نام نہاد لاہور لیفٹ، لال خان کا گروپ اور عوامی ورکر پارٹی وغیرہ جنہوں نے پشتین کو لاہور میں مدعو کیا تھا، دراصل محنت کشوں کے خلاف ریاست سے ملا ہوا گروپ ہے۔ انھی لوگوں کی وجہ سے پی ٹی ایم کا جلسہ موچی دروازے میں بری طرح ناکام ہو گیا۔ ان لوگوں نے ایک ملک گیر تحریک کو قومی اور علاقائی رنگ دے دیا۔ ایک منصوبہ بندی کے تحت ان لوگوں نے پنجابی لاہوریوں کو جلسے کے لیے موبلائز نہیں کیا جس کی وجہ سے جلسے میں پنجابیوں کے خلاف نفرت دیکھنے میں آئی۔ لاہوریوں کی کم تعداد کا گلہ پشتین اور دوسرے مقررین نے بار بار جلسے میں کیا۔ یہ سرخوں کی آپسی لڑائی نہیں بلکہ سچائئ اور منافقت کی لڑائی ہے۔ دوسرا گروپ سرمایہ دار قوتوں کے ساتھ مل کر چلنا چاہتا ہے. ان کے ذاتی مفادات ہیں، یہ لوگ ظلم کے خلاف پرامن احتجاج کو ایڈوینچر کہتے ہیں اور ہمارے کامریڈز کی گرفتاری پر بہت خوش ہیں، لیکن آخری جیت سچائی کی ہو گی۔بہت جلد ان مفاد پرستوں کی قلعی کھل جائے گی۔
اتوار, جولائی 5, 2026
تازہ خبریں:
- خاموشی کا منطقہ : وجاہت مسعود کا ناقابل اشاعت کالم
- پاکستان میں سرمایہ کاری کیوں نہیں ہوتی؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے میں کروڑوں افراد کی شرکت : مرگ بر امریکا کے نعرے
- لاہور: غیرملکی خواتین سے اسحاق ڈار کے نواسے اور ساتھیوں کی مبینہ اجتماعی زیادتی : خاتون کے تہلکہ خیز انکشافات
- پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک روپے 97 پیسے کی کمی
- کینیا کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کےقتل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی درخواست مسترد کر دی
- جہانیاں : معروف عالم ناصر مدنی کو نمازِ جمعہ کے دوران دل کا دورہ : ملتان میں زیرِ علاج
- زار سے ضمیر تک ۔۔روسی ناول کا اردو بیانیہ : محمد عمران کا کتاب کالم
- قصّہ کلکتہ میں گذاری ایک مایوس رات کا : نصرت جاوید کا کالم
- ژوب: کوئٹہ سے پشاور جانے والی بس کھائی میں گر گئی، 40 افراد ہلاک

