آمنہ مفتیکالملکھاری

آمنہ مفتی کا کالم۔۔ خدا تو غفور الرحیم ہے!

کووڈ 19 کی وبا دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں پھیل گئی۔ لاکھوں مصدقہ مریض، لاکھ سے اوپر اموات، اجتماعی قبریں اور اپنے اپنے گھروں میں دبکی بیٹھی دنیا، بالکل جیسے کسی پوسٹ ایپو کلپس فلم کے مناظر۔
کئی دہائیوں کے امن اور سکون کے بعد جو یہ آفت آئی ہے تو لوگ یقین نہیں کر پا رہے۔ اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا آپ کا کوئی جاننے والا اس مرض کا شکار ہوا ہے؟ کیا آپ نے کورونا کا کوئی مریض دیکھا ہے؟
ایسے میں مجھے کالج کے دنوں کا بارہا دہرایا ہوا لطیفہ یاد آجاتا ہے۔ ایک شخص نے ریل گاڑی کے سفر کے دوران دوسرے مسافر سے پوچھا کہ آپ کو بھوتوں پر یقین ہے؟
اس نے کہا کہ نہیں مجھے بھوتوں پر یقین نہیں ہے۔ سوال پوچھنے والے نے کہا کہ مجھے بھی نہیں ہے اور پھر بیٹھے بیٹھے غائب ہو گیا۔وبا کسی عفریت کی طرح، کسی بد دعا کی طرح نظر نہیں آتی مگر آپ کے چاروں طرف ہوتی ہے۔
انسان بہت سی بیماریوں کا علاج دریافت کر چکا ہے لیکن وائرس سے ہونے والی بیماریوں کا علاج صرف انسان کی ذاتی قوت مدافعت میں موجود ہے۔
ویکسین بھی قوت مدافعت ہی کو مہمیز کرنے کے لیے دی جاتی ہے۔ وائرس کی اس بے قابو فطرت کے باعث اس سے پھیلنے والی بیماریوں کے لیے بھی عجیب عجیب قیاس کیے جاتے رہے ہیں۔چیچک کی وبا کو کالی ماتا کا قہر سمجھا جاتا تھا۔ چیچک نکلنے کے لیے لفظ ہی فلاں کو ’ماتا‘ نکلی ہے، استعمال کیا جاتا تھا۔دنیا کی بڑی وبائیں جب بھی پھیلیں، اعتقادات، سیاست، معیشت اور انسانی سماج کو بدل کر ہی گئیں۔
اجتماعی مدافعت یا ’ہرڈ امیونٹی‘ کی طرح انسانوں کے رویے بھی وباؤں کی روک تھام کے لیے بہت ضروری ہوتے ہیں۔
چھوت چھات کا تصور، تانبے کے برتنوں کو مانجھ کر استعمال کرنا اور سمندر پار جانے اور آنے والوں کو چنڈال سمجھنا، شاید وبائی امراض ہی سے بچنے کے کچھ سماجی رویے تھے جو پختہ ہو گئے۔وضو کی عادت کے بارے میں بھی کئی ڈاکٹرز نے کہا کہ یہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کا ہی ایک طریقہ ہے۔ ناک منہ کو نقاب سے ڈھانپنا بھی جراثیم سے بچنے کا ایک طریقہ ٹھہرا۔مگر وبا ہمیشہ اجتماعات سے پھیلتی ہے۔ گڈ فرائیڈ ے گزرا، شب برات گزری، آج ایسٹر ہے اور رمضان آنے والا ہے۔دنیا بھر میں اجتماعی عبادت پر پابندی ہے۔ مذہبی اجتماع کورونا کے پھیلاؤ کا ایک اہم سبب بنے ہیں۔
چاہے وہ نئے برس کے استقبال کے لئے ووہان میں منعقد کی گئی ضیافت ہو، ایران کی زیارتیں ہوں، چرچ کے اجتماع ہوں، تبلیغی جماعت کے اجتماع اور سفر ہوں یا دیگر مذہبی اجتماعات۔وائرس مذہب کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ اسے ایک شخص سے دوسرے شخص میں جا کے خود کو زندہ رکھنا ہوتا ہے اور اپنی نسل بڑھانی ہوتی ہے۔ ہم بھی وائرس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔
ہاں اتنا ضرور جانتے ہیں کہ خدا ستار العیوب اور غفور الرحیم ہے۔ وہ اپنے بندوں کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ اسے اپنی سب مخلوقات عزیز ہیں۔ وہ اپنے حقوق تو معاف کر دے گا مگر حقوق العباد معاف نہیں کرتا۔
آج حقوق العباد کا تقاضا ہے کہ اجتماعی عبادات کی ضد کر کے انتظامیہ کے لیے، اپنے گھر والوں، محلے والوں اور دیگر شہریوں کے لیے مسائل میں اضافہ نہ کریں۔
کورونا وائرس افواہ نہیں، جھوٹ نہیں، یہ ایک وبائی مرض ہے اور اس سے بچنے کے لیے گھر بیٹھیے۔ گھر بیٹھ کر خدا کو یاد کیجیے وہ ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا اور شہ رگ سے بھی قریب ہے۔اسے پکاریے اور اسے صدق دل سے پکارنے کے لیے مسجد یا دیگر اجتماعی عبادت گاہوں میں جانے کی ضرورت نہیں۔
وبا کے ان دنوں میں جہاں بہت سے رویے تبدیل ہو رہے ہیں وہاں خدا کے نام پر فساد جوتنے سے بھی باز آ جائیے تو کیا ہی اچھا ہو گا۔ ہر جمعے انتظامیہ کے لیے ایک نئی آزمائش کھڑی کرنے کی بجائے اگر نماز گھر ہی میں ادا کر لی جائے تو کتنا بہتر ہو۔
خدا اگر مسجد جانے والوں ہی کی سنتا تو مچھلی کے پیٹ میں یونس کی پکار نہ سنتا۔ اجتماعی عبادت کی فضیلت اپنی جگہ لیکن کیا آپ کی تنہائی حضرت یونس کی تنہائی سے زیادہ بڑی ہے؟
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker