ادبڈاکٹر انوار احمدکالملکھاری

ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی،ایسا کہاں سے لائیں؟ ڈاکٹر انوار احمد کا مضمون ( نظر ثانی اور اضافوں کے ساتھ )

جب میں اوساکا یونیورسٹی میں تھا تو مجھے میرے رفیقِ کار یامانے نے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ جاپانی دُروں بیں ہیں اپنے شخصی اور نجی قسم کی معلومات کا تبادلہ کسی سے نہیں کرتے ۔اس لئے ’اُردو بول چال کا کورس پڑھاتے ہوئے ‘ ایسے سوال پوچھنے سے گریز کریں جن میں بچوں سے نجی یا خاندانی معلومات حاصل کئے جانے کا شائبہ ہو،تو میں لرز کے رہ گیا کیونکہ میری تو یادوں کی کُل کائنات شاگردوں سے متعلق معلومات کے گرد گھومتی ہیں جو زیادہ تر ،بہت سے بچوں نے ازخود مجھ سے یہ باتیں کی ہیں ،بعض نے تاکید سے کہا کہ یہ امانت ہیں ،بعض نے اصرار سے کہا کہ فلاں کم گو تک یہ بات پہنچا دینی ہے اور ایک آدھ نے کہا کہ صرف کبھی اللہ سے ملاقات ہو تو اُس تک ہمارا یہ شکوہ پہنچا دیجئے گا۔ ممکن ہے کبھی میں نے اپنے ابتدائی دور میں تجسس سے بھی کام لیا ہو وگرنہ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ بیشتر بچوں اور بچیوں نے مجھے اپنا بڑا اور دوست سمجھ کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کیا ،مجھے کریدنے کی ضرورت پیش نہیں آئی ۔اسی طرح میں اس بات سے واقف ہوں کہ اچھے طالب علموں کو استاد کی نظر سے گرانے کےلئے بہت ساری باتیں اُن سے منسوب کرکے وہ بھی بیان کررہے ہوتے ہیں جو اُن کی جگہ لینے کے خواہش مند ہوں۔
ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی ایسی ظاہر اور پوشیدہ صفات کا مالک تھا کہ میں پلٹ کر اپنے نصف صدی کے کیرئیر پر نگاہ ڈالتا ہوں تو اُس جیسا کوئی طالب علم مجھے نہیں ملا۔وہ لائق تھا ،تخلیقی ذہن رکھنے والا تھا ،شرمیلا تھا مگر وہ ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتا تھا جو دین دار تھا اور جو جماعت اسلامی سے بہت قربت رکھتاتھا،جبکہ جماعت سے وابستہ میرے استادوں میں بعض بے شک غیر معمولی لوگ بھی تھے اور وہ مجھ پر اپنی شفقت بھی ارزاں کرتے رہے لیکن میرے تعصبات کے مطابق شعروادب کی تفہیم اور تحسین میں بڑی رکاوٹ وہ صالحیت آسکتی ہے جس کی پرچارک یہ تنظیم رہی ہے۔
ملتان یونیورسٹی سے میں نومبر1976ءمیں وابستہ ہوا تھا ۔احمد فارو ق مشہدی سیمسٹر کی ہماری پہلی کلاس کا طالبعلم تھا ۔اس کلاس میں 17طالب علم تھے اور ان میں سے 8سے 10ایسے طالب علم تھے جن کے پرچے مجھے بار بار پڑھنے پڑتے تھے کیونکہ یہ میرا اپنا بھی امتحان تھا کہ میرا فکری میلان (تعصب؟)شاگردوں کے جوابات کی جانچ میں یا اُن کے کیرئیر میں رکاوٹ نہ بنے۔ فاروق کی کلاس میں مسرت حفیظ رولنمبر1تھی وہ بہت خوبصورت تھی اور بی اے میں پہلی پوزیشن پا کر بھی اُس نے ایم اے اُردو کرنے کا ارادہ کیا تھا ،فنون لاہور میں پروین شاکر پر اس کا مقالہ شائع ہوا تو وہ اپنے کلاس فیلوز بلکہ استادوں پر بھی سبقت لے گئی۔اسی کلاس میں شگفتہ حسین بھی تھی جو بعد میں ویمن یونیورسٹی ملتان کی پہلی اُردو کی پروفیسر بنیں اور پرووائس چانسلر بھی۔اسی کلاس میں جاوید محمود سہو(مرحوم) بھی تھا جس نے میرے سامنے اعتراف کیا تھا کہ آپ بی اے کا پوچھ رہے ہیں ایف اے کا امتحان بھی میں نے خود نہیں دیا تھا اور نہ ہمارے خاندان میں اس کا رواج ہے ۔ہم زمینداروں کے خاندان میں سے بہت سے لوگ ڈاکٹر اور انجینئر ہوئے ہیں مگر انہوں نے کبھی خود سے امتحان نہیں دیا۔ اسی کلاس میں مقصود احمد بھی تھا جو کسی ایک لمحے میں فلسفی ہوتا اور دوسرے لمحے میں اوسط درجے سے بھی کم تر صلاحیت کا ثابت ہوتا ۔ پہلے امتحان میں ہی فاروق مشہدی کا اسلوب ،خوشخطی ،جمالیاتی رچاﺅ اور اظہار کی پختگی میرے ذہن پر نقش ہوگئی اور جیسے جیسے وقت گزرا مجھے اپنی پرکھ پراعتماد بڑھتا گیا، مگر فاروق بہت شرمیلا اور دُروں بیں تھا تاہم وہ اپنے دور کے اہم ادیبوں سے خط وکتابت سے نہیں شرماتا تھا اور اُن کے جوابات استادوں کو دکھا کر اُنہیں مرعوب کرنے کی کوشش بھی نہیں کرتا تھا۔ بہرطور مجھے یہی یاد ہے کہ میرے کورس میں فاروق لگاتار اول آتارہا اور یہ اُس پر کوئی احسان نہیں تھا ۔ مجھے خود اُس کے جوابات میں شعر شناسی کے بارے میں گہرے فہم کا اندازہ ہوتا تھا۔اس کلاس میں چار سے پانچ طالب علموں میں مقابلہ سخت تھا مگرچار سیمسٹر کے اختتام پر وہ ہمارے شعبے کے مختلف الخیال استادوں کی نظر میں بہترین ٹھہرا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ ابھی بزنس ایڈمنسٹریشن کا شعبہ ہمارے پاس نہیں آیا تھا اور آرٹس یا ہیومنیٹیز کی فیکلٹی میں اول وہی ہوتا تھا جو شعبہ اُردو میں اول آتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اُس سے پہلے اسلم ادیب کو یہ اعزاز ملا اور یونیورسٹی کے قاعدے کے مطابق اُسے قائد اعظم سکالر شپ مل گیا جس پر وہ بیرون ملک جاکر پی ایچ ڈی کرسکتا تھا۔ وزارت تعلیم نے حسب ِ عادت یہ روڑے اٹکائے کہ اُردو کا طالب علم باہر سے پی ایچ ڈی کیسے کریگا تو اسلم ادیب کے ذہن ِ رسا نے یہ حل نکالا کہ میں ایجوکیشن میں پی ایچ ڈی کرنا چاہتا ہوں،چنانچہ اُس نے بریڈ فورڈ یونیورسٹی انگلستان میں داخلہ لیا اور پی ایچ ڈی کا طالب علم ہوگیا۔ اُس سے اگلی باری احمد فاروق مشہدی کی تھی اُس کو بھی یہی سکالر شپ ملا اور اس راہ میں اُس نے اسلم ادیب کی پیروی کی اور یوں علم التعلیم کو ایک بہت اچھا استاد اور قائد مل گیا مگر اس نظام کے سبب شعبہ اُردو ایک بہت اچھے طالبعلم سے محروم ہوگیا جو باہر سے پی ایچ ڈی کرکے لوٹ کے آتا توشاید شعبہ اُردو کی آج تاریخ اور روایت مختلف ہوتی۔ فاروق نے ایم اے کرنے کے بعد ایک اخبار میں کام کیا اور پھر خواجہ فرید کالج رحیم یار خان میں تدریس پر مقرر ہوا۔فاروق ایسا طالب علم تھا جس سے ناصرف اُس کے کلاس فیلو بلکہ جونیئر طالب علم بھی بہت متاثر تھے اور اِدھر اُدھر سے کچھ باتیں معلوم ہوتی رہتی تھیں جن کے مطابق ایک سے زیادہ لڑکیاں فاروق کی طرف مائل تھیں یا اُنہیں فاروق کی صورت میں بہتر مستقبل دکھائی دیتا تھا لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آخر کار ایک لڑکی اُس کی طرف بڑھے گی اور بہت سی رکاوٹیں عبور کرلے گی۔ سو جہاں تک مجھے یاد ہے فاروق سے پہلے اُس لڑکی نے مجھ سے کہا کہ آپ کی مدد کی ضرورت ہے کہ میرے والد کے چچا زاد جابر علی سید آپ کے استاد رہے ہیں اگر آپ جاکر اُن سے کہیں گے تو وہ میری امی ابو کو منا سکتے ہیں۔میں نے بات کرنے سے پہلے فارو ق سے پوچھا تو وہ کافی شرمایا ،منہ سے تو کچھ نہ کہا البتہ میرے کچھ سوالوں کے جواب میں مشرقی لڑکی کی طرح سر ہلاتا رہا۔ چنانچہ میں اپنے اُن استاد سید جابر علی سے ملا جنہیں فارسی زبان سے زیادہ فلسفے سے دلچسپی تھی کیونکہ جب میں نے جاکر اپنی طرف سے افسانے کا ایک ٹکڑا اُن کو سنایا کہ امتحان ہورہا تھا مگر ہماری شاگرد رضوانہ گیلانی پرچہ کرنے کی بجائے روئے جارہی تھی جب میں نے اُس سے پوچھا کہ کیا پرچہ مشکل ہے ،تو اس نے کہا یہ آخری پرچہ ہے اس کے بعد فاروق سے بچھڑنا مشکل دکھائی دیتاہے وغیرہ ‘۔ تو استاد محترم نے مجھ سے پوچھا کہ آپ نے رضوانہ کو روتے ہوئے خود دیکھا تھا یا اُس کے اُسی کلاس فیلو نے آپ کی توجہ مبذول کرائی تھی کہ وہ رو رہی ہے،جس کا آپ نے ذکر کیا ہے۔ گویا وہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ میں اکیلا کسی لڑکی کی وکالت کررہا ہوں یا لڑکے کی منشا بھی شامل ہے، تب مجھے کہنا پڑا کہ جناب میں دونوں کی طرف سے حاضر ہوا ہوں۔ بہرطور یہ وہ مرحلہ ہے جہاں ڈاکٹر اے بی اشر ف بھی میرے ہم نوا تھے اور ہم نے لڑکی کے والدین کو ہر طرح کی ضمانت دی اور یہ بات فاروق پر چھوڑی کہ وہ خود بھی پہلے اپنی والدہ اور پھر والد کو منائے ۔جب معاملات کم وبیش طے ہوگئے تو ایک تکلیف دہ واقعہ پیش آیا ۔فاروق کے والد ِ گرامی یا بھائی جان کی طرف سے کچھ خط پیش کئے گئے جن کا مکتوب نگار گمنام تھا اور جس میں بہت دل آزار بے بنیاد باتیں لکھی ہوئی تھیں جو ایسے موقعوں پر خاندانوں میں غلط فہمیاں پیدا کرسکتی ہیں ۔دوسری طرف معلوم ہوا کہ اُس لڑکی کے والدین کو بھی اسی قسم کے خط مل رہے ہیں جس میں دھمکیاں دی گئی تھیں کہ عین شادی والے دن لڑکی کو اٹھا کر لے جایا جائے گا یا اُس کے ٹکڑے کردئیے جائیں گے۔ڈاکٹر اے بی اشرف اور میں اس طرح کی مراسلت سے پریشان ضرور ہوئے مگر اُن خطوں کو بغور دیکھنے سے اندازہ ہوا کہ یہ فاروق کے ایک حاسد کلاس فیلو کا کارنامہ ہے۔ بہرطور اس کے بعد فاروق کی زندگی اللہ کے کرم سے ازدواجی آسودگی میں گزری ۔وفات سے پہلے اُس نے اپنی بیٹی اور بیٹے کی شادی بھی کی اور کسی قدر کھل کر سوشل میڈیا میں بھی ایکٹو ہوا ،گردوپیش ا ٓن لائن اور دیگر جرائد میں اُس نے دوبارہ لکھنا شروع کیا جس پر بار بار میں نے اُسے محبت سے مبارکباد بھی دی اور اُسے کہا کہ تمہاری ان تحریروں سے میری یہ کسک بڑھ رہی ہے کہ ایک نظام نے تمہیں شعبہ اُردو سے الگ کردیا ،مگر تم اب بھی ہم میں سے ہو اور ہمارے ہی شعبے کی زینت بنتے تو آج اس شعبے کی شان کچھ اور ہوتی۔
اتفاق ایسا ہے کہ فاروق کے لئے تدریس کی پہلی بڑی منزل رحیم یار خان کا خواجہ فرید کالج تھا جہاں سے اُسے سٹڈی لیو لیکر انگلستان جانا تھا اور شاید واپس آکر بھی اُسی کالج میں رپورٹ کرنا تھا ۔ اسی کالج میں میرے استاد عبدالعزیز جاوید تھے جن سے وہ بھی اُسی طرح متاثر ہوا جیسے میں جماعت اسلامی سے ’سرکشیدہ‘ ہونے کے باوجود متاثر ہوا تھا۔ اُس دور میں پنجاب کے سیکرٹری تعلیم مہر جیون خان تھے جن کو ایک مرتبہ میں نے اپنے استاد خلیل صدیقی کی بارگاہ میں نیاز مند کے رُوپ میں دیکھا تھا ۔تب پروفیسرخلیل صدیقی بلوچستان میں ڈائریکٹر تعلیمات تھے اور مہر جیون خان کی بیگم صاحبہ گرلز کالج کوئٹہ میں پڑھاتی تھیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مہر جیون نے جب اپنی تصنیفی زندگی کا آغاز کیا تو وہ بڑے نیاز مندانہ الفاظ کے ساتھ خلیل صدیقی صاحب کواپنی کتابیں بھیجتے رہے۔ چنانچہ میں نے خلیل صدیقی صاحب سے ہی درخواست کی کہ وہ ہمارے شاگرد ِ عزیز احمد فاروق کےلئے مہر جیون خان کے نام کا ایک سفارشی خط دیں تاکہ فاروق کا تبادلہ ملتان یا اُس کے قرب وجوار میں ہوسکے۔ فاروق نے اپنی طبیعت کے عین مطابق بہت عرصے کے بعد شرما شرما کے مجھے بتایا کہ مہر جیون خان نے اُس رقعے اورخلیل صدیقی صاحب کے حوالے کو قطعاً اہمیت نہیں دی ۔ بہر طور اس طرح جو صدمہ مجھے پہنچنا تھا وہ فاروق کی احتیاط کی وجہ سے دو چار ماہ تاخیر سے پہنچا اور پھر اپنے شاگردوں ،دوستوں کی محفل میں میری زبان مہر جیون خان سے جو انتقام لے سکتی تھی وہ اُن کی زندگی تک لیتی رہی۔
یونیورسٹی میں ڈاکٹر خواجہ امتیاز علی اپنے عزیز دوست خواجہ خورشید احمد کو لانا چاہتے تھے جو ایک طرح سے باغ وبہار شخصیت تھے اور کالج آف ایجوکیشن کے پرنسپل رہے تھے اور ہماری یونیورسٹی سے ابتدا ہی سے کئی حیثیتوں میں وابستہ رہے۔چنانچہ خواجہ خورشید صاحب کی نگرانی میں زکریا یونیورسٹی میں شعبہ علم التعلیم کا آغاز ہوا اور پھر ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی اس سے وابستہ ہوئے ، پھر اس کے دو حصے آرٹس ایجوکیشن اور سائنس ایجوکیشن کے ہوگئے اور ہمارے کیمسٹری کے دوست بعد میں سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ریاض الحق طارق نے سائنس ایجوکیشن کا شعبہ سنبھالا۔ اس عرصے میں شعبے میں کئی مدوجزر آئے مگر فاروق اچھے استاد ،اچھے منتظم اور صاف ستھرے رفیق ِ کار کی طرح سبھی کی نظروں میں عزت پاتا رہا۔ جس زمانے میں ڈاکٹر محمد نصیر وائس چانسلر تھے فاروق کی سلیکشن انقرہ اُردو چیئر کےلئے ہوئی۔ فاروق کا جی نہیں چاہتا تھا اُس وقت ملک کو چھوڑ کر ترکی جانے کا ۔ دوسری طرف ڈاکٹر نصیر بھی اُن کی صلاحیتوں کے بے پناہ قائل تھے ،تاہم فاروق نے مجھے بتایا کہ اس سلسلے میں اُن کی بیگم کا دباﺅ ہے ،تاہم یہ مرحلہ بھی خوش اسلوبی سے طے ہوااور فاروق یہیں رہ گیا۔
اپنی ریٹائر منٹ کے کم و بیش ایک برس بعد فاروق سوشل میڈیا پر بہت فعال دکھائی دیا،اس طرح فیس بک پر کم و بیش ہماری روزانہ ملاقات رہنے لگی،فاروق نے شیخ منظور الہٰی اور مختار مسعود کے حوالے سے اچھے مضامین لکھے،پھر اس نے اردو کے نامور شاعروں پر بھی تخلیقی مضامین کا سلسلہ شروع کیاجن میں چند ایک کے لِنک اُس نے مجھے بھجوائے تھے۔ اُن میں سے دو مضامین کے اقتباسات دیکھئے اور اندازہ لگائیے کہ اُردو زبان کا ایک بہت بڑا پارکھ اپنے آخری ایام میں کس طرح اپنے خول سے باہر آنا چاہتا تھا۔ پہلے مضمون کی اہمیت اس لئے ہے کہ احمد فاروق نے اپنی ابتدائی شاعری کا ذکر کیا ہے اور جناب ِ نظر زیدی سے مشاورت کا بھی اعتراف ہے۔
(الف) ”جن ادیبوں اور شاعروں نے بچوں کے لئے ادب تخلیق کیا، ان میں سید نظر زیدی کا نام خاصا نمایاں ہے، تاہم ایک زمانے سے ان کا ذکر نہیں ہوا، جس کے سبب ان کا نام اور کام عام لوگوں اور آج کے نئے لکھنے پڑھنے والوں کی نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے۔ سید نظر زیدی ایک ادیب، صحافی، شاعر اور ایک درجن سے زائد کتابوں کے مصنف تھے۔ وہ اپریل 1917 میں بجنور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور جون 2002 میں لاہور میں انتقال کر گئے۔ مختلف ادوار میں وہ مختلف اداروں سے وابستہ رہے۔قومی کتب خانہ لاہور کے شائع کردہ بچوں کے رسالے ”ہدایت“ کے طویل عرصے تک مدیر رہے۔ اس دوران میں انہوں نے بچوں کے لئے کافی کچھ تحریر کیا اور نئے لکھنے والوں کی بھی خوب حوصلہ افزائی کی۔ ”ہدایت“ بند ہوا تو وہ کئی اور اداروں سے وابستہ رہے جن میں ماہ نامہ ”اردو ڈائجسٹ“ اور ”ادارہ معارف اسلامی“ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ کچھ عرصے کے لئے وہ پاکستان کے معروف فلمی ادارے ”شباب پروڈکشنز“ کے ساتھ بھی وابستہ رہے۔شاعری میں وہ ابتدا میں تاجور نجیب آبادی سے اصلاح لیتے رہے۔ ان کو بچوں کے ادب میں نمایاں خدمات سرانجام دینے کی بنیاد پر صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی بھی ملا۔ ان کی کتابوں میں ”نورً علیٰ نور“ (نعتیہ مجموعہ)، ”حبہ خاتون“، ”اتا ترک“، ”اقبال گہوارہء تربیت میں“، حکایت خلفائے راشدین ”،“ پاکستان کے نامور فرزند ”،“ اسلام کے نامور فرزند ”،“ نئے چراغ ”،“ وادی ”،“ زخمی روحیں ”،“ مہکتے پھول ”،“ ہمارے قائد اعظم ”اور“ نوائے خامہ ”(شعری مجموعہ) قابل ذکر ہیں۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ کلثوم طارق برنی نے“ سید نظر زیدی: احوال و آثار ”کے عنوان سے مقالہ لکھ کر علامہ اقبال اوپن یونیو رسٹی، اسلام آباد سے ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔ جیسے پہلے ذکر ہو چکا وہ شعر بھی کہتے تھے۔ نمونہ ء کلام کے طور پر ان کے چند اشعار دیکھئے:
برق کی زد پہ شبستاں ہے خدا خیر کرے
غم ہستی غم جاناں ہے خدا خیر کرے
کیف مینائے غزل ہو کہ بہاروں کا شباب
ہر جگہ ماتم انساں ہے خدا خیر کرے
جس کی بے راہ روی سے ہوئے محروم شکیب
وہی دل اپنا نگہباں ہے خدا خیر کرے
ایک اور غزل کے دو شعر دیکھئے:
محبت کی کوئی منزل نہیں ہے
محبت موج ہے ساحل نہیں ہے
ہے دل کو اعتبار اس کی وفا کا
مگر کچھ اعتباردل نہیں ہے
میرے لئے وہ ایک محسن اور مربی کا درجہ رکھتے ہیں۔ میرے ساتھ ان کا شفقت کا ایک رشتہ تھا جو میرے سکول کے زمانے سے شروع ہوا اور ان کی وفات تک کم و بیش تیس سال تک استوار رہا۔ بیچ میں کبھی کبھی کچھ عرصے کے لئے تعطل آتا رہا مگر تعلق منقطع نہیں ہوا۔ وہ خط کا جواب دینے میں بہت مستعد تھے۔ خط ملتے ہی جواب تحریر کر دیتے۔ میری ادبی تربیت میں انہوں نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ میں نے سکول کے زمانے میں کچھ لکھنا لکھانا شروع کیا تو جہاں والد مرحوم نے تربیت اور حوصلہ افزائی کی، وہاں تحریروں کی اشاعت کے لئے نظر زیدی مرحوم نے خصوصی کرم کیا، چنانچہ میرے کئی مضامین ”ہدایت“ میں شائع ہوئے۔ اور اس میں ان کی حوصلہ افزائی کا خاص طور پر دخل تھا۔کالج کے زمانے میں کچھ شعری تک بندی کا شوق چرایا تو میں نے ایک دو غزلیں ان کو بھیجیں کہ وہ اپنی رائے سے نوازیں۔ انہوں نے لکھا کہ اگر میں محنت کروں، کلاسیکل اور جدید شعرا کی شاعری کا گہرا مطالعہ کروں اور مشق سخن کروں تو اس میدان میں کامیابی کا امکان موجود ہے۔ ا نہوں نے مقدور بھر شاعری کی اصلاح کی پیش کش بھی کی جو میں نے شکر یے کے ساتھ قبول کر لی۔ چنانچہ میں وقتاً فوقتاً اگر کچھ لکھتا تو ان کو بھیج دیتا۔وہ مناسب مشورہ دیتے، حسب ضرورت کچھ کانٹ چھانٹ کر دیتے، کبھی غزل یا نظم کو مکمل رد کر دیتے کہ دوبارہ کوشش کروں اور کبھی بالکل تبدیل نہ کرتے۔ یوں یہ سلسلہ کافی عرصے تک جاری رہا۔ میری شاعری بھی بے موسم کی بارش کی طرح تھی۔ کبھی یہ سلسلہ بلا تعطل جاری رہتا اور کبھی مہینوں بلکہ سالوں تک خشک سالی کا سماں رہتا اور اب بھی یہی صورت حال ہے۔ میری شاعری اخبارات و رسائل میں کبھی کبھی چھپتی رہی مگر میں نے کبھی سنجید گی سے شعری مجموعہ چھپوانے کا نہ سوچا، تاہم احباب کے اصرار پر کچھ سال پہلے تقریباً چالیس سال کی شاعری کا ایک انتخاب ”حصار خواب“ کے نام سے شائع کروا دیا مگر افسوس اس وقت زیدی صاحب حیات نہیں تھے۔میری تعلیمی کارکردگی کے بارے میں بھی وہ آگہی رکھتے اور ہمیشہ مفید مشورہ دیتے…………ایم اے میں میں نے اردو غزل کے نامور شاعر ناصر کاظمی کی شخصیت اور فن کے حوالے سے تحقیقی مقالہ لکھا تھا۔ اس میں بہت سی تبدیلیوں اور اضافوں کے بعد 2001 میں میں نے اسے کتابی شکل میں ”اجنبی مسافر، اداس شاعر“ کے نام سے شائع کرایا تو اس کی ایک کاپی زیدی صاحب کو بھی بھیجی۔ انہوں نے تفصیلی مطالعے کے بعداپنی رائے سے نوازا اور حوصلہ افزائی کی۔ 2002 میں غالباً مئی کے آخر میں میں نے ان کو حسب معمول خط لکھا، جس کا جواب ان کے صاحب زادے خالد زیدی نے جون کی کسی تاریخ کو لکھا اور بتایاکہ ان کے والد چند روز پہلے انتقال کر چکے ہیں“
(ب) ’ملکہ نور جہاں کا مزار‘:اُردو کی ایک دل گداز نظم
”لاہور را بہ جان برابر خریدہ ایم جان دادہ ایم و جنت ِدیگر خریدہ ایم
(لاہور کو ہم نے جان کے برابر قیمت پر حاصل کیا ہے، ہم نے جان قربان کرکے ایک نئی جنت خریدی ہے)
تاریخ اور رومان کا ملاپ دیکھیں تو ایسا لگتا ہے تو ملکہ نور جہاں اردو شعر وادب میں جا بجا جلوہ گر ہے۔ مثال کے طور پر امتیاز علی تاج نے اپنے معروف ڈرامے ”انار کلی“ میں نور جہاں اور انار کلی کی کہانی کو اس طرح گھلا ملا دیا ہے دونوں ایک ہی کردار کے طور پر نظر آتی ہیں اور اسی موضوع پر پاکستان میں ”انار کلی“ کے نام سے ایک تاریخی، رومانوی اور نغماتی فلم بنی تو ہندوستان میں ”مغل اعظم“ جیسی فلم بنی جس کی شہرت کبھی کم نہیں ہوئی۔ تاریخی طور پر انارکلی ایک فرضی کردار ہے، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اسے نور جہاں کی ہی کہانی کی ایک بدلی ہوئی ڈرامائی تشکیل قرار دیتے ہیں۔
ملکہ نور جہاں کو کئی شعرا نے بھی موضوع سخن بنایا۔ ان شعرا میں شبلی نعمانی بھی شامل ہیں۔ ان کی طویل نظم ”عدل جہانگیری“ دراصل نور جہاں ہی کی کہانی ہے۔ جو واقعہ اس میں منظوم کیا گیا ہے اس کو ذکر یہاں طوالت کا باعث ہو گا تاہم ساری نظم ملکہ ہی کی کہانی پیش کرتی ہے۔ نمونے کے طور پراس کے یہ اشعار ملکہ نور جہاں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں:
یہ وہی نور جہاں ہے کہ حقیقت میں یہی
تھی جہانگیر کے پردے میں شہنشاہ زمن
اس کی پیشانئی نازک پہ جو پڑتی تھی گرہ
جا کے بن جاتی تھی اوراق حکومت پہ شکن
شاعر رومان اختر شیرانی کی نظم ”نور جہاں“ بھی ملکہ کی اہمیت اور اس کے تاریخی کردار کو اجاگر کرتی ہے۔ اس طویل نظم کے صرف تین اشعار یہاں پیش کیے جا رہے ہیں:
اسی سنسان نخلستان میں اک اجڑی عمارت ہے
جہاں دفن ایک شہنشاہ گرامی کی محبت ہے
یہاں وہ بانوئے عفت نشاں سوتی ہے تربت میں
کٹی تھی جس کی ساری عمر آغوش حکومت میں
ادب، اے دل ادب کر، روضہء نورجہاں ہے یہ
مقدس خواب گاہ ملکہء نورجہاں ہے یہ
معروف شاعر ساحر لدھیانوی کی نظم ”نورجہاں کے مزار پر“ ان کے مخصوص سیاسی نظریات کی عکاسی کرتی ہے۔ ساحر نے نور جہاں کو دختر جمہور قرار دیا ہے کہ اس کا تعلق کسی شاہی خانوادے سے نہیں بلکہ ایک عام خاندان سے تھا۔ اس نظم کا ایک بند دیکھئے:
پہلوئے شاہ میں یہ دختر جمہور کی قبر
کتنے گم گشتہ زمانوں کا پتہ دیتی ہے
کتنے خوں ریز حقائق سے اٹھاتی ہے نقاب
کتنی کچلی ہوئی جانوں کا پتہ دیتی ہے
پہلوئے شاہ کا اشارہ جہانگیر کے مقبرے کی طرف ہے جو نورجہاں کے مزار کے قریب ہی ہے اور خوں ریز حقائق کے پس پردہ غالباً وہی کہانی ہے جس میں شیر افگن کی موت واقع ہوئی اور اس کے علاوہ وہ ساری تاریخ ہے جس میں محکوم و مجبور عوام بادشاہوں کے قہر وغضب کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔(بحوالہ )A miniature portrait of Nur Jahan – Arthur M. Sackler Museum۔
ان نظموں کی اہمیت اپنی جگہ مگر اس موضوع پر تلوک چند محروم کی نظم ”ملکہ نورجہاں کا مزار“ بے مثال ہے۔ اس میں جو دل سوزی، دردمندی اور جذبہ واحساس کی شدت ہے وہ اسے ایک ایسی نظم بنا دیتی ہے کہ شاید ہی اس موضوع پر کوئی اور نظم اس کی ہم پلہ ہو۔ تلوک چند محروم نے اپنے زور قلم اور قادرالکلامی سے اسے لازوال بنا دیا ہے۔ مسدس کی ہئیت میں اس طویل نظم کے نو بند ہیں اور ہر بند اپنی مثال آپ ہے۔ نظم کا بنیادی خیال مزار کی خستہ حالی، انسانی زندگی کا حسرت ناک انجام، نورجہاں کے ماضی کی عظمت و شوکت اور مرنے کے بعد کی کسمپرسی کی زندگی ہے۔غالباً جس زمانے میں تلوک چند محروم نے اس مزار کو دیکھا، اس کی حالت انتہائی خستہ تھی۔ پنجاب میں سکھوں کے عہد حکومت میں اس مزار کو بہت زیادہ نقصان پہنچا تھا اور پھردیکھ بھال کی کمی کی وجہ سے وہاں ویرانی کا سماں تھا اور ایک زمانے تک اس کی حالت ایسی ہی رہی۔ 1950 کی دہائی میں یا 1960 کی دہائی میں غالباً شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کی لاہور آمد پر اس عمارت کی کچھ مرمت اور آرائش و زیبائش کی گئی۔ شاید نور جہاں کو اس صورت حال کا وقت سے پہلے کچھ اندازہ تھا، اسی تناظر میں اکثر یہ شعر پڑھنے کو ملتا ہے جو اسی سے منسوب ہے:
بر مزارِ ما غریباں نے چراغے نے گلے / نے پرِ پروانہ سوزد نے صدائے بلبلے (ہم غریبوں کے مزار پر نہ کوئی چراغ جلتا ہے اور نہ کوئی پھول رکھتا ہے، کوئی پروانہ بھی نہیں جو اس چراغ کی لو پر اپنی جان دے دے اور نہ کوئی بلبل ہے جوان پھولوں کی محبت میں نغمے گائے)
تلوک چند محروم نظم اور غزل دونوں کے شاعر تھے اور کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ وہ 1887 میں تحصیل عیسیٰ خیل، ضلع میانوالی کے ایک گاﺅں میں پیدا ہوئے۔ 1908 میں مشن ہائی سکول ڈیرہ اسماعیل خان میں انگریزی کے استاد مقرر ہوئے۔ کنٹونمنٹ بورڈ مڈل سکول راوالپنڈی کے ہیڈ ماسٹر رہے۔ اس کے علاوہ عرصہء دراز تک گورڈن کالج راولپنڈی میں اردو اور فارسی کے لیکچرار رہے۔ تقسیم ملک کے بعد وہ ہندوستان چلے گئے اور پنجاب یونیورسٹی کیمپ کالج دھلی میں طویل عرصے تک اردو پڑھاتے رہے۔ جنوری 1966 میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کے صاحب زادے جگن ناتھ آزاد بھی معروف شاعر تھے۔نظم کے پہلے بند میں مختلف متضاد مناظر اور تلازمات سے کلام میں حسن اور دل کشی پیدا کی گئی ہے۔ دن اور شب کا سماں اور اندھیرے کے ساتھ نور کا تعلق اور نورجہاں کے ساتھ اس کی مناسبت، شمع جو بجھ گئی مگر اس کا دھواں ابھی باقی ہے، پھر طور کی روشنی اور شب دیجور کا ذکر ایسے متضاد تلازمات ہیں جو پڑھنے والوں کے دلوں کے ذوق وشوق کو دعوت دیتے ہیں:
دن کو بھی یہاں شب کی سیاہی کا سماں ہے
کہتے ہیں یہ آرام گہ نور جہاں ہے
مدت ہوئی وہ شمع تہ خاک نہاں ہے
اٹھتا مگر اب تک سر مرقد سے دھواں ہے
دوسرا بند پہلے بند سے اس طرح جڑا ہوا ہے کہ اسے ا لگ کرنا دشوار ہے۔ اس میں ملکہ کے حسن وجمال کی توصیف اور اس کے زوال کا شکار ہونے کا دل گداز تذکرہ ہے:
اے حسن جہاں سوز کہاں ہیں وہ شرارے
کس باغ کے گل ہو گئے کس عرش کے تارے
کیا بن گئے اب کرمک شب تاب وہ سارے
ہر شام چمکتے ہیں جو راوی کے کنارے
یا ہو گئے وہ داغ جہانگیر کے دل کے
قابل ہی تو تھے عاشق دل گیر کے دل کے
اس کے بعد کئی بندوں میں مزار کی خستہ حالی، موت کے بعدکے عالم بے چارگی، مزار کے احاطے میں اڑتی ہوئی خاک، ماحول کی اداسی اور تنہائی، تعویذ لحد کی ٹوٹ پھوٹ اور عمارت کی شکستگی کا ذکر ہے۔ ویرانی کا یہ عالم ہے کہ گرمی کی شدت میں مال مویشی یہاں گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں اور شام کو یہاں چمگادڑوں کا بسیرا ہوتا ہے:
چو پائے جو گھبراتے ہیں گرمی سے تو اکثر
آرام لیا کرتے ہیں اس روضے میں آ کر
اور شام کو بالائی سیہ خانوں کے شپر
اڑ اڑ کے لگاتے ہیں دروبام پہ چکر
معمور ہے یوں محفل جانانہ کسی کی
آباد رہے گور غریبانہ کسی کی
ملکہ کے حسن وجمال کی روداد، ماضی کی پر آسائش زندگی کے احوال، ناز برداریوں کے وسائل کی کثرت کا بیان، مرنے کے بعد کی کس مپرسی، زمانے کی ناقدری اور انسانی زندگی کے حسرت ناک انجام کا تذکرہ تلوک چند محروم نے اس انداز میں کیا ہے کہ دل بھر آتا ہے۔ یہاں انہوں نے اپنا پورا زور قلم اپنے جذبات و احساسات کی پوری شدت کے ساتھ اس طرح صرف کیا ہے کہ یہ دو بند حاصل نظم کہے جا سکتے ہیں:
آراستہ جن کے لئے گلزار و چمن تھے
جو نازکی میں داغ دہ برگ سمن تھے
جو گل رخ وگل پیرہن و غنچہ دہن تھے
شاداب گل تر سے کہیں جن کے بدن تھے
پژ مردہ وہ گل دب کے ہوئے خاک کے نیچے
خوابیدہ ہیں خار و خس و خا شاک کے نیچے
اور یہ بند دیکھئے:
رہنے کے لئے دیدہ و دل جن کے مکاں تھے
جو پیکر ہستی کے لئے روح رواں تھے
محبوب دل خلق تھے جاں بخش جہا ں تھے
تھے یوسف ثانی کہ مسیحائے زما ں تھے
جو کچھ تھے کبھی تھے مگر اب کچھ بھی نہیں ہیں
ٹو ٹے ہوئے پنجر سے پڑے زیر زمیں ہیں
نظم کا آخری بند اس داستان کا خلاصہ ہے کہ انسانی زندگی کا انجام بالآخر موت ہے جو ہر چھوٹے بڑے انسان کا مقدر ہے۔ جس سے کسی کو مفر نہیں اور یہ مزار ہمیں زندگی کے اسی حسرت ناک انجام کی یاد دلاتا ہے اور یہ بھی کہ دنیا کے سب مال و اسباب اور شان و شوکت سب عارضی اور فانی ہیں:
دنیا کا یہ انجام ہے دیکھ اے دل ناداں
ہاں بھول نہ جائے تجھے یہ مدفن ویراں
باقی ہیں نہ وہ باغ نہ وہ قصر نہ ایواں
آرام کے اسباب نہ وہ عیش کے ساماں
ٹوٹا ہوا اک ساحل راوی پہ مکاں ہے
دن کو بھی جہاں شب کی سیاہی کا سماں ہے
پوری نظم کی فضا حزنیہ اور ملال انگیز ہے اور اپنے موضوع کے لحاظ سے بے مثال ہے۔ بغیر تشریح و توضیح کے پڑھی جائے تو اس کا اپنا ایک لطف ہے جو انبساط کا باعث بنتا ہے۔ اس کی روانی، الفاظ کا چناؤ ، مصرعوں اور اشعار کا باہمی ربط اور پس منظر میں اعلیٰ درجے کی جذبات نگاری اس نظم کو یقیناً لا زوال بنا دیتی ہے۔ خود تلوک چند محروم کو بھی یہ نظم بہت پسند تھی۔ یہ نظم ایک زمانے تک، اندازہً 1940 سے 1960 تک پنجاب یونیورسٹی کے میٹرک کے اردو نصاب میں شامل رہی۔ واضح رہے کہ اس زمانے میں میٹرک کا امتحان بھی یونیورسٹی ہی لیتی تھی“۔(یہ بھی معنی خیز ہے کہ زندگی کے آخری چند ہفتو ں میں فاروق مشہدی کو آخر یہ دل گداز نظم کیو ں یاد آئی)۔
ان کے علاوہ بھی اُس کے ساتھ میرا اسی طرح کے پیغامات کا تبادلہ ہوا تھا جب میں ایمرسن کالج ملتان کی ایک صدی نامی کتاب مرتب کررہا تھا تو مجھے عربی کے ایک بڑے استاد اکبر منیر کے بیٹے سے رابطے کی ضرورت تھی تب فاروق نے مجھے اُن کے بارے میں ناصرف ایک مضمون کا لنک بھیجا بلکہ اس طرف بھی توجہ دلائی کہ علامہ اقبال نے اکبر منیر کے ایک آدھ استفسار کے جواب میں خط بھی لکھا تھا جو عطاءاللہ کے اقبال نامہ میں شامل ہے۔اسی طرح 12اکتوبر 2020ءکی صبح مجھے اس کا پیغام ملا ۔”السلام علیکم۔جنگ میں آج آپ کا مضمون دیکھا ہے۔آپ نے طالب علموں اور بچوں میں کتاب بینی کا شوق پیدا کرنے کے لئے تجاویز دی ہیں۔ایجوکیشن کے وہ طلبہ جو اردو پڑھتے ہیں ان کو میں اسائنمنٹ کے طور پر کتابیں پڑھ کر کم ازکم ان کے خلاصے لکھنے کا کام دیتا تھا۔یہ کاوش جزوی طور پر کامیاب رہی۔طلبہ کی کثیر تعداد ادیبوں اور شاعروں سے ناواقف ہے۔لڑکیاں البتہ عمیرہ احمد جیسی لکھنے والیوں سے کسی حد تک واقف ہیں۔اشفاق احمد کو بھی کسی حد تک جانتے ہیں مگر ادب سے زیادہ ان کو ان کی ”زاویے ”جیسی تحریروں سے آشنائی ہے“۔
اسی طرح 25نومبر 2020ءکو اُس نے مجھے ایک پیغام بھیجا ۔”السلام علیکم۔مجھے بھی ایمرسونین ہونے کا کمزور سا، دعویٰ ہے۔میں نے دو سال ایف ایس سی میں پورے کئے تھے مگر، پھر شدید بیماری کی وجہ سے آخری امتحان ادھورا ہی دے سکا اور پھر ایف اے کیا۔لیکن چونکہ اس ادارے سے ایک نسبت ہے، اس لئے اس ادارے کے لئے کچھ عطیہ دینا چاہتا ہوں۔مجھے بتایئے پیسے کس کو اور کیسے بھیجنے ہیں اور کس مقصد کے لئے؟ فیس بک پر میں نے رقم کا ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھا“۔
میں نے اس سے وعدہ کیا کہ کسی روز میں واپڈا ٹاﺅن میں صبح کی سیر کے بعد اُسے ایمرسونین کی رکنیت کافارم دے جاﺅں گا تاکہ وہ کالج کے سابق طالب علموں کی انجمن کا رکن ہو جائے مگر اس نے ایک مرتبہ پھر جھینپ کے کہا کہ آپ جتنی صبح یہاں سیر کرتے ہیں،اتنے بجے تو میں نہیں جاگتا مگر ایک مرتبہ ہم دونوں نے وقت بھی طے کر لیا اور میں اپنے ساتھ سہ ماہی پیلھوں کے دو شمارے بھی لے گیا مگر اس کے گھر پر تین مرتبہ اطلاعی گھنٹی بجا کر واپس آ گیا،تب اس کا معذرت کا ایک پیغام آیا جس میں پہلی مرتبہ اس نے اپنی طبیعت کی خرابی کا ذکر کیا۔اس کی ریڑھ کی ہڈی کے ایک مہرے کا مسئلہ طالب علمی کے زمانے سے تھا اور ملازمت کے ابتدائی برسوں میں وہ ڈاکٹر افتخار راجہ کے زیر علاج بھی رہا تب اس کی جاں نثار شریک حیات نے اس کی بہت خدمت کی ،پھر کئی برسوں کے بعد اس نے اس کا آپریشن بھی کرایا اور مجھے یاد ہے کہ جب میں اس کے گھر عیادت کو گیا تورضوانہ فاروق نے بتایا کہ یونیورسٹی اس بل کی ادائیگی میں تاخیر کر رہی ہے اور ہمیں مالی مشکلات کا سامنا ہے کہ ہم نے ہسپتال اور ڈاکٹر کا بل خود ادا کر دیا تھا،تب میں شاید اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن کا صدر بھی تھا اور ہر مرتبہ کانٹے کے مقابلے میں فاروق کے بارے میں مجھے یقین ہوتا تھا کہ وہ میرا ووٹر ہے،ایسا نہ بھی ہوتا تو وہ اور اس کی رفیق حیات میرے بہت عزیز شاگرد تھے،مگر الجھن یہ تھی کہ وائس چانسلر ڈاکٹر خواجہ امتیاز علی مرحوم کی معیاد عہدہ گزر چکی تھی اور رجسٹرار ڈاکٹر محمد ظفراللہ نے خواجہ صاحب کے ایک دوست مرزا محمد منظور ایڈیشنل سیکرٹری تعلیمات کے ٹیلی فون کے ایک پیغام کا حوالہ دے کر ایک نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا کہ نئے وائس چانسلر کے آنے تک خواجہ امتیاز علی ہی بطور وائس چانسلر کام کرتے رہیں گے،اور اپنی مجلس عاملہ کی ہدایت پر ہم نے خواجہ صاحب کے خلاف عدالت میں رٹ کر رکھی تھی کہ وہ غیر قانونی طور پر وائس چانسلر آفس میں ہیں۔تاہم اپنی عزیز شاگرد رضوانہ فاروق کے کہنے پر میں نے بہت مشکل فیصلہ کیا کہ میں اس ’وائس چانسلر‘ سے مل کر اس بل کی منظوری اور ادائیگی کی درخواست کروں،جس کے خلاف ہم عدالت میں گئے ہوئے تھے،مجھے اعتراف کرنا چاہیے کہ خواجہ امتیاز علی بہت بڑے آدمی تھے انہوں نے میری رٹ اور اس درخواست کے فاصلے یا تضاد کے بارے میں کچھ نہ کہا،البتہ مجھے یہ اندیشہ تھا کہ دو بجے کے بعد ان کے جو احباب انہیں اپنی حفاظتی تحویل میں لے لیتے تھے،وہ اس موقع پر نہ آ جائیں اور کچھ کھنڈت پڑ جائے سو میں نے اپنی جیب سے قلم نکال کے خواجہ صاحب سے کہا’خواجہ صاحب ان چار برسوں میں آخری مرتبہ اس قلم کو اپنا احسان مند کر دیں‘ خواجہ صاحب نے دو مرتبہ کوشش کی کہ وہ اس پر اپنا حکم لکھیں مگر میرے قلم نے سرکشی اختیار کی۔اس موقع پر ہمارے باذوق خزانہ دار سعید انور نے اپنا قلم نکال کے خواجہ صاحب کو دیا اور کہا’سر،ڈاکٹر انوار کے قلم کو سرکاری زاویئے سے لکھنے کی عادت نہیں،میرا قلم حاکم کی منشا سے ہی رواں ہوتا ہے‘۔
یہ سب باتیں لکھنے کی ضرورت نہیں تھی،مگر جب ایسا پیارا شاگرد آپ کی آنکھوں کے سامنے اٹھ کے چل دے،جسے ہم سچا جہان کہتے ہیں تو پھر کسے خیال رہتا ہے کہ کیا گفتنی ہے اور کیا ناگفتنی۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker