اور حتیٰ کہ شخصیت تک کو معاشی قدر میں بدل دینے کا رجحان ہماری موجودہ معیشت کی بنیادی خصوصیت بنتا جا رہا ہے۔
اسی مقام پر انیسویں صدی کے مفکر کارل مارکس کی فکر غیر معمولی اہمیت اختیار کر لیتی ہے۔ مارکس کے مطابق معاشرے کا معاشی ڈھانچہ ہی دراصل اس کی سیاست، ثقافت اور اخلاقیات کی تشکیل کرتا ہے۔ یعنی جس معاشی نظام میں انسان زندگی گزارتا ہے، اسی کے مطابق اس کے سماجی ادارے اور انسانی تعلقات بھی تشکیل پاتے ہیں۔
مارکس نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف داس کیپیٹل (Das Kapital) میں تقریباً ڈیڑھ صدی پہلے سرمایہ دارانہ نظام کے بنیادی تضادات کی نشاندہی کر دی تھی۔ ان کے نزدیک سرمایہ داری کی بنیاد یعنی نجی ملکیت ہی ان مسائل کی جڑ ہے جو جدید معاشروں میں بتدریج شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ انسان کی محنت ایک شے بن جاتی ہے، انسانی صلاحیتیں بازار میں فروخت ہونے والی اشیا میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور فرد اپنے کام، اپنی تخلیق اور بالآخر اپنی ذات سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔
یہی وہ کیفیت ہے جسے مارکس نے بیگانگی (alienation) کہا تھا۔ اسی سے وہ رجحان پیدا ہوتا ہے جسے آج ہم کموڈیفیکیشن کہتے ہیں، یعنی انسانی زندگی کے ہر پہلو کا بازار میں بدل جانا۔
اگر اس زاویے سے دیکھا جائے تو بلیک مرر کی مذکورہ قسط محض سائنسی فکشن نہیں بلکہ سرمایہ داری کے منطقی انجام کی ایک تمثیل محسوس ہوتی ہے۔ جب معیشت کا بنیادی اصول منافع ہو تو انسانی زندگی کا ہر پہلو بتدریج معاشی قدر میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔
اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی “مثالی سرمایہ داری” کا تصور واقعی ممکن ہے؟ مارکس کے نزدیک اس کا جواب نفی میں ہے۔ ان کے خیال میں مسئلہ سرمایہ داری کے کسی بگڑے ہوئے روپ کا نہیں بلکہ اس کے بنیادی تصور کا ہے۔ نجی ملکیت پر قائم یہ نظام ناگزیر طور پر عدم مساوات، طاقت کے ارتکاز اور انسانی بیگانگی کو جنم دیتا ہے۔
اس کے برعکس کمیونزم کا نظریہ ایک ایسے معاشرے کا تصور پیش کرتا ہے جہاں پیداوار کے ذرائع اجتماعی ملکیت میں ہوں، معاشی استحصال ختم ہو جائے اور انسانی صلاحیتیں منافع کے بجائے اجتماعی فلاح کے لیے بروئے کار آئیں۔ بلاشبہ تاریخ میں اس نظریے کو عملی جامہ پہنانے کی کوششوں میں سیاسی آزادی اور شخصی آمریت کے مسائل پیدا ہوئے، مگر یہ مسائل بنیادی طور پر سیاسی ڈھانچوں سے متعلق تھے، نہ کہ مساوات اور اجتماعی ملکیت کے اصول سے۔
اگر مستقبل میں کوئی معاشرہ سیاسی آزادی، جمہوری احتساب اور شخصی آمریت کے خطرات کو مؤثر طور پر حل کر لے تو ممکن ہے کہ انسانیت ایک زیادہ مساوی اور انسانی معاشی نظام کی طرف بڑھ سکے۔ بہت سے مفکرین کے نزدیک یہی راستہ بالآخر کمیونزم کی کسی نہ کسی شکل کی طرف جاتا ہے۔
اگر ایسا نہ ہوا تو خدشہ یہ بھی ہے کہ انسان ایک ایسے معاشی اور تکنیکی نظام میں قید ہو جائے گا جس میں اس کی حیثیت محض ایک صارف اور پیداواری اکائی تک محدود رہ جائے گی۔ اس صورت میں بلیک مرر جیسی کہانیاں محض تخیل نہیں بلکہ مستقبل کی ایک ممکنہ جھلک بن سکتی ہیں۔
انسانی تاریخ کا اصل سوال اسی مقام پر کھڑا ہے۔ کیا ہم ایسا معاشی نظام تشکیل دے سکتے ہیں جو انسان کو مرکز میں رکھے، یا ہم اسی راستے پر چلتے رہیں گے جہاں معیشت انسان پر غالب آ جاتی ہے؟
اگر انسان نے اس سوال کا جواب تلاش نہ کیا تو بعید نہیں کہ وہ اپنی ہی بنائی ہوئی معاشی اور تکنیکی طاقتوں کے ہاتھوں ایک ایسی دنیا تخلیق کر بیٹھے جس میں ترقی تو ہو مگر انسانیت باقی نہ رہے۔ بلکہ ہو سکتا ہے کہ انسان یہ دنیا پہلے ہی تخلیق کر بیٹھا ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں؟
فیس بک کمینٹ

