جہان نسواں / فنون لطیفہ

امریکی سپریم کورٹ نے خواتین کا اسقاط حمل کا حق ختم کر دیا

واشنگٹن :امریکہ کی سپریم کورٹ نے اسقاط حمل کے حق کو ختم کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے 50 سال قبل دیے گئے اپنے ہی ایک فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے جس میں اسقاط حمل کو قانونی عمل قرار دیا گیا تھا۔اس فیصلے کے بعد لاکھوں امریکی خواتین اسقاط حمل کے قانونی حق سے محروم ہو جائیں گی۔
یاد رہے کہ چند روز قبل ایک عدالتی دستاویز لیک ہوئی تھی جس سے یہ اشارہ ملتا تھا کہ عدالت اپنے فیصلے میں اسقاط حمل کو غیر قانونی قرار دینے کی حمایت کرے گی۔سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ امریکہ میں اسقاط حمل کے موجودہ قوانین کو تبدیل کر دے گا اور اب مختلف ریاستیں انفرادی سطح پر اسقاط حمل کے طریقہ کار پر پابندی لگانے کے قابل ہو جائیں گی۔
یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس فیصلے کے بعد 50 امریکی ریاستوں میں سے لگ بھگ نصف اسقاط حمل کے حوالے سے نئی پابندیاں متعارف کروائیں گی۔تیرہ ریاستیں پہلے ہی نام نہاد ’قوانین‘ پاس کر چکی ہیں جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اسقاط حمل کو غیر قانونی قرار دے دیں گے۔ غالب امکان ہے کہ بہت سی دوسری ریاستیں اس ضمن میں نئی پابندیاں تیزی سے عائد کریں گی۔
اسقاط حمل کی سہولت فراہم کرنے والی تنظیم ‘پلانڈ پیرنٹ ہڈ’ کی تحقیق کے مطابق مجموعی طور پر بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی تقریباً تین کروڑ 60 لاکھ خواتین کے لیے اسقاط حمل کے ذرائع تک رسائی منقطع ہونے کی توقع ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں ایک ایسا کیس زیر سماعت تھا جس میں ریاست میسسیپی میں 15 ہفتوں کے حمل کے بعد اسقاط حمل پر پابندی کے قانون کو چیلنج کیا گیا تھا۔
لیکن قدامت پسند اکثریتی عدالت نے نظریاتی خطوط پر چھ کے مقابلے میں تین ووٹوں سے ریاست کے حق میں فیصلہ دیا اور مؤثر طریقہ کار سے اسقاط حمل کے آئینی حق کو ختم کر دیا۔
فیصلے کے ایک حصے میں کہا گیا کہ ‘ہم سمجھتے ہیں کہ آئین اسقاط حمل کا حق نہیں دیتا ہے ۔۔۔ اور اسقاط حمل کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو واپس کیا جانا چاہیے۔‘
کیلیفورنیا، نیو میکسیکو اور مشیگن سمیت متعدد ریاستوں کے ڈیموکریٹک گورنرز پہلے ہی اس صورت میں اپنے اپنے ریاستی قوانین میں اسقاط حمل کے حقوق کو شامل کرنے کے منصوبوں کا اعلان کر چکے ہیں اگر سپریم کورٹ اس عمل کو غیرقانونی قرار دیتا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے جمعرات کو سات ڈیموکریٹک ریاستوں کے اٹارنی جنرلوں سے بھی یہ جاننے کے لیے ملاقات کی کہ اسقاط حمل کے حقوق کا دفاع کیسے کیا جائے۔
سنہ 1973 کے تاریخی ’رو بنام ویڈ‘ کیس میں سپریم کورٹ نے سات کے مقابلے میں دو ووٹوں سے یہ فیصلہ دیا تھا کہ عورت کو اسقاط حمل کا حق امریکی آئین کے تحت محفوظ ہے۔اس تاریخی فیصلے نے امریکی خواتین کو حمل کے پہلے تین مہینوں (سہ ماہی) میں اسقاط حمل کا مکمل حق دیا تھا، لیکن دوسری سہ ماہی (تین سے چھ ماہ کے حمل کے دوران) میں چند پابندیاں جبکہ تیسری سہ ماہی (حمل کے چھ سے نو ماہ کے دوران) اسقاط حمل پر پابندی تھی۔
سابق امریکی صدر براک اوباما نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے ٹویٹ کیا ہے کہ ’آج سپریم کورٹ نے ناصرف 50 برسوں پر محیط نظیر ختم کر دی بلکہ انھوں نے کسی کے بھی انتہائی ذاتی فیصلے کو سیاستدانوں کے مزاج کے تابع کر دیا ہے۔ (اس فیصلے نے) لاکھوں امریکی شہریوں کی آزادی پر حملہ کیا ہے۔‘
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker