کالملکھاری

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا کالم : اسقاط حمل میں عورت پر کیا گزرتی ہے ؟

حمل اور اسقاط! ہمارے لئے یہ الفاظ انتہائی کرب آمیز، بوسیدہ اور کریہہ ہیں جن کے عقب سے موت دانت نکوسے ہنستی اور قہقہے لگاتی ہے، اکیسویں صدی کی عورت کی بے چارگی پر جس کے لئے کچھ نہیں بدلا،حتیٰ کہ موت بھی!
کیسے لکھیں ان نیم مردہ عورتوں کا احوال جو اسقاطِ حمل کی پیچیدگیوں کا شکار ہو کے ہسپتال پہنچتیں… ٹوٹے پھوٹے سٹریچر پہ میلی چادر کے نیچے لاغر جسم، موت کی زردی اوڑھے چہرہ، برفیلی پتلیاں، دم توڑتی سانسیں، تیزی سے خارج ہوتا خون… اور یہ شادی شدہ خواتین ہوتیں۔ غیر شادی شدہ تو ہسپتال پہنچنے کی ہمت ہی نہ کرتیں۔ تھانہ، کچہری، معاشرہ، مذہب اور لعن طعن سو بہتر تھا کہ موت کو ہی گلے لگا لیا جائے۔
ان نیم مردہ خواتین میں دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو منہا کر دیجیے کہ فاصلے اور وسائل کی کمی ہسپتال پہنچانے کی راہ میں آہنی دیوار بن جاتی ہے اور زیادہ تر عورتیں پاؤں رگڑ رگڑ کے گھر کی دہلیز پہ ہی دم توڑ دیتیں ہیں۔ وہ جس گمنامی اور غربت میں جنم لیتی ہیں، اسی میں چپ چاپ رخصت ہو جاتی ہیں۔ کہانی اگر سچی ہو تو اس کے لفظ لفظ نہیں رہتے ایسے نوکیلے تیر بن جاتے ہیں جو کہانی سنانے والے کا جگر چیر کے رکھ دیتے ہیں۔
” شادی کے آٹھ برس اور پانچ بچے! سوچو چھوٹی تو صرف آٹھ ماہ کی ہے۔ میرے میں ایک اور حمل سہنے کی سکت نہیں، خدارا کچھ حل سوچو” اس اٹھائیس برس کی عورت نے گھگھیاتے ہوئے شوہر کے سامنے دونوں ہاتھ باندھ دئیے۔
اونچے سنگھاسن پر براجمان مجازی خدا یہ درخواست ماننے سے انکاری کہ محلے کی مسجد کا مولوی اسے خلاف شرع سمجھتا ہے۔ سو وہی ہوا جو ہونا چاہئے تھا، چھٹا حمل!
چھوٹے چھوٹے بچے، غذائی کمی سے پیدا ہونے والی نقاہت اور غربت نے اس کم نصیب کو مجبور کر دیا کہ وہ گھر گھر پھرنے والی دائی سے مدد لے۔ “او جی گل ای کوئی نئیں، کجھ دیر وچ ای فارغ کرا دواں گی” (فکر نہ کریں، تھوڑی دیر میں ہی فراغت دلا دوں گی)
دائی آنے والی فیس کے نشے میں جھوم اٹھی۔ فراغت تو ہو گئ لیکن حمل سے نہیں، زندگی سے۔دھاتی ہتھیاروں سے کھیلنے والی خون کے خروج پہ بند نہ باندھ سکی، بازی ہاتھ سے نکلتے دیکھی تو پانچ بچوں کی ماں کو ہسپتال لے جانے کی بجائے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا کو چھوڑ کے نکل بھاگی۔ اور اس تاریک ہوتی شام میں سورج ڈھلنے کے ساتھ ساتھ وہ عورت قطرہ قطرہ پگھلتی گئی۔کیا روح فرسا تصور ہے کہ ایک عورت کسی مختصر تنگ و تاریک کمرے میں تنہا تڑپ تڑپ کے زندگی ہار کے موت کی تاریک گھاٹیوں میں گم ہو جائے۔شام ڈھلے شوہر گھر پہنچا تو اندھیرے کمرے میں ایک سرد جسم انتظار میں تھا۔ دس ماہ کی بچی مردہ جسم کی چھاتی سے چپکی اپنے پیٹ کی آگ بجھانے میں مصروف تھی۔
( شوہر موصوف نے کچھ عرصے بعد دوسری شادی کر لی اور پانچ بچے دوسری بیگم سے بھی پیدا کیے۔ پہلے پانچ بچے زمانے کی ٹھوکروں کا شکار ہو گئے کہ ماں مر جاۓ تو باپ بھی منہ پھیر لیا کرتے ہیں)
ان چاہے حمل سے چھٹکارا پانا غیر شادی شدہ ہی نہیں، شادی شدہ عورت کا بھی مسئلہ ہے۔ جہاں بھوک نے ڈیرے ڈال رکھے ہوں، عورت کی صحت دن بہ دن زوال پذیر ہو اور شوہر مانع حمل ادویات کا استعمال خلاف شرع جان کے کرنے نہ دے، وہاں عورت کے پاس اسقاط حمل کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں ریاستی سطح پہ مذہبی، اخلاقی اور معاشرتی اقدار کی رو سے حمل ساقط کروانے کی اجازت نہیں، سو کسی بھی سرکاری ہسپتال میں یہ سہولت موجود نہیں۔ یہ عمل قانونی طور پہ بھی قابل تعزیر سمجھا جاتا ہے سو کوئی بھی گائنالوجسٹ ایسا کیس لینے پہ راضی نہیں ہوتیں۔ جب ہر طرف سے دروازہ بند ہو تب چور دروازے سے ان لوگوں کی چاندی ہو جاتی ہے جو پیسے کمانے کے لالچ میں تربیت یافتہ نہ ہوتے ہوئے بھی یہ زندگی اور موت کا کھیل کھیلنے سے نہیں ہچکچاتے۔غیر تربیت یافتہ دائیاں اور لیڈی ہیلتھ وزیٹر بے شمار عورتوں کو بند گلی میں پا کے موت کے منہ میں دھکیلتی ہیں اور ان کے پاس اس صلیب پہ مصلوب ہونے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہوتا کہ زندگی کا امتحان ہر گزرتے دن کے ساتھ کھٹن سے کھٹن ہوا چلا جاتا ہے۔
چلیے آپ کو یہی بتا دیں کہ حمل آخر کیسے گرایا کیا جاتا ہے۔ خیال یہ کیا جاتا ہے کہ ابتدائی حمل محض خون اور گوشت کا جما ہوا لوتھڑا ہوتا ہے اور اس میں روح چوتھے مہینے میں پھونکی جاتی ہے۔حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انڈا اور سپرم جونہی آپس میں ملتے ہیں، بچہ بننے کا آغاز ہو جاتا ہے۔ سات سے دس دن کے اندر یہ جنین (Fetus) جونک کی طرح رحم کی دیوار سے چپک کر ماں سے اپنی خوراک خون کی شکل میں لینا شروع کر دیتا ہے۔ چار سے پانچ ہفتے پہ حرکت قلب الٹرا ساؤنڈ پہ دیکھی جا سکتی ہے۔ بارہ ہفتے کے حمل میں سر، آنکھیں، دھڑکتا دل، جسم، بازو اور ٹانگیں نہ صرف الٹرا ساؤنڈ بلکہ اسقاط ہونے کی صورت میں اگر جنین (Fetus) سالم حالت میں نکل آئے تو آنکھ سے دیکھی جا سکتی ہیں۔
حمل ساقط کروانا چاہے کسی بھی مہینے میں ہو، انتہائی پرخطر عمل ہے۔ رحم کے بند منہ کو کھولنا، دھاتی اوزار اندر داخل کرنا اور رحم کو چہار اطراف میں کھرچ کے نطفے کو باہر نکالنے کے عمل میں خون کا اخراج تو ہوتا ہی ہے لیکن بعض دفعہ دھاتی اوزار رحم کو چیرتا ہوا انتڑیوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اور دائی صاحبہ جان ہی نہیں پاتیں کہ رحم سے نکلنے والے ٹکڑے نطفے کے ہیں یا انتڑیوں کے کیونکہ اس کے نزدیک دونوں گوشت کے لوتھڑے ہی تو ہیں۔ جسم میں موجود خون کی کل مقدار چار سے پانچ لیٹر میں سے اگر آدھا یعنی دو لیٹر بہہ جائے تو زندگی کے دیے کی لو بجھنی شروع ہو جاتی ہے، سوچیے محض دو لیٹر خون جیسے پیپسی کولا کی بڑی بوتل!
ایک دفعہ ایک ایسی مریضہ ایمرجنسی میں لائی گئی جس کی انتڑیاں رحم اور اندام نہانی سے ہوتے ہوئے کسی رسی کی طرح جسم سے باہر جھول رہی تھیں۔ اس بنت حوا کو بچی کھچی زندگی کیسے لوٹائی گئی یہ ایک ایسی دلخراش کہانی ہے جس سے زندگی کے اس سفر میں بار بار پالا پڑا۔بات چل ہی نکلی ہے تو ان نادانوں کی بھی کیے لیتے ہیں جو اس آزمائش میں کچھ لمحات کی لغزش کے نتیجے میں آن پھنستے ہیں۔ کچھ لمحات کی محبت، رسوائی کا خوف، ان چاہی روح کو روکنے کی کوشش، غیر تربیت یافتہ دائی، خون کا ضیاع اور بد صورت موت!
گناہ کہیے، غیر قانونی یا اخلاقیات کی خلاف ورزی لیکن ہم تو ایک ہی بات سمجھے کہ خراج عورت کو دینا پڑتا ہے۔محبت مرد و عورت دونوں نے کی، قانون دونوں نے توڑا، اخلاقی سرحد دونوں نے پار کی، مذہب کی پاسداری دونوں نے نہیں کی، غلطی دونوں نے کی…..جو بھی ہوا، ہوا لیکن ہم تو یہ جانتے ہیں کہ موت کو ہمیشہ عورت نے گلے سے لگایا۔
مخلوط تعلیم….یونیورسٹیاں…گناہ ہوا… سزا ملنی چاہیے تھی… اچھا ہوا خود ہی مر گئ…. ہزار منہ اور ہزار باتیں!ہمارا ایک ہی سوال ہے کیا مریم کو اس بے بسی اور بے چارگی کی موت مرنا چاہیئے تھا؟ایسا معاشرہ جہاں بند دروازوں کے پیچھے نہ جانے کیا کچھ ہوتا ہے، کون یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس کے دامن پہ کوئی چھینٹے نہیں!

بشکریہ : ہم سب ۔۔ لاہور )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker