ادبڈاکٹر عباس برمانیلکھاریمزاح

کُودنا صاحب السمو کا نعلین سمیت تالاب میں : روزنامچہ 2 ڈاکٹر عباس برمانی

جناب نائب النائب وزیر الخارجی مختصر ناشتہ فرمانے اور تخلیے میں مزید مختصر گفتگو کے بعد قصرشاہی روانہ ہو گئے .
صاحب السمو نے ہیلی کاپٹر تیار کرنے کا حکم دیا ، پائلٹ اور گارڈ ہمہ وقت تیار اور مستعد رہتے ہیں ، ہیلی کاپٹر نے ہمیں ہوائی مستقر پہنچایا جہاں صاحب السمو کا ذاتی جیٹ تیار کھڑا تھا جس نے ساحلی شہر کی طرف اڑان بھری ، شہزادہ حضور نے بڑی سکرین پر ایک ہندوستانی اداکارہ کی کینیڈا میں بننے والی فلم کی فرمائش کی… آپ جہاز میں عموما ایسی ہی فلمیں دیکھنا پسند فرماتے ہیں .
ایک گھنٹے کی پرواز کے بعد جہاز ساحلی شہر کے شاہی مستقر پہ اترا وہاں ہیلی کاپٹر تیار کھڑا تھا جس نے ہمیں ایک بحری جہاز کے عرشے پر اتارا ، یہ حضور والا کا نیا ذاتی بحری جہاز تھا جو سات سو ملین ڈالر زرکثیر خرچ کر کے بنوایا گیا اور رات ہی یہاں لنگرانداز ہوا تھا .
اگرچہ اس سے پہلے آپ کا ارادہ زیادہ مہنگا جہاز بنوانے کا تھا لیکن مملکت میں اقتصادی بحران کے پیش نظر اس کے بجٹ میں پانچ ملین ڈالرز کی رضاکارانہ طور پر کٹوتی کی گئی .
عرشے پر محافظ دستے اور جہازیوں نے سلامی دی ، محافظ دستہ حال ہی میں پاکستان سے تربیت لے کر لوٹا تھا ، ان کی سلامی اچھی خاصی بازی گری تھی ، وہ مارچ کرتے وقت ٹانگیں اتنی اوپر اٹھاتے کہ پاوں سر کے برابر آ جاتے اور ایڑی اتنےزور سے فرش پر مارتے کہ بھونچال سا آ جاتا ، بعد میں معلوم ہوا کہ اس عمل میں تین جوانوں کے ٹخنے اتر گئے اور دو کی پنڈلیاں فریکچر ہو گئیں. حضور یہ سن کر بہت محظوظ ہوئے…
حضور کو جہاز کے مختلف حصوں کا معائنہ کرایا گیا ، جہاز کیا تھا تیرتا ہوا محل تھا ، جہازی سائز کی خواب گاہیں ، طعام گاہیں رقص گاہیں ورزش گاہیں سینما مسجد باغیچہ … آپ نے باغیچے کو خصوصا پسند فرمایا ، باغیچے سے متصل تیراکی کا بہت بڑا تالاب تھا جس میں یورپی جل پریاں تیر رہی تھیں ، یورپ کے مخصوص تیراکی کے لباس میں … جس میں لباس محض واہمہ ہی ہوتا ہے.. انہیں دیکھ کر صاحب السمو خود پر قابو نہ رکھ سکے اور تربوش عقال و نعلین سمیت تالاب میں کود گئے ، یہ سوچے بغیر کہ آپ تیراکی سے نابلد ہیں…… اور جاں بحق تسلیم ہونے سے بال بال بچے ، جل پریوں نے لائف گارڈز کے اترنے سے پہلے ہی انہیں باہر نکال لیا..کچھ دیر کے لئے انہیں جہاز کے ہسپتال میں زیر مشاہدہ رکھا گیا لیکن الحمدللہ آپ بالکل صحیح سلامت تھے ، اسی دوران میں ملٹری سکریٹری ایک بری خبر لے کر آیا ، اطلاع یہ تھی کہ بدمعاش یمنی ڈاکوؤں نے نجران کی چھاونی پہ راکٹ داغے جو ٹھیک نشانوں پہ لگے اور منجملہ دیگر نقصانات کے مملکت کے چار فوجی جوان شہید ہو گئے جن میں ایک شہزادہ معظم کا دودھ شریک بھائی بھی تھا ، آپ نے اس پر شدید غم و غصے کا اظہار فرمایا ، فرمایا کہ یہ یمنی انتہائی وحشی اور درندے ہیں انسانوں کو بلیوں کتوں کی طرح مارتے ہیں اور کسی بین الاقوامی ضابطے کو خاطر میں نہیں لاتے ، ہم ان کے شہروں پر بمباری کر رہے ہیں تو وہ اپنی حدود میں ہی رہ کر لڑیں یہ کہاں کی شرافت اور مردانگی ہے کہ سرحد عبور کر کے ہماری چھاونیوں پر راکٹ باری کرتے ہیں… وزیر دفاع سے رابطہ کر کے فرمایا کہ جلالت الملک کو مشورہ دیں کہ وہ پاکستان یا اسرائیل سے ایٹم بم خرید کر یمن کے شہروں پر پھینکنے کے بارے میں غور فرمائیں ، نائب النائب وزیر الخارجی ریاستہائے متحدہ سے ہاٹ لائن پر رابطہ کر کے ان سے فرمایا کہ وہ اپنے صدر کو ایران پر ایٹمی حملے کا مشورہ دیں لیکن دوسری طرف سے جانے کیا کہا گیا کہ آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا، غیظ و غضب کے آثار نمودار ہوئے اور آپ نے فون زور سے پٹخ دیا …واضح رہے کہ فون خالص سونے کا ہے اور اس میں ہیرے جڑے ہوئے ہیں.

(جاری ہے).

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker