وزیرستان کے سیاسی رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی رہائی ( متوقع ) ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان ایک مرتبہ پھر اپنے قبائلی خطے میں امن کی تلاش میں ہے۔ علی وزیر کا نام صرف ایک سیاست دان کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے مزاحمتی کردار کے طور پر لیا جاتا ہے جو گزشتہ دو دہائیوں میں وزیرستان کے سیاسی اور سماجی بیانیے کا حصہ بن چکا ہے۔ ان کی سیاست کا محور ہمیشہ وہی طبقہ رہا جسے ریاستی اور عالمی سیاست کے تصادم میں سب سے زیادہ قیمت ادا کرنا پڑی: وزیرستان کا محنت کش اور عام انسان۔
علی وزیر بنیادی طور پر بائیں بازو کے سیاسی نظریات رکھتے ہیں۔ ان کا تعلق کمیونسٹ تنظیم طبقاتی جدوجہد سے رہا ہے اور وہ مرحوم لال خان کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے رہے۔ ان کی سیاست کا محور قومی یا نسلی بالادستی نہیں بلکہ طبقاتی انصاف رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اپنی سیاست کو وزیرستان کے عام لوگوں کے مسائل سے جوڑے رکھا، چاہے وہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد ہو، جبری گمشدگیاں ہوں یا جنگ سے تباہ حال سماجی ڈھانچے کی بحالی کا سوال۔
ان کی ذاتی زندگی بھی اسی جدوجہد کا ایک دردناک استعارہ ہے۔ علی وزیر کے خاندان کے متعدد افراد طالبان دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ ان کے قریبی رشتہ داروں کو قتل کیا گیا اور ان کے خاندان نے اس خطے میں شدت پسندی کی وہ قیمت ادا کی جس کا تصور بھی آسان نہیں۔ یہی طالبان اب ریاستی بیانیے میں خارجی کہلاتے ہیں اور ان کے خلاف ایک نئی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ایک طویل عرصے تک یہی گروہ خطے کی تزویراتی سیاست میں مختلف حوالوں سے ریاستی اثاثوں کے طور پر بھی دیکھے جاتے رہے۔ اس تضاد نے وزیرستان جیسے علاقوں کے لوگوں کو مسلسل ایک پیچیدہ اور پرتشدد سیاسی حقیقت میں زندہ رہنے پر مجبور رکھا۔
علی وزیر کی سیاسی زندگی میں گرفتاری اور قید کا سلسلہ بھی اسی پس منظر میں سمجھنا چاہیے۔ 2019 کے خڑقمر واقعے کے بعد ان کی پہلی بڑی گرفتاری ہوئی۔ چند ماہ بعد وہ ضمانت پر رہا ہوئے، مگر 2020 میں ایک تقریر کے بعد ان کے خلاف کراچی میں مقدمات درج کیے گئے اور انہیں سندھ منتقل کر دیا گیا۔ اس کے بعد تقریباً ڈھائی سال تک وہ مختلف قانونی پیچیدگیوں کے باعث جیل میں رہے۔ سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے باوجود ان کی رہائی بار بار نئے مقدمات کی وجہ سے مؤخر ہوتی رہی۔ یوں ایک منتخب رکن قومی اسمبلی کا بڑا حصہ جیل میں گزرا۔
اسی دوران ایک دلچسپ اور معنی خیز واقعہ بھی سامنے آیا۔ ایک موقع پر جب عوامی اجتماع میں بلاول بھٹو زرداری سے علی وزیر کی رہائی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس معاملے کے لیے “ان لوگوں کے پاس جائیں جن کے پاس انہیں رہا کرنے کی طاقت ہے۔” یہ مختصر سا جملہ دراصل پاکستان کی سیاست کی ایک گہری حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہاں منتخب سیاست دان بسا اوقات ایسے معاملات میں بےبس دکھائی دیتے ہیں جہاں سیاسی کارکنوں کی آزادی یا قید کا فیصلہ عملی طور پر ان کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ یہ صورتحال اس بڑے سوال کو جنم دیتی ہے کہ جمہوری نظام میں طاقت کا اصل مرکز کہاں ہے اور منتخب نمائندوں کی عملی حدود کیا ہیں۔
اس پورے عرصے میں یہ تاثر بھی موجود رہا کہ ریاستی ادارے ان کے سیاسی بیانیے سے ناخوش ہیں۔ اس تناظر میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا وہ بیان بھی یاد کیا جاتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر علی وزیر فوج کے خلاف اپنے بیانات پر معافی مانگ لیں تو ان کی رہائی ممکن ہو سکتی ہے۔ اس بیان کو بہت سے حلقوں نے اس کیس میں عسکری قیادت کی غیر معمولی دلچسپی کے طور پر دیکھا۔
دلچسپ اتفاق یہ ہے کہ علی وزیر کی حالیہ رہائی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ریاست خیبر پختونخوا میں دوبارہ امن کے قیام کی کوشش کر رہی ہے اور ٹی ٹی پی اور افغان طالبان جنہیں اب خارجی کہا جاتا ہے، ایک بار پھر ریاست کی دفاعی پالیسی کا مرکز و محور ہیں۔ اسی دوران سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کے بارے میں یہ خبر بھی سامنے آئی کہ وہ ایک حادثے کے باعث صحت کے مسائل کا شکار ہوئے اور ان کی یادداشت متاثر ہوئی۔
تاریخ کے ایسے موڑ اکثر عجیب اتفاقات سے بھرے ہوتے ہیں۔ ایک طرف وہ سیاست دان رہا ہو رہا ہے جو برسوں ریاستی پالیسیوں کا ناقد رہا، اور دوسری طرف وہ طاقتور شخصیت منظر سے تقریباً خاموشی کے ساتھ غائب ہو چکی ہے جس کے دور میں اس کشمکش نے شدت اختیار کی۔
یہ بھی ممکن ہے کہ علی وزیر کی رہائی محض ایک انفرادی واقعہ نہ ہو بلکہ ایک وسیع تر سیاسی عمل کا آغاز ثابت ہو۔ پاکستان میں اس وقت مختلف جماعتوں اور نظریات سے تعلق رکھنے والے متعدد سیاسی کارکن مختلف مقدمات میں قید ہیں۔ اگر ریاست واقعی سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنا چاہتی ہے تو بعید نہیں کہ آنے والے دنوں میں دوسرے سیاسی کارکنوں کی رہائی کا سلسلہ بھی شروع ہو جائے۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ علی وزیر کی آزادی اس بار کتنی دیر برقرار رہے گی۔ پاکستان کی سیاست میں نظریاتی مزاحمت کرنے والوں کے لیے راستے کبھی آسان نہیں رہے۔ لیکن ایک بات تقریباً یقینی ہے: علی وزیر ان سیاست دانوں میں سے نہیں جو اپنے نظریات کو وقتی مصلحتوں کے مطابق بدل لیتے ہیں۔ ان کی پوری سیاسی زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ وہ سمجھوتہ کرنے والے کرداروں میں شامل نہیں۔
اسی لیے ممکن ہے کہ ان کی سیاست آنے والے برسوں میں بھی تنازعات اور اختلافات کا سبب بنتی رہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وزیرستان جیسے خطوں کی تاریخ میں ایسے کردار ہی سیاسی حافظے کا حصہ بنتے ہیں۔ یہ وہ سخی ہیں جن کے لہو کی اشرفیاں چھن چھن کرتی ہیں اور جو حالات سے سمجھوتہ کرنے کے بجائے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہیں، چاہے اس کی قیمت انہیں قید، تنہائی یا مسلسل سیاسی دباؤ کی صورت میں ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔
فیس بک کمینٹ

