پاکستان میں جب بھی کسی نئے تیل یا گیس ذخیرے کی خبر آتی ہے تو ایک لمحے کے لیے قوم کے چہروں پر امید کی ہلکی سی روشنی اتر آتی ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے شاید اب گیس کے چولہے پوری آنچ سے جلیں گے، بجلی کے بل کچھ کم ہوں گے، پٹرول کی قیمت میں کچھ کمی آئے گی اور مہنگائی سے جھکے کندھوں کو تھوڑا سہارا ملے گا۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زمین کے سینے سے نکلنے والی یہ خوشخبری شاید عوام کے نصیب بھی بدل دے گی۔ مگر ہمارے ہاں اکثر امیدوں کی عمر خبروں جتنی ہی ہوتی ہے۔ چند دن گزرتے ہیں، سرخیاں بدل جاتی ہیں اور زندگی پھر وہیں آ کھڑی ہوتی ہے جہاں چولہا، بل اور بازار سب پہلے جیسے نظر آتے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں ملک کے مختلف علاقوں، خصوصاً سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت ہونے کی خبریں سامنے آتی رہیں۔ ان اعلانات کو سن کر خوشی بھی ہوتی ہے، کیونکہ توانائی کے وسائل کسی بھی ملک کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک نے قدرتی وسائل کو سنبھال کر اپنی تقدیر بدلی، صنعتوں کو طاقت دی اور عوام کو سہولتیں فراہم کیں۔ اسی لیے پاکستانی عوام بھی ہر نئی خبر کے ساتھ امید باندھ لیتے ہیں کہ شاید اب حالات بدلیں گے۔ مگر عام آدمی کے ذہن میں ایک سیدھا سا سوال پھر بھی موجود رہتا ہے کہ اگر ذخائر واقعی مل رہے ہیں تو ہماری روزمرہ زندگی میں آسانی کیوں نہیں آ رہی؟
پاکستان اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق مالی سال 2025 کے ابتدائی نو ماہ، یعنی جولائی تا مارچ، کے دوران ملک میں خام تیل کی اوسط پیداوار 64,526 بیرل یومیہ رہی، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 14.8 فیصد کم تھی۔ اسی عرصے میں قدرتی گیس کی اوسط پیداوار 3,097 ملین مکعب فٹ یومیہ ریکارڈ کی گئی، جس میں 6.8 فیصد کمی سامنے آئی۔
یہ اعداد و شمار ایک خاموش حقیقت بیان کرتے ہیں کہ نئی دریافتوں کی خبروں کے باوجود مجموعی پیداوار میں وہ اضافہ نہیں ہو سکا جس کی قوم کو امید تھی۔ یعنی خوشخبری اپنی جگہ، مگر زمینی حقیقت اپنی جگہ۔
اسی رپورٹ کے مطابق ملک میں قدرتی گیس کی یومیہ کھپت 3,143 ملین مکعب فٹ رہی، جس میں سے 798 ملین مکعب فٹ یومیہ درآمدی آر ایل این جی پر مشتمل تھا۔ گویا چولہا جلانے کے لیے ہم اپنی زمین کے ساتھ سمندر پار منڈیوں کے بھی محتاج ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا بوجھ سیدھا پاکستانی عوام پر آ گرتا ہے۔ پٹرول مہنگا ہو تو ٹرانسپورٹ مہنگی، ٹرانسپورٹ مہنگی ہو تو آٹا، دال، سبزی اور دیگر اشیائے خور و نوش مہنگی، اور پھر ہر گھر کا بجٹ لرزنے لگتا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ کیلکولیٹر اٹھاتا ہے اور مزدور جیب ٹٹولتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ مالی سال 2025 کے دوران جولائی تا مارچ پاکستان نے 12.53 ملین میٹرک ٹن پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں، جن پر 8.4 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ خرچ ہوا۔ یہ وہ رقم ہے جو اگر بچ جائے تو کئی شعبوں میں بہتری آ سکتی ہے، مگر فی الحال یہ رقم ایندھن کے دھوئیں میں اڑ جاتی ہے۔
ملتان کے ایک پرانے چائے خانے میں بیٹھے تین دوست اسی موضوع پر گفتگو کر رہے تھے۔ ایک نے اخبار لہراتے ہوئے کہا، “پھر نیا ذخیرہ مل گیا ہے۔” دوسرے نے ہنس کر جواب دیا، “میرے گھر تو آج بھی گیس نہیں آئی۔” تیسرے نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا، “اگر فائدہ ہوتا تو موٹر سائیکل کی ٹنکی بھرواتے وقت آدھی تنخواہ نہ نکل جاتی۔”
یہ گفتگو صرف تین آدمیوں کی نہیں، کروڑوں پاکستانیوں کی آواز ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی یہ بات چائے خانے میں کہتا ہے، کوئی گھر کے کچن میں، اور کوئی پٹرول پمپ پر دل ہی دل میں دہراتا ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ کسی مقام پر تیل یا گیس مل جانا صرف پہلا مرحلہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد کنویں کی تکمیل، صفائی، پائپ لائن، ترسیل، سرمایہ کاری اور قومی نظام سے جوڑنے کا لمبا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ اکثر ایک دریافت کو عوام تک پہنچنے میں 3 سے 5 سال لگ جاتے ہیں۔ بعض منصوبے فائلوں میں اتنا سفر کرتے ہیں جتنا پائپ لائنوں میں نہیں کرتے۔
دوسری طرف ملک کے پرانے ذخائر مسلسل کمزور ہو رہے ہیں۔ سوئی جیسے بڑے میدان پہلے جیسی پیداوار نہیں دے رہے۔ بعض ماہرین کے مطابق پرانے ذخائر میں سالانہ 8 سے 10 فیصد قدرتی کمی دیکھی جا رہی ہے۔ یوں نئی دریافتیں اکثر صرف پرانی کمی پوری کرتی ہیں، اضافی آسودگی نہیں لاتیں۔
تیسری بڑی وجہ انتظامی خرابیاں ہیں۔ گردشی قرضہ، گیس چوری، لائن لاسز، ناقص منصوبہ بندی، تاخیر اور غیر مستقل پالیسیاں وہ زنجیریں ہیں جو قدرتی وسائل کے فائدے کو عوام تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیتی ہیں۔ ہمارے ہاں بعض اوقات مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، نظم و نسق کی کمی ہوتا ہے۔

اگر یہ نئی دریافتیں نہ ہوتیں تو شاید حالات مزید سخت ہوتے۔ درآمدی بل بڑھ جاتا، بجلی اور گیس مزید مہنگی ہوتی، صنعتوں کا بحران گہرا ہو جاتا اور زرمبادلہ کے ذخائر پر مزید دباؤ پڑتا۔ یعنی ان ذخائر نے نقصان ضرور روکا، مگر وہ سکون نہ دے سکے جس کی امید سنائی گئی تھی۔
صنعتی شعبہ بھی توانائی بحران سے براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔ جب گیس مہنگی یا نایاب ہو تو کارخانے سست پڑتے ہیں، پیداوار کم ہوتی ہے، برآمدات متاثر ہوتی ہیں اور روزگار کے دروازے تنگ ہونے لگتے ہیں۔ ایک فیکٹری کا پہیہ رکنے کا مطلب صرف ایک مالک کا نقصان نہیں، بلکہ درجنوں گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہونا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت صرف اعلانات نہ کرے بلکہ صاف لفظوں میں بتائے کہ نئی دریافت سے کتنی پیداوار بڑھی، کتنے ڈالر بچے، کتنے گھروں تک گیس پہنچی، صنعت کو کتنا فائدہ ہوا اور عوامی نرخوں میں کیا فرق آیا۔ قوم کو اعداد و شمار بھی چاہییں اور اثرات بھی۔
اس کے ساتھ ساتھ شمسی، ہوا اور پن بجلی جیسے متبادل ذرائع پر بھی سنجیدگی سے توجہ دینا ہو گی۔ دنیا آگے بڑھ رہی ہے اور ہم اب بھی ہر مہینے نرخ نامے دیکھ کر پریشان ہوتے ہیں۔
عام آدمی کسی پریس کانفرنس یا رپورٹ کو نہیں دیکھتا، وہ اپنے گھر کے چولہے، بجلی کے بل، موٹر سائیکل کے ٹینک اور بچوں کے خرچ کو دیکھتا ہے۔ جب تک زمین سے نکلنے والی دولت عوام کی زندگی آسان نہیں بناتی، تب تک ہر نئی خبر امید تو جگائے گی، مگر اعتماد پیدا نہیں کرے گی۔
اسی لیے آج بھی بازاروں، گلیوں اور چائے خانوں میں ایک ہی سوال سنائی دیتا ہے: ذخائر تو مل رہے ہیں، مگر ہمیں کیا مل رہا ہے؟
فیس بک کمینٹ

