ّعاصمہ شیرازیکالملکھاری

عاصمہ شیرازی کا کالم: دو نہیں ایک پاکستان!

کٹہرے میں کھڑے طاقتور شخص سے پوچھ کر انصاف کرنا اُتنا ہی بُرا ہے جتنا جابر حکمران کی اجازت سے کلمۂ حق ادا کرنا۔ ترازو کے پلڑوں میں قانون کو تولنے کی نوبت آ جائے تو نظام کو اعتماد کی سند لینا ہی پڑتی ہے اور قانون کے اطلاق میں رنگ، نسل، مذہب، زبان اور عہدے آڑے آ جائیں تو ادارے برباد ہو جاتے ہیں۔حالات بدل رہے ہیں، عدالتیں سوال پوچھ رہی ہیں۔۔۔ غداری کیس میں جنرل مشرف پر عدالتیں آئین و قانون کی پاسداری کی خواہاں ہیں تو آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر عدالت قاعدے، قانون اور وجوہات پر سوال اُٹھا رہی ہے۔
ماضی میں عدالتوں کے دامن پر لگے داغ دُھلتے دُھلتے دُھلیں گے۔ وطن عزیز میں طاقت اور طاقت ور کا قانون ہمیشہ رائج رہا ہے۔۔۔
’طاقتور‘ وزرائے اعظم کے خلاف فیصلے تاریخ کا حصہ بنے اور تاریخ میں عدالتی قتل نے قانون کی کتابوں میں نئے باب کا آغاز کیا۔ محض خط نہ لکھنے کی غلطی نے “طاقتور” وزیراعظم کو گھر کی راہ دکھائی۔ بدعنوانی کے عنوان سے مضمون میں اقامے کی سطریں نااہلی کی بنیاد بنیں۔۔۔
نظریہ ضرورت کی دلیل نے عدالتوں کے ’شاندار ماضی‘ پر داغ چھوڑے تو انصاف طاقتوروں کی دہلیز پر کھڑا حق مانگتا رہا، ترازو برابری کی تلاش میں کئی بار جھکے، آئین کی مقدس کتاب کو اکثر اپنے صفحے طاقتور کی تحریر سے سیاہ کرنا پڑے اور تاریخ کی عدالت میں کھڑا سچ چیخ چیخ کر مستعار لی روشنائی کے خلاف گواہی دیتا رہا مگر طاقت کے زعم کو زوال نہ ملا۔عدالتی نظیریں قائم کرنے والے قلم ’طاقتور‘ کے فیصلے کے احترام میں ہی ٹوٹتے رہے۔ جنرل ایوب کی آمریت کا جواز معاشی اعشاریوں کی صورت دفن اور جنرل یحیی کی ناکامیوں کو اقتدار کی خاطر لڑنے والے سیاست دانوں کے سر تھوپ دیا گیا، نہ عدالتیں بولیں نہ ہی عوام۔۔۔
اقتدار کی بھول بھولیوں میں گم ہو جانے والوں اور آئندہ سب ٹھیک کر لینے کے زعم میں مبتلا سیاست دانوں نے ملک دو نیم کر لینے کا الزام بھی نہ چاہتے ہوئے اپنے سر لیا۔ اقتدار کی غلام گردشوں میں “اختیار” کی سیڑھیاں چڑھنے والوں نے ہر موقعے کو موقع دینے کی کوشش کی یوں آئین پامال ہوتا رہا اور طاقت کا سر چشمہ عوام بننے کی بجائے خواص بنتے رہے، فیصلے بند فصیلوں میں ہوتے رہے اور نظام کو ایک آمریت سے دوسری آمریت کے بیچ بس سانس لینے کاموقع ہی ملتا رہا۔ جنرل ضیاء الحق کے طویل ترین مارشل لا اور نتیجے میں ملک میں لگنے والی فرقہ واریت، علاقائی تنازعات، بدامنی، صوبائیت اور نفرت کی آگ کی ذمہ داری دس سال جدوجہد کرنے والی سیاسی جماعت نے یہ کہہ کر درگزر کر دی کہ ملک کی سالمیت اور بقا اسی میں ہے کہ خاموش رہا جائے۔ سنہ 1973 کے آئین کو تحفظ دینے والا آرٹیکل چھ محض ایک شق بن کر رہ گیا جسے بعد میں جمہوریت کے لیے تحفظ کی بجائے ’خطرہ‘ بنا دیا گیا۔جنرل مشرف کی طاقت کا اظہار آئین کی ایک بار نہیں دو بار پامالی کی صورت ہوا۔ اب سیاسی بلوغت کو پہنچنے والی جماعتوں کو اس حد تک احساس ہو چکا تھا کہ وقت کے کٹہرے میں بار بار مصلحت جرم بنتی جا رہی ہے۔ ذاتی عناد کا الزام ہی سہی لیکن نواز شریف کی دو تہائی اکثریت والی حکومت نے آمریت کو عدالت میں چیلنج کرنے کی ہمت کر ڈالی۔
انصاف کی بنیادوں پر ایستادہ نظام کی عمارت کا امتحان کچھ ایسے ہوا کہ عدالتوں کے راستے میں طاقتور ادارے جمہوریت اور سویلین بالادستی کا مذاق اُڑانے لگے۔ تیسری بار بننے والے ’طاقتور‘ وزیراعظم کو حکومت چلانے کی باریکیاں سمجھ میں آ گئیں اور ایک بار پھر نظام سے مشروط انصاف پر مصلحت اختیار کر لی گئی۔ |طاقتور‘ ٹیلی ویژن اسکرین پر بیٹھا اداروں کے انصاف اور عدالتوں پر اثر انداز ہونے کی شہادتیں دیتا رہا اور سیاسی جماعتیں با جماعت نظام بچ جانے پر تالیاں پیٹتی رہیں۔ ستم ظریفی تو دیکھئے چند دن پہلے تک جنرل مشرف کو این آر او کا الزام دینے والے وزیراعظم نے محض چار دن کے اندر ہی حکومت کو جنرل مشرف کے خلاف فیصلے سے روکنے کے لئے نظام کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ اب کی بار مصلحت کیا حکومت کے بجائے عدالت کے لیے آڑے آئے گی؟انصاف کے سامنے آنے والی مصلحتیں سیاست دانوں، سیاسی جماعتوں، عدالتوں، آئین کی کتابوں، انصاف کے تقاضوں، قانون کے قاعدوں اور اصل، نقل حکمرانوں سب کے لئے چیلنج بن چکی ہے۔ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کا خواب اگر پورا ہو چکا ہے، ترازو استقامت پا چکا ہے اور قانون خود کو پلڑوں میں تولنے کو تیار کھڑا ہے تو دیکھنا ہے کہ جیت انصاف کی ہوتی ہے یا نہیں۔۔۔
وقت آ گیا ہے کہ دو نہیں ایک پاکستان کے خواب کی تکمیل ہو۔

( بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker