یہ چند روز پہلے کی بات ہے(یہ مضمون لکھنے سے) کہ میں نے ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی کے بارے میں کچھ لکھنے کا ارادہ اس کے اور اپنے ایک مشترکہ دوست کے سامنے ظاہر کیا (جو باقاعدہ ادیب ہیں اور خاصے ذود نویس بھی ہیں)، تو وہ اسے یاد کرکے بہت اداس ہوئے اور آہ بھر کر کہنے لگے
"بہت اچھا ارادہ ہے ، یار ۔۔۔! مشہدی کتنا اچھا اور شریف آدمی تھا جی تو میرا بھی بہت چاہتا ہے ۔۔۔ لیکن اب اس قدر شریف آدمی کے بارے میں کوئی لکھے بھی تو کیا لکھے ایک آدھ صفحہ اور بس؛ تم نے ان کے ایک بہت ہی "قریبی استاد۔۔ (جن کے زور قلم کے آگے بڑے بڑے اپنی دستاریں سنبھالنے لگتے ہیں)” کا اس کے بارے میں آرٹیکل دیکھا ہی ہو گا چند سرسری سی باتیں مشہدی مرحوم کے بارے میں لکھیں ۔۔۔ اور پھر ادھر ادھر کی گپ شپ جس کا موضوع خود ان کی اپنی ہی ذات کے کارہائے نمایاں تھے۔۔۔ بالآخر خود فاروق کی چند تحریریں نقل کر کے رہ گئے۔۔۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ موصوف نے اپنی اس تحریر پر بعد از اشاعت دو تین بار نظر ثانی بھی فرمائی۔”
میں یہ بات سن کر ان صاحب کے منہ کی طرف بس دیکھتا ہی رہ گیا اگرچہ وہ یکسر غلط بات بھی نہیں کہہ رہے تھے۔۔۔۔ لیکن ان کا یہ انداز دیکھ کر اور ان کی یہ بات سن کر میرے اندر فاروق مشہدی کی یادوں کا ایک انبوہ کہرام مچانے لگا تھا، اور یہ سوال دل کی ایک چبھن بن گیا کہ آیا فاروق مشہدی کی شخصیت واقعی اس قدر یک رخی اور بے رنگ تھی کہ اس کے بارے میں لکھنے والوں کے قلم میں روانی آ ہی نہیں آسکتی؟ اس سوال کا جواب تلاش کر نے کےلئے مجھے خود اپنی یادوں کے ڈھیر کو پھرولنا تھا۔۔۔ اور میں عجب مخمصے میں تھا، فاروق مشہدی کی ناگہانی موت کے بعد میرے اندر ایک بے حس سکوت سا چھاگیا تھا کہ میں ا پنی شدید خواہش کے باوجود اس کے بارے میں صفحہ آدھ تو کیا چند سطریں تک نہیں لکھ پارہا تھا اس دوران میں عزیزم طارق مشہدی کا فون آیا انہوں نے خبر سنائی کہ وہ اپنے بڑے بھائی کی یاد میں ایک کتاب مرتب کررہے ہیں اور اس کے لئے انہیں میری ایک تحریر بھی چاہئے ۔۔۔ میں نے انہیں اپنی اس کیفیت کے بارے میں بتایا لیکن ان کا تقاضا جاری رہا اور انہوں نے کئی بار اس کی یاد دہانی بھی کروائی اسی عرصے میں خود فاروق کے بھائیوں خالد جاوید مشہدی اور محمد اسحاق مشہدی نسیم شاہد، ڈاکٹر شعیب عتیق اور کئی دیگر احباب کی تحریریں شائع ہوئیں تو دل و جاں میں ایک اضطراب سا پیدا ہوا لیکن خود کچھ لکھنے کی ہمت پھر بھی نہ پیدا ہوئی۔۔۔۔ لیکن آج اس دوست کی یہ بات بس دل میں بیٹھ گئی اور ذہن و قلم میں تھوڑی روانی آتی محسوس ہوئی اگرچہ ایک افسردگی آلود ہچکچاہٹ اب بھی باقی تھی اور اب یہ سطور لکھتے ہوئے بھی میں اس کیفیت سے باہر نہیں آ پایا لیکن ذکر یار تو لازم ٹھیرا۔۔۔!
احمد فاروق مشہدی سے میری ملاقات اس اتفاق کا نتیجہ تھی کہ اپنی مخصوص ملتانی "مونجھ” اور کاہلی کے باعث اورینٹل کالج لاہور کے شعبہ اردو میں داخلہ ملنے کے باوجود میں نے اس وقت کی نومولود(1975) ملتان یونیورسٹی میں داخلہ لینے کو ترجیح دی جس کی نہ اس وقت اپنی کوئی عمارت تھی نہ شناخت اور نہ مجھ ایسے دیہاتی طالب علموں کے رہنے کیلئے کوئی ہوسٹل تھا۔ گلگشت ماڈل سکول کی عمارت عارضی طور پر تدریسی شعبوں کے لئے لی گئی تھی (یہ گلگشت اور کھوتا تحصیل چوک کے لگ بھگ درمیان کا علاقہ ہے جہاں یونیورسٹی کا پہلا کیمپس تھا ۔۔۔ محلہ عثمان آباد کے باہر بوسن روڈ پر ایک چوک سا بنتا ہے جسے نا معلوم کیوں تحصیل چوک کہتے تھے شاید کبھی یہاں تحصیل کا کوئی دفتر رہا ہوگا، اس چوک پر اس دور میں بڑی تعداد میں گدھے (ملتانی زبان میں کھوتے) بندھے ہوتے تھے، ہم اپنے ہوسٹل سے یونیورسٹی آتے جاتے ہوئے اس چوک سے گزرتے کسی نے مذاقا کہا یہاں کھوتوں (گدھوں) کی تحصیل ہے۔۔۔ پھر ہم اسے "کھوتا تحصیل چوک ” کہنےلگے اور اس چوک کا یہ نام مقبول عام ہوا۔۔۔ فاروق مشہدی کو اس چوک کا یہ نام بہت پسند آیا وہ اسے دہرا کر خوب ہنسا کرتا ہم اس بات پر بھی ہنستے کہ ملتان یونیورسٹی اور یہاں قرب و جوار میں موجود دیگر تعلیمی اداروں کے طلبا اس بابرکت چوک کے چکر لگائے بغیر گریجویٹ نہیں ہوسکتے ) گلگشت ماڈل سکول کی اس عمارت میں یونیورسٹی کے لگ بھگ آٹھ شعبے شروع کئے گئے تھے جن میں اردو شعبہ بھی شامل تھا جو تین چار دیگر شعبوں کے ساتھ گورنمنٹ کالج ملتان سے یونیورسٹی میں لایا گیا تھا اس لئے اسے پروفیسر افتخار حسین شاہ پروفیسر اے بی اشرف ڈاکٹر منہاج الدین اور ڈاکٹر عبدالرزاق جیسے تجربہ کار سینئر اساتذہ ورثے میں مل گئے تھے یہ لوگ یونیورسٹی کے ابتدائی چند برسوں میں ڈیپوٹیشن پر اردو شعبہ سے وابستہ رہے بعد میں ان میں سے صرف اشرف صاحب نے ہی یونیورسٹی سروس میں رہنا اختیار کیا اور باقی سب یکے بعد دیگرے واپس مختلف کالجوں میں چلے گئے۔ ہماری کلاسیں شروع ہوتے ہوتے انوار احمد نجیب جمال اور کچھ عرصے بعد محترمہ قیصرہ خانم بھی بطور لیکچرر شعبے کا حصہ بن گئے ہماری کلاس کے فارغ التحصیل ہونے سے کچھ عرصہ پہلے عبدالروف شیخ جیسا باغ وبہار شخص بھی شعبے میں آ گیا جس سے جلد ہی ہماری دوستی ہو گئی ۔
1976کے اواخرمیں شروع ہونے والی ہماری کلاس میں کل سترہ لوگوں نے داخلہ لیا جن میں میرٹ پر فاروق کا نمبر شاید تیسرا تھا مرحومہ مسرت حفیظ نے بی اے کے امتحان میں پہلی پوزیشن لی تھی اور اپنی پسند سے ایم اے اردو کرنے کا انتخاب کیا تھا اس لئے میرٹ پر اس کا پہلا اور یاسین شاہد کا دوسرا نمبر تھا لیکن مہینہ ڈیڑھ بعد ہونے والے سمسٹر ٹیسٹ میں ہی فاروق شاہ(ریکارڈ میں اس کا نام احمد فاروق شاہ تھا مشہدی کا لاحقہ اس نے خاندانی حوالے سے غیر سرکاری طور پر لگا لیا تھا) نے سب پر اپنی برتری ثابت کردی وجہ اس کی یہ تھی کہ وہ نہ صرف پہلے ہی اردو ادب کا وسیع مطالعہ رکھتا تھا بلکہ اخبارات و رسائل میں لکھا اور چھپا بھی کرتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ افسانوی ادب کے پرچے کے پہلے ہی ٹیسٹ میں اے بی اشرف صاحب نے نہ صرف اس کے طرز تحریر کی کھل کر تعریف کی بلکہ اس کا پرچہ کلاس کے روبرو پڑھوایا بھی تاکہ باقیوں کو پتہ چل سکے کہ
اس طرح کہتے ہیں سخنور سہرا
ظاہر ہے اس سے ہم سب پر اس کا بہت رعب پڑا۔۔۔ خیر حسن اتفاق سے اس درویش کا بھی اچھی قسمت نے ساتھ دیا اور تنقید کے پرچے میں تکا لگ گیا اس پرچے کے پہلے ہی ٹیسٹ میں میرے سب سے زیادہ نمبر آ گئے اس پرچے کے استاد انوار احمد صاحب نے(جو شعبے میں بالکل نئے نئے استاد مقرر ہوکر آئے تھے لیکن ان کے بزرگی آمیز دوستانہ انداز نے ہمیں ان کا گرویدہ بنا لیا تھا) مجھے بھی افلاطون کے تصور نقل پر میرا جوابی پرچہ کلاس کے سامنے پڑھنے کو کہا یوں ہم بھی لوہو لگا کے شہیدوں میں مل گئے ۔۔۔ ہمارے شعبے میں ان دنوں یہ اچھی روایت تھی کہ ہمارے تمام اساتذہ ہماری حوصلہ افزائی میں بہت کھلے دل کا مظاہرہ کیا کرتے تھے اور ہر اچھی تحریر کلاس میں پڑھنے کو کہتے اس سے سبھی کو ایک دوسرے سے سیکھنے کا موقع ملتا اور مقابلے کی اچھی فضا بھی پیدا ہوتی اس سلسلے میں فاروق مشہدی اکثر وبیشتر سب سے آگے ہی رہتا لیکن اس کے دھیمےپن اور انکسار کے باعث شاید ہی کبھی کسی نے اس سے حسد کا کوئی کھلا اظہار کیا گیا ہو ۔
ہماری کلاس کے اکثر لڑکے ملتان شہر سے باہر کے رہنے والے تھے اس لئے ان کو رہائش کا مسئلہ درپیش تھا نئی یونیورسٹی، ہوسٹل ندارد لیکن جلد ہی یونیورسٹی انتظامیہ نے اس مقصد کیلئے اس وقت کے مذکورہ کیمپس کے قرب و جوار میں (گلگشت کالونی، پیر خورشید کالونی اور محلہ عثمان آباد) چند مکانات کرائے پر حاصل کئے تو اردو والوں کے حصے میں پیر خورشید کالونی کا 3 نمبر گھرآیا اور اس کے ایک کمرے میں احمد فاروق مشہدی، راو محمد تسنیم، محمد یاسین شاہد اور یہ درویش اکٹھے ڈھیر ہوگئے۔۔۔ اب سب کے مزاج یکسر الگ الگ، سونے جاگنے کے اوقات اور اناز الگ ۔۔۔ گزارہ ہو تو کیسے؟ چندے کشیدگی سی رہی جسے باہمی تکلف کہہ لیں تو بہتر ہے اور کئی روز سب ایک دوسرے کا لحاظ کرتے رہے آخر ایک روز راو تسنیم سے رہا نہیں گیا یونیورسٹی سے واپس آکر کچھ دیر حسب معمول کمرے میں خاموشی ہی تھی کہ اچانک راو صاحب نے اونچی آواز میں کہا "۔۔۔ ادھر سالی کوئی فوتگی ہو گئی ہے کیا ؟سبھی مونہہ لٹکائے بیٹھے ہو اب میں سالا( اور خود کو اپنی مادری زبان روہتکی/ ہریانی میں منہ بھر کر ایک ناقابل بیان گالی دی )۔۔۔ منے تو بد ہجمییں ہو جاوے گی سسری۔۔۔ ”
اس غیر متوقع حملے پر باقی سب ایک بار تو بھونچکے سے ہو اس کی طرف دیکھنے لگے کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کہے ۔۔۔ فاروق کے چہرے پر ناگواری سی ابھری یاسین بظاہر حسب عادت لاتعلق سا لگا لیکن پھر اچانک اپنے مخصوص سخت کھردرے پنجابی انداز اور لہجے میں بولا ” ناں تے ہن اسی تینوں جھولی چک کے لوری سناویں !”
راو نے بظاہر خود اپنے آپ کو ایک اور بھرپور ننگ دھڑنگ گالی دی اور مزید جھنجھلا کر کہا ” تو کیا ہم یہاں باہنڑ۔۔۔۔ آئے ہیں۔۔۔ تو یہاں بیٹھ کے ، بھڑوے بن کے ۔۔۔ روویں کیا !”
اس مکالمے سے میں تو کچھ محظوظ ہورہا تھا لیکن مہذب دھیمے مزاج کے حامل فاروق کے چہرے پر ناگواری اور بدمزگی کے واضح اثرات دکھائی دے رہے تھے اس کے منہ سے ہم نے بعد میں بھی کبھی کوئی ناشائستہ بات نہیں سنی۔۔۔ خیر راو تسنیم نے رقاں ہریانی میں اپنی بات جاری رکھی اور پھر تھوڑی چخ چخ کے بعد وہ جو ایک بیگانگی کی فضا کمرے میں چھائی رہتی تھی ہوا ہوگئی اور سب اپنی اپنی بولی بولنے لگے اور بعد میں ہمیشہ راو تسنیم کے کے شکرگزار رہے۔۔۔راو تسنیم ہمیشہ اپنی مادری زبان روہتکی/ہریانوی بولنے کو ترجیح دیتا، یاسین اپنے مخصوص لہجے میں پنجابی بولتا ، یہ درویش اپنی ملتانی سرائیکی میں بات کرتا اور فاروق اگرچہ خود پنجابی خاندان سے تھا لیکن ملتان کے ایک قریبی علاقے جہانیاں کے دیہات کا باسی تھا اور سرائیکی بھی روانی بولتا تھا اس لئے وہ میرے ساتھ ہمیشہ سرائیکی میں بات کرتا اس طرح ہمارے کمرے میں بیٹی مکالمے میں بیک وقت یہ تینوں زبانیں بولی جانے لگیں باہمی گفتگو میں ہر کوئی اپنی زبان بولتا اور یہ ایک معمول بن گیا کسی کو کوئی مسئلہ نہیں تھا اردو محض تکلفانہ ہی بولی جاتی ۔۔۔(یہ انداز باہمی گفتگو میں بعد میں بھی جاری رہا )
ہماری چھوٹی سی جماعت کی خاطر خواہ تعداد تو ہمارے کمرے میں سمٹ آئی تھی انور ضیا ہمارے کمرے میں مزید چارپائی کی گنجائیش نہ ہونے کے باعث ساتھ والے کمرے میں رہتا تھا۔۔۔ ہمارے دیگر ہم جماعتوں میں سے شعیب عتیق، جاوید محمود سہو، مقصود اور عبدالباقی (جو شہر ملتان کے مختلف حصوں میں رہتے تھے) بھی اکثر وبیشتر ادھر ہاسٹل ہی میں آجاتے ۔
سمسٹر نظام اس وقت نیا نیا شروع ہوا تھا اورابھی کسی کو اس سے نمٹنا آتا ہی نہ تھا غضب یہ ہوا کہ ہمارے اساتذہ کرام نے اس معاملے میں اپنی ناتجربہ کاری اور وسعت نظری و علمی کے باعٹ پہلے سمسٹر میں نو(9) پرچے شروع کروادئے دوسرے سمسٹر مین سات پرچے تھے ( بعد میں پالیسی کچھ بدلی اور ہر سمسٹر میں یہ تعداد زیادہ سے زیادہ 5 یا 4 کردی گئی) اس لئے شروع میں ہمیں لگ بھگ ہر مہینے نو پرچوں کا امتحان دینا پڑتا تھا علاوہ ازیں ہر پرچے کی تین تین اسائینمنٹیں اور ٹرم پیپر وغیرہ بھی لکھنے اور جمع کوانے تھے جو بے حد تھکا دینے والا کام تھا۔۔۔ طرہ یہ کہ ان دنوں ہمارے پاس متعلقہ کتابیں جمع کرنے اور نوٹس بنانے کا وقت ہی نہیں ہوتا تھا اس لئےاس مشکل میں سے نکل آنے کی ہمیں بس خود بخود ہی راہ سوجھ گئی اور ہم مل جل کر کام کرنے یا ٹیم ورک پر مجبور ہوگئے ۔ یونیورسٹی لائبیری بالکل نئی تھی اس لئے اس میں کتابوں کی تعداد بہت محدود تھی گورنمنٹ کالج بوسن روڈ لائبریری کے بھی ہم اعزازی ممبر تھے۔۔۔ اس لئے ہم میں سے مختلف لوگ ملتان کی دوچار اچھی پبلک لائبریوں کے ممبر بن گئے ۔۔۔ خود یہ درویش پبلک لائبریری باغ لانگے خان اور پبلک لائبریری قلعہ کہنہ قاسم باغ کا ممبر بنا۔۔۔ اب جس کو جہاں سے کوئی متعلقہ کتاب ملتی لے آتا پھر یہ کتابیں مختلف لوگوں میں (پرچہ وار) بانٹ دی جاتیں۔۔۔ بھر سب دیانتداری سے یہ کتابیں پڑھتے اور مل بیٹھتے اب ہر کوئی زیر مطالعہ موضوع کے بارے میں اپنے اپنے مطالعے کا ماحصل اہم نکات کی صورت میں پیش کرتا ان نکات پر بات چیت بھی ہوتی۔ فاروق کا خط بہت اچھا تھا (اور سچی بات ہے اسکا مطالعہ ہم سب میں بہتر تھا) اسلئے وہ یہ نکات بلیغ اشاروں کی صورت میں لکھتا جاتا جب سب اپنا اپنا حاصل مطالعہ پیش کر چکتے تو ایک بار پھر ہر نکتے پر بحث ہوتی غیر ضروری باتیں کاٹ دی جاتیں اور پھر متعلقہ موضوع پر ضروری نکات کو منطقی ترتیب دی جاتی ، فاروق ان نکات کو ایک صفحہ پر خوش خط کرکے لکھتا اس کے بعد ہر کوئی اس کی نقل کر لیتا اس طرح مل جل کر سب پرچوں کی تیاری ہوتی رہتی اس سے ہم جماعتوں میں دوستی کے رشتے بھی مضبوط تر ہوتے گئے جس کا احساس سب کو تھا
(اس عرصے میں ہم نے مل کر اتنا پڑھا اب جب بھی کوئی محترم استاد لیکچر دینے لگتے یا نوٹس لکھواتے، ہمیں لمحوں میں پتہ چل جاتا کہ موصوف نے کون کون سی کتب پڑھ رکھی ہیں اور کہاں کہاں کوئی اضافہ کر رہے ہیں اس لئے ہم چند لوگ تو نوٹس لکھتے ہی نہیں تھے ، فاروق کلاس میں ہمیشہ پہلی قطار میں بیٹھنے کا عادی تھا اس لئے مروت میں کچھ نہ کچھ لکھنے کا تاثر دیتا رہتا لیکن ایک روز یہ بھرم یوں کھلا کہ ہماری میڈم جو لیکچر دینے کی بجائے صرف نوٹس لکھوایا کرتی تھیں انہوں نے دیکھ لیا کہ یاسین شاہد منہ میں بال پن لئے بیٹھا ہے اور کچھ لکھ نہیں رہا انہوں نے سرزنش کے انداز میں کہا ” یاسین۔۔۔! تم لکھ کیوں نہیں رہے ہو؟”
یاسین نے اپنے مخصوص کرخت سے لہجے میں جواب دیا ” جی۔۔۔ بس میری مرضی !”
اس گستاخی پر میڈم بھنا کر رہ گئیں گئیں اور غصیلے انداز میں بولیں ” یہ غلط بات ہے باقی سب لکھ رہے ہیں اور تم مونہہ کھولے بیٹھے ہوئے ہو!”
یاسین نے عجیب غیر متوقع حرکت کی وہ اچانک اپنی نشست سے اٹھا اور اس نے فاروق کے اور میرے سامنے سے ہماری نوٹ بکس اٹھائیں اور جا کر میڈم کے سامنے رکھ دیں اور بولا ” یہ دیکھیں "یہ پڑھاکو” کیا لکھ رہے ہیں۔۔۔ چند لمحے رک کر وہ سپاٹ آواز میں بولا میڈم آپ جس کتاب سے نقل کرکے ہمیں لکھوا رہی ہیں وہ پہلے ہی ہم نے پڑھ رکھی ہے ہم وہیں سے نوٹ کرلیں گے آپ تسلی رکھیں !”
یہ اس اکل کھرے ان گھڑ شخص کی ایسی حرکت تھی جس کی توقع کوئی بھی نہیں کر رہا تھا ستم بالائے ستم یہ کہ موصوف نے اپنے نشست پر بیٹھتے ہوئے بڑے مستحکم انداز میں کہا "میڈم مہربانی فرماکر ہمیں آپ لیکچر دیا کریں اور ہر بات ہم سے ڈسکس کرکے ہمیں سمجھایا کریں!”
یاسین کی اس حرکت پر کلاس میں تو سناٹا سا چھا گیا ۔۔۔ فاروق اور یہ درویش اپنی جگہ پریشان بیٹھے تھے کہ ہماری خالی کاپیاں بطور گواہی روسٹرم پر دھری تھیں۔۔۔۔ چند لمحوں بعد میڈم صاحبہ پریشان سکوت کے عالم میں کلاس سے باہر چل دیں۔ ان کو اس طرح جاتا دیکھ کر پہلے میں اور میرے پیچھے پیچھے فاروق ان کو منانے کیلئے باہر کو چل دیئے اور لگے وضاحتیں پیش کرنے۔۔۔ لیکن میڈم بالکل خاموش رہیں۔۔۔ کچھ دیر بعد دھیمے سے بولیں ” دیکھیں نا کتنی غلط حرکت کی ۔۔۔ اس بد تمیز نے بھلا نوٹس لکھوانے میں کیا حرج ہے؟ اورینٹل کالج لاہور میں ہمارے کئی اساتذہ بھی ہمیں نوٹس لکھواتے تھے اس سے امتحان کی تیاری میں بہت فائیدہ ہوتا ہے۔۔۔ یہاں بھی یاسین کے علاوہ کسی کو کوئی اعتراض نہیں! ”
"ویسےمیڈم دوسروں کا بھی خیال تو یہی ہے ۔۔۔ بات تو یاسین ٹھیک کہتا ہے ” میرے منہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی نکل گیا فاروق نے گھور کر میری طرف دیکھا اور میں سٹپٹا گیا… اور ہڑبڑا کر کہا”۔۔۔ لیکن ۔۔۔لیکن ۔۔۔ میڈم ہم یاسین کو سمجھانے کی کوشش کرینگے آپ فکر نہ کریں سب ٹھیک ہو جائے گا ”
میری اس بے تکی وضاحت کے باوجود میڈم نے افسردہ سی نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا ” ویسے علمدار مجھے تم سے اس بات کی توقع نہ تھی ” ( جاری ہے )
فیس بک کمینٹ

