اسلامی تاریخ کا تو علم نہیں، البتہ بکرمی چیت کی دس تاریخ تھی۔ فضا میں رومانس بھری خنکی چھائی ہوئی تھی۔ بادِ نوبہار کسی حسینہ کی زلفوں کی طرح لہراتی بل کھاتی ہوئی چل رہی تھی۔ ایسےسحر انگیز اور رومانوی ماحول کو دیکھتے ہوئے محمد دین موٹا (ولد تیلا پہلوان پتلا) بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔ اس نے منہ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا ۔ ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کسی ترسے ہوئے بھینسے کی طرح چنگھاڑتے ہوئے بولا
آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے
پتہ نہیں وہ شبھ گھڑی تھی یا اشبھ ۔کہ ابھی اس کے منہ سے حسرت بھری چنگاڑ نکلی ہی تھی کہ "کُن ” کا مرحلہ سیکنڈوں میں طے پا گیا۔ فلک کج رفتار نے شعر کے پہلے مصرے کو تو غالباً غیر شرعی سمجھتے ہوئے نظر انداز کر دیا۔جبھی تو اوپر سے نہ تو ابر برسا، نہ کوئی قطرہ مہ ٹپکا اور نہ ہی کہیں جام چھلکا۔ البتہ بمطابق دوسرامصرعہ، فوری عذاب کی شکل میں ماں کی کڑکتی ہوئی آواز، اور اس کے ساتھ چالیس نمبر کے موٹے سول والی چمڑے کی گرگابی (جوتا) ضرور نازل کر دی۔ جو کہ ہوا میں اڑتی ہوئی سیدھےہی اس کے سرپر آ لینڈ ہوئی ۔ موٹے سول والا جوتا لگتے ہی اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے نیلے پیلے ستاروں کا رقص ایکسپرینس کیا۔ ابھی وہ پہلی پٹائی سے سنبھل بھی نہ پایا تھا کہ اسی گرگابی کا دوسرا جوڑا بھی ہواؤں کا رخ چیرتا ہوا آن پہنچا، جو کہ سیدھا اس کی ‘نشست گاہ’ بلکہ یوں کہیے کہ ‘گاہ بگاہ’ کے عین مرکز پر لینڈ کر گیا۔
ماں کا نشانہ اتنا ٹچ تھا کہ بےچارہ محمد دین موٹا درد سے دوہرا ہو گیا۔اس نے آلہ ضربات کی طرف دیکھتے ہوئےپہلے تو بین ڈالا ۔پھر بیک وقت دونوں مضروب جگہوں پر ایک ایک ہاتھ رکھ کر سہلانا شروع ہو گیا۔ درد کو جھیلتے ہوئے اس کے چہرے پر ایک صابرانہ سی مسکراہٹ ابھری اور اس نے دل ہی دل میں رب کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا۔ شکر ہے مالکا کہ تو نے میری ماں کو صرف دو ہی پاؤں دیئے ہیں۔اس کے برعکس اگر یہ انسان کی جگہ مکڑی ہوتی تو پھر دو کی جگہ آٹھ جوتے پڑنے تھےتب میرا کیا بننا تھا کالیہ؟۔
اچانک حملے نے ابھی محمد دین( موٹے)کے دماغ کا دہی اور تشریف کا کباڑہ کیا ہی تھا کہ گھر کے اندر سے ایک ایسی گھڑگھڑاہٹ ابھری جیسے کسی کھٹارا ٹرک کا ڈیزل انجن سٹارٹ ہو رہا ہو۔ یہ ہولناک آواز تیلا پہلوان کی تھی۔ جو کہ اتفاق سے اس کا ابا بھی تھا۔ جس کے نحیف و نزار جثے کو دیکھ کر اکثر محلے دار اس سے پوچھا کرتے تھے کہ محمد دین نے ایسا "شاہکار” ابا کہاں سے لبھا تھا؟چنانچہ اس گھن گرج کو سنتے ہی محمد دین موٹا ایک دم سے چوکنا ہو گیا۔ کیونکہ وہ اچھے سے جانتا تھا کہ اگر ماں کا جوتا مٹی کا ایک ڈھیلا تھاتو ابے کا تھپڑ وہ ‘ایٹم بم’ ثابت ہوگا جس میں وہ تمام تر غیظ و غضب اور دبی ہوئی طاقت صرف کر دی جائے گی جو ابا حضور اپنی زوجہ محترمہ پر نکالنے سے قاصر تھے۔ ادھر اندرونِ خانہ ‘لیڈیز فرسٹ’ کا مرحلہ طے پا چکا تھا اور اب ابا میاں اپنی باری کے لیے پر تول رہے تھے۔ خطرے کا ادراک کرتے ہی محمد دین موٹے نے مزید کسی مادری یا پدری عذاب سے بچنے کے لیے کمالِ سرعت سے یوٹرن لیا۔ کھونٹے سے بندھی بھینس کا رسا پکڑا اور ‘بکری چرانے’ کے بہانے باہر نکل بھاگا۔
خواتین و حضرات! کالم کے اس موڑ پر ( یہ سوچ کر) یقیناً آپ کا سر کھجانا بنتا ہے کہ بندہ تو کھونٹے سے بندھی بھینس کھول کر نکلا تھا۔ پھر یہ اچانک بکری کہاں سے برآمد ہو گئی؟ تو صاحبو! گزارش ہے کہ آج کل اچھی بھلی، ہٹی کٹی بھینس بھی مہنگائی کے ہاتھوں پچک کر بکری معلوم ہوتی ہے۔ ویسے بھی یہ دنیا ہے پیارے! یہاں ہم نے اچھے اچھے ‘سانڈ نما’ سورماؤں کو حالات کے آگے بھیگی بلی بنتے دیکھا ہے۔مثلاً ہمارے محلے کے ملاہدہد کو ہی لے لیجئے۔آپ کسی دور میں اچھے خاصے ، ہٹے کٹے کسرتی بلکہ بکثرتی جوان ہوا کرتے تھے۔ مگر آج کل ممیاتے ہوئے میمنا بنے پھرتے ہیں۔ سبب پوچھو تو سگریٹ کا ایک لمبا لیکن اداس کش لیتے ہیں پھر دھوئیں کے چھلے بناتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ میاں! اس کائنات میں سانڈ سے میمنا بننے کے صرف دو ہی نسخے ہیں۔ پہلا یہ کہ بندے کی شادی ہو جائے۔ اور دوسرا یہ کہ بندہ پاکستان میں رہے اور اس مہنگائی کے ساتھ جیئے ۔ قسمت دیکھو کہ مجھ پر یہ دونوں قیامتیں ایک ساتھ ہی ٹوٹی پڑی ہیں۔ ویسے آپس کی بات ہے۔ ملا سو فیصد سچ کہہ رہےہیں ۔۔۔ اس سلسلہ میں ہمارے جیسے کسی ماڑے اور "مظلوم” شاعر نے بھی کیا خوب فرما رکھا ہے کہ
ہم ہوئے، تم ہوئے کہ بھائی جلیل ہوئے۔۔۔ سبھی اس دورِ گرانی میں ذلیل ہوئے!
حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ کل ہی کا ذکر ہے۔ میں نے گلی کے نکڑ پر بیٹھے ایک خستہ حال کتے کو پچکارتے ہوئے کہا یار ٹامی! تم کچھ موٹے نہیں ہو گئے؟ تو آگے سے وہ غرا کر نہیں، بلکہ باقاعدہ کڑکڑا کر بولادماغ تو ٹھیک ہے تمہارا؟ آنکھیں ہیں یا بٹن؟ ذرا غور سے دیکھو، میں ٹامی کتا نہیں، تمہارا ہمسایہ ملا کھدبد ہوں! وہ تو سستے آٹے کا تھیلا لینے کے لیے کتے کا بھیس بدل رکھا ہے۔میں ملا کھدبد کی اس انوکھے معاشی حل اوربھیس بدلائی پر اب تک انگشت بددنداں ہوں۔ اور بڑے دکھی دل کے ساتھ سوچ رہا ہوں کہ اس ملک میں صرف محمد دین موٹےکی بھینس ہی پچک کر بکری نہیں بنی۔ بلکہ ہم سب عوام بھی حالات کے کھونٹے سے بندھے، ٹیکسوں کے ڈنڈے کھا کھا کر، ممیاتی ہوئی بکریاں بن چکے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ محمد دین کو تو صرف چالیس نمبر کی ایک گرگابی پڑی تھی۔ ہم پر تو ہر مہینے ہی بجلی کا بل ۔گیس کے بل وغیرہ کی شکل میں ‘جوتیوں کا پورا لنڈا بازار’ ہی سر پر نازل ہوتے ہوا محسوس ہوتا ہے۔ .اور ہم بھی محمد دین موٹے کی طرح چہرے پر صابرانہ سی مسکراہٹ سجاتےہیں۔ پھر دل ہی دل میں رب کا شکر ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تیرا شکر ہے ‘مالکا! کہ تو نے ہمیں صرف یوٹیلٹی بلز ہی دیئے ہیں۔اگر بجلی اور گیس کے علاوہ۔۔ ہوا اور دھوپ کا میٹر بھی لگ جاتا۔۔۔۔ تو پھر ہمارا کیا بننا تھا؟
فیس بک کمینٹ

