ّعاصمہ شیرازیکالملکھاری

دولے شاہ کے چوہے : عاصمہ شیرازی کا کالم

بچپن سے لے کر اب تک شاہ دولے کے ’چوہے‘ کہلائے جانے والے افراد میرے لیے قابل رحم بھی رہے ہیں اور قابل احترام بھی۔بچپن میں گاؤں کی گلیوں میں بھیک مانگنے کے لیے آنے والے ان مخصوص لوگوں سے مجھے خاص انسیت تھی۔ سبز چولا، گلے میں موجود بڑے بڑے منکڑے (پتھر) والے ہار، ایک خاص ہیئت کا سر اور پھر جب یہ مجہول مانگنے نکلتے تو حیدر حیدر کی صدائیں مجھے اپنی جانب کھینچتیں۔ جو موجود ہوتا بر توفیق میں ان کے حوالے کرتی، کبھی سر پر پیار لیتی اور کبھی دور سے ہاتھ جوڑ دیتی۔ہوش سنبھالا تو جستجو ہوئی کہ جانا جائے یہ مخصوص لوگ کہاں سے آتے ہیں اور ایسے کیوں ہوتے ہیں، پتہ چلا کہ گجرات میں ایک دربار ہے جہاں جن کی اولاد نہیں ہوتی وہ منت مانگتے ہیں اور مراد بر آنے پر اپنی پہلی اولاد لڑکا ہونے کی صورت وہاں چھوڑ آتے ہیں۔
وہاں سے جُڑی کئی کہانیاں ہیں مثلاً یہ کہ اُن کے سروں کو مخصوص شکل میں ڈھالنے کے لیے ان پر لوہے کے کنٹوپ چڑھا دیے جاتے ہیں جس سے ان کے دماغ آکسیجن کی کم دستیابی کے باعث چھوٹے رہ جاتے ہیں اور یہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں، مگر یہ دولے شاہ کے چوہے بےضرر بھی ہیں اور معصوم بھی، دُعا بھی دیتے ہیں اور شفا بھی۔سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہونے کے باوجود دولے شاہ کے ’چوہے‘ کسی کا بُرا نہیں چاہتے، لب پہ شکوہ نہیں دُعا رکھتے ہیں، سزا سہتے ہوئے بھی جزا رکھتے ہیں، مریض ہیں مگر دوا رکھتے ہیں، بے آواز ہیں پر صدا رکھتے ہیں۔
آج مجھے دولے شاہ کے چوہے ہر سو نظر آ رہے ہیں مگر وہ جن کے دماغوں کے ساتھ ساتھ اُن کے دل بھی چھوٹے کر دیے گئے ہیں۔ پچھلی چند دہائیوں میں ہمارے معاشرے میں ایسے چوہے پیدا کیے گئے ہیں جو تعلیم یافتہ ہیں مگر علم یافتہ نہیں۔ بہترین درسگاہوں سے فارغ التحصیل ہیں مگر اُن کے ذہن ایک مخصوص سوچ کے حامل ہیں۔ سوچ سکتے ہیں سوچتے نہیں، بول سکتے ہیں، بولتے نہیں؟ لکھ سکتے ہیں مگر۔۔۔۔۔ صحت مند ہیں مگر معذور،آگاہ ہیں مگر بےشعور۔
یہ کیسے ہوا؟ کیوں کر ہوا؟ کب ہوا؟ محسوس تب ہوا جب عقیدے کے نام پر فرقہ واریت، مذہب کے نام پر انتہاپسندی، ایمان کے نام پر نفاق، اسلام کے نام پر کفر کے فتوے، افکار کے نام پر نفرت اور اتحاد کے نام پر تقسیم سامنے دکھائی دینے لگی۔یہ سب ہوا نہیں کیا گیا ہے تاکہ حق حکمرانی قائم رہے اور اب تو احتساب کے نام پر الزام اور ثبوت کی جگہ اشتہار لگائے جاتے ہیں۔جن سروں پر چند دہائیاں پہلے کنٹوپ چڑھائے گئے تھے وہ سب دماغ تیار ہو چکے ہیں، بے آواز معاشرہ بنایا جا رہا ہے، غوں غاں کی آوازوں کو بولی اور ادھ کھلی آنکھوں سے دکھنے والے ہیولوں کو تصور کرنے کو ترغیب دی جا رہی ہے۔یقین مانیے سب بدل گیا ہے۔ اب شاہ دولے کے نہیں بلکہ مفادات کے چوہے ہر جگہ موجود ہیں۔ یہ مفادات کے چوہے قابل ہمدردی ہیں کیونکہ یہ بس ہونے کے باوجود بےبس ہیں۔

( بشکریہ : بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker