تجزیےّعاصمہ شیرازیلکھاری

عاصمہ شیرازی کا کالم: طالبان تو اچھے ہوتے ہیں!

انگریزی جاسوسی فلموں کا ایک کمال ہے کہ اپنے ناظرین کی تفریح کے لیے ایسے ایسے موضوع ڈھونڈتے ہیں کہ دیکھنے والا سکرین سے جُڑا رہے۔
مثلاً جراسک پارک کی مشہور فلموں میں بچ جانے والے چھوٹے ڈائناسور اگلی فلموں کے مرکزی کردار بن جاتے ہیں۔ ڈراؤنی فلموں کا کردار ’چکی‘ ہر فلم کے انجام پر غائب ہو جاتا ہے، لمحہ بھر کو نگاہوں سے دور اور فلم کے مرکزی کردار کو بھی بچا لیتا ہے جبکہ سیکوئل میں پھر نئے روپ، نئی جگہ نظر آتا ہے۔ ہدایتکار بھی نہیں بدلتا اور مصنف بھی۔
گذشتہ ہفتے کے اختتام پر دوحہ میں دیکھے جانے والے تاریخی لمحوں میں جب گذشتہ چند دہائیوں کی سب سے اہم ڈیل پر دستخط ہو رہے تھے تو میری نگاہیں رائٹر، ڈائریکٹر اور کرداروں پر جمی تھیں۔ سب موجود تھے، نہیں تھے تو وہ جن کو گذشتہ دس برسوں سے اس امید پر رکھا گیا کہ ہم سب ٹھیک کر دیں گے بس آپ ہماری ایما پر چلتے رہیں۔
بڑی بڑی پگڑیاں پہنے طالبان احساس تفاخر سے اپنے بیانیے کی جیت کی داستان سُنا رہے تھے اور گذشتہ 18 برس سے دہشت گردی اور دہشت کے خلاف لڑنے والی عظیم طاقت اُس بیانیے کے سامنے سرنگوں تھی۔ مفادات اور طاقت کی اس جنگ میں جو سرزمین اور کردار استعمال ہوئے وہ سب انگشت بددنداں تھے۔
مجھے پنجابی کا جملہ رہ رہ کر یاد آ رہا تھا کہ ’مجاں ای مجاں دیاں پہنڑاں ہو ندیاں نیں‘۔ ایک طاقتور دوسرے سے بغل گیر تھا اور جو استعمال ہوئے وہ کابل میں بیٹھے فرید زکریا کے سامنے پھپھولے پھوڑ رہے تھے۔
عین اس اہم معاہدے سے چند گھنٹے بعد ہی افغان حکومت کے تحفظات سامنے آگئے اور پیر کی شب طالبان نے افغان فورسز کے خلاف حملے جاری رکھنے کا اعلان بھی کر دیا۔ اشرف غنی کی کمزور حکومت اُنھی خدشات کا اظہار کر رہی ہے جو پہلے امریکی افواج کی موجودگی میں کرتی تھی۔ افغان عوام دہشت کا شکار بھی رہے اور دہشت کے خلاف بھی لیکن ڈیزی کٹر پھینکنے والے کب سوچتے ہیں کہ ہزاروں میل دور بسنے والے یہ غریب افغان دل سے کیا چاہتے ہیں۔ دل کی کیا مجال، اس پورے کھیل میں نفرتوں کے بیج ہی بوئے گئے۔
نائن الیون کے بعد سے اب تک ہمارے سروں پر جنگ مسلط کرنے والے مستقل پرچار کرتے رہے کہ ہم نے بڑی محنت سے یہ جنگ تیار کر دی ہے لہٰذا اب آپ اسے سنبھالیں، سینچیں اور پھر امن امن کھیلیں۔ اس جنگ میں ہمارے لوگ بارود کی طرح استعمال ہوئے۔ ہمارے بچے معذور اور ہماری عورتیں در بدر ہوئیں۔ پھر ’ون فائن مارننگ‘ عظیم طاقت نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنی فوجیں اب یہاں نہیں رہنے دیں گے۔ یہ سوچے بنا کہ افغان قوم کا کیا ہو گا۔
سوویت یونین کے خلاف مجاہدین کو تخلیق کیا، پاکستان کو بھی استعمال کیا، پھر اُنھی مجاہدین کو دہشت گر د بنایا اب اُنھی دہشت گردوں کو امن کا سفیر کہا جا رہا ہے۔
جانے اگلے سیکوئل میں ان کا کردار کیا ہو گا مگر تب تک کے لیے اتنا ہی کہ ’طالبان تو اچھے ہوتے ہیں!‘
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker