سوشل میڈیا پر فی زمانہ چلنے والے پیغامات کی کئی اقسام ہیں۔
1. تصویری پیغامات : مثلاً السلام علیکم ، صبح بخیر، رمضان/ عید یا کسی موقعے کی مبارک۔ اور طرح طرح کی مزاحیہ تصاویر، کارٹونز وغیرہ۔
2. تحریری یا ٹیکسٹ والے پیغامات: مثلاً قرآن و حدیث، فرامین صحابہ و بزرگانِ دین اور ان کے واقعات، اشعار، اقوالِ زریں، لطائف، مریضوں کے لیے چندے کی گزارش، مختلف کاروباروں میں منافع، کسی بیمار یا ہسپتال کے لیے رقم صدقہ جاریہ ، مفت ادویات، کسی بچے کی گمشدگی وغیرہ کے پیغامات۔
3. کلپس یا ویڈیوز: اس قسم میں بھی طرح طرح کی ورائیٹی موجود ہے۔
4. مختلف اور مکس مسالے دار پیغامات: اس کیٹیگری میں طرح طرح طرح کے فارمیٹس مثلاً پی ڈی ایف، پاور پوائنٹ ورڈ ڈاکومینٹ، زپ وغیرہ جس کے اندر عجیب قسم کا لٹریچر، تصاویر یا مخرب الاخلاق باتیں ہوتی ہیں۔
5. کسی ویب سائٹ پر موجودخبر کا لنک، ویڈیو لنک، نوکری کی آفر، انعام کا لالچ،اکثر لنک وائرس یا ہیکنگ سائٹ کی طرف لے جاتے ہیں، وغیرہ وغیرہ
درج بالا مثالوں کے علاوہ بھی اور کئی صورتیں ہیں ان پیغامات کی کہ جنہوں نے اکثر سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو زچ کیا ہوا ہے۔
قرآن و حدیث اور ایسے تمام پیغامات جن کے ساتھ مستند حوالے موجود ہیں وہ تو درست ہیں بس موبائل فون کو نامناسب جگہ پر رکھنے سے آیات و حدیث کی بے حرمتی کا اندیشہ ہوتا ہے۔ یہاں بھی ایک بات جو گراں گزرتی ہے کہ قرآن و حدیث اور مختلف دعاؤں کی پی ڈی ایف فائل ہر شخص دوسروں کو بھیج تو رہا ہے مگر خود اسے کھول کر پڑھنے کی جسارت نہیں کرتا۔اب فائلز بے حساب جمع ہو گئی ہیں، ڈیلیٹ کرتے ہوئے بھی بندہ گھبراتا ہے۔
ایک ہی تصویر یا پیغام ہر کوئی ہر کسی کو یہ سوچ کر "فارورڈ” کر دیتا ہے کہ یہ پیغام سب سے پہلے اسے ملا اور وہی اسے پہلے فارورڈ کر رہا ہے۔ کئی پیغامات میں واسطے یا حوالے دے کر یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہوتی ہے کہ اگر یہ پیغام آگے نہ گیا تو خدانخواستہ کوئی قیامت ٹوٹ پڑے گی یا بندے کا ایمان جاتا رہے گا۔ رمضان کی اطلاع دینے پر جنت واجب، جمعے کی اطلاع پر بے بہا ثواب، یعنی اِن جہلائے سوشل میڈیا کے سامنے اصلی اعمال کی اہمیت ہی نہیں رہی۔ بنیادی عقائد کے ساتھ ایسا مذاق کیا جا رہا ہے کہ استغفراللہ۔
ایسا کام کوئی سادہ لوح، کم علم، کج فہم کرے تو بندہ اتنا تنگ نہیں آتا لیکن ایسا پیغام کسی انتہائی تعلیم یافتہ، اعلیٰ عہدیدار، لائق فائق قسم کے دوست یا عزیز کی طرف سے آئے تو بندہ اُس شخص کی عقل اور دوستی یا واقفیت پر ماتم کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا۔ ایسوں کو سمجھانا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ نہیں منہ دینے کے مترادف ہوتا ہے۔
گزشتہ ایک دو برس سے گنگا نگر تھانے میں موجود ایک گم شدہ بچے کی تصویر اور ٹیکسٹ گردش کرتا رہا۔ ہمارے پاکستانی "نام نہاد نیکوکاروں” نے دھڑا دھڑ اسے "شئیر” کیا، یہ دیکھے بغیر کی بچے کے ساتھ پولیس مین کی وردی ہندوستانی ہے اور یہ جانے بغیر کہ گنگا نگر پاکستان میں نہیں بلکہ ہندوستان میں ہے۔ ایسے ہی ایک کرنل امان اللہ یا اسد اللہ کی جانب سے گزارش ہر جگہ متعدد بار پہنچی کہ اُن صاحب کا بیٹا "تنبیر” کسی بیماری میں مبتلا ہے ۔ یہ پیغام بھی دو برس سے مختلف انداز سے آیا۔
اسی طرح ایک صاحب نےایک خطرناک بیماری کے بارے میں اورنگ آباد، انڈیا کی خبر گروپ میں گروپ ایڈمن کو مخاطب کر کے لگائی، اعتراض کیا گیا تو جواب آیا،” یہ صرف ایڈمن کے لیے ہے”، حالانکہ اس کی *خوشبو* پورے گروپ نے سونگھی۔ ایسا فضول مذاق اور اوپر سےناگواری کہ بڑوں کی توہین نہ کی جائے۔ یہ سمجھ نہیں آئی کہ بڑوں کو فضولیات شئیر کرنے کا حق کس نے دیا۔
ہیپاٹائٹس بی ، سی اور کئی خطرناک بیماریوں کا حوالہ دے کر نیچے مفت ادویات فراہم کرنے کے لیے فون نمبر پر رابطے اور پیغام کو اتنا شئیر کرنے کی گزارش کہ کسی کی جان بچ جائے۔اُن نمبروں پر فون کریں تو طرح طرح کے مطالبات کہ اپنا شناختی نمبر اور دو سو کا ایزی لوڈ بھیجیں تو آپ کے گھر متعلقہ دوائی ارسال کر دی جائے گی۔ (دوائی ہو گی تو آئے گی نا)۔ کسی کو خبر نہیں کہ یہ پیغام کس نے چلایا اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟بغیر دیکھے، بغیر جانے سستی نیکی کے چکر میں ٹھک ٹھک کر کے پیغام اپنے 8 یا 10 گروپس میں لگایا اور اپنے بہترین دوستوں کو بھی بھیج دیا۔ اب ایک بندہ ہر گروپ اور ہر رابطہ نمبر سے اوسطاً 40 سے 50 بار ایک ہی قسم کے پیغام سے نبرد آزما ہوتا ہے۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کےتحت کئی لوگوں کو خوشخبری دی گئی کہ اُن کا پچیس ہزار روپے کا انعام نکلا، لالچیوں نے رابطے کیے اور انعام کے لالچ میں ہزاروں روپے گنوادیے۔ ایک بار مجھے میرے چچا جان نے کراچی فون کیا کہ انہوں نے کوئی پراڈکٹ خریدی تھی، اس میں ان کی کار نکلی ہے۔ کمپنی نے کہا ہے کہ وہ کراچی سے کار وصول کرلیں۔ میں ان دنوں کراچی میں ہی تھا۔ پہلے تو انہیں سمجھایا کہ ایسا کچھ نہیں۔ مگر اُن کے زور دینے پر میں نے بتائے گئے پتے کی چھان بین کی تو معلوم ہوا کہ یہ سپر ہائی وے پر واقع سبزی منڈی کے باہر کے علاقے کا پتہ ہے جہاں اب تک کچھ آباد نہیں ہوا۔
کئی اسلام اور ملک دشمن عناصر غلط احادیث، متنازعہ مسلکی مباحث، شر انگیز سیاسی بیانات اور الٹے سیدھے اقوال چلانے میں پیش پیش رہتے ہیں، اور ایسی باتیں کہ جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا وہ صرف شغل میلے کے لیے فارورڈ کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔
گزشتہ برس ہمارے ایک توہم پرست قسم کے رفیقِ کار کی جانب سے گروپ میں ایک پیغام نشر ہوا جس میں توہین رسالت پر مبنی کسی فلم کی اشاعت روکنے کی کوشش کی گئی ہے اور ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر پکے مسلمان ہو تو اس پیغام کو اتنا شئیر کرو کہ وہ فلم یو ٹیوب سے اتر جائے۔
اب جس نے تو یہ فلم بنائی اس کا مقصد پورا کہ مفت میں بے عقل مسلمان اسے پھیلا دیں گے۔ اسی گروپ میں میں خود کئی بار گزارش بھی کر چکا ہوں کہ یہ ایسی فلم کی تشہیری مہم کا انداز ہے ایسی باتوں یا پیغامات کو فارورڈ نہ کرنے سے مسلمانی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مگر کیا کیجئیے، ایسوں کو روکیں تو وہ ایسی سنائیں گے کہ الامان ، الحفیظ۔
ایک پیغام میں دس برسوں سے پڑھ رہا ہوں ،جس میں ساری عمر کی قضا نمازوں کو ایک ہی جھٹکے میں ادا کرنے کا فارمولابتایا گیا ہے۔پیش کار سے حوالہ پوچھو تو آگے سے جواب آتا ہے کہ تم دین پر شک کرتے ہو؟
نثر اور اشعار کے معاملے میں جاہلوں نے علامہ اقبال ؒ، احمد فراز، واصف علی واصف، اشفاق احمد صاحبان کے اشعار و فرامین کے ساتھ جو کچھ کیا جا رہا ہے اس سے آپ سب واقف ہیں۔ میرا ایک ادیب دوست (یہ صاحب اردو ادب کی ایک ویب سائٹ بھی چلا رہے ہیں) اقبال چھابڑی والے کے بے وزن اور گھٹیا اشعار علامہ اقبال کے نام سے شئیر کرتا پایا گیا۔
نام نہاد مصلحینِ قوم یہاں بھی پیچھے نہیں رہے، ہسپتال میں پڑی کسی بوڑھی عورت کی تصویر کے ساتھ ایک دل فریب قسم کی کہانی لکھ کر اُس کی مدد کے لیے یا کسی ٹرسٹ یا ویلفئیر کلب کے نام پر اپنے فون اور اکاؤنٹ نمبر پر عطیات مانگنا شروع کر دیے ہیں۔
اللہ کے بندوں کی مدد کا جذبہ رکھنے والے سادہ مزاج جو کسی بستی میں جاکر کسی اصلی غریب تک رقم پہنچانے کا حوصلہ نہیں رکھتے وہ کم ہمتے لوگ انہیں رقمیں ارسال کر کے”انما اعمال بالنیات” کا ورد کرتے اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھتے ہیں۔ ایسے کم کوش ہی فرماتے ہیں کہ آج کل اصلی غریب کو ڈھونڈنا ناممکن ہے۔ حالانکہ اُن کے اِرد گِرد غربت کے گراف سے نیچے زندگی گزارنے والے موجود ہیں۔
ہتھیار، اوزار، نظام ہماری مدد کےلیے ایجاد و دریافت ہوتے ہیں نہ کہ زندگی مشکل کرنے کے لیے۔ سوشل میڈیاکا آنا بھی ہمارے لیے نعمت و زحمت دونوں ہی، بس ذرا استعمال پر منحصر ہے۔ربِ کائنات نے نشانیاں صرف عقل والوں کے لیے رکھی ہیں۔ اب اگر آپ عقل والے ہیں تو نشانیوں سے سمجھ جائیں گے بصورت دیر روزِ حشر آپ کو اپنے اعمال کی مد میں سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے فتور کا حساب بھی دینا ہوگا۔
فیس بک کمینٹ

