تل ابیب : اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ایک حملہ میں ایرانی انٹیلیجنس کے وزیر اسماعیل خطیب ہلاک ہو گئے ہیں۔
تہران: اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے دارالحکومت تہران میں ہونے والے ایک فضائی حملے میں ایرانی وزیرِ انٹیلیجنس اسماعیل خطیب کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیل کے ٹی وی چینل 12 کے مطابق اس حملے کے نتائج کا فی الحال جائزہ لیا جا رہا ہے اور یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے میں کیا نقصان ہوا ہے یا ہدف کامیابی سے حاصل کیا گیا یا نہیں۔
یاد رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملوں کے دعوے کر رہے ہیں، جس سے خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
ایران نے تاحال اس اسرائیلی دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔
سنہ 2021 میں ایران کے سابق صدر ابراہیم رئیسی نے اسماعیل خطیب کو وزیر برائے انٹیلیجنس مقرر کیا تھا۔
انھوں نے متعدد سینیئر علما سے فقہ کی تعلیم حاصل کی تھی، جن میں آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل تھے۔
اسماعیل خطیب وزارتِ انٹیلیجنس اور رہبرِ اعلیٰ کے دفتر میں بھی متعدد اعلیٰ عہدوں پر کام کر چکے تھے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے سنہ 2022 میں ان پر ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے ’امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف سائبر سرگرمیوں میں ملوث‘ ہونے کے الزام میں پابندیاں عائد کی تھیں۔
کہا جاتا ہے کہ اسماعیل خطیب نے 1979 کے انقلاب کے بعد 1980 میں پاسدرانِ انقلاب میں شمولیت اختیار کی تھی۔
( : بشکریہ ۔۔ بی بی سی / ایکسپریس نیوز )

