( گزشتہ سے پیوستہ )
شاہ جی سخت گھبرا کر رک گئے اور یوں لگا کہ پیچھے کی طرف بھاگ لیں گے میں نے ہنس کر کہا چلو میں تمہاری طرف سے کہہ دیتا ہوں اتنے میں موصوفہ ہمارے قریب آچکی تھیں میں نے کچھ ہڑبڑا کر انہیں سلام کیا انہوں نے بہت دھیمے اور مہذب انداز میں وعلیکم سلام کہا اور سوالیہ نظروں سے ہماری طرف دیکھا کیوں کہ بدحواسی کے باعث میں برآمدے میں ان کے بالکل سامنے جا کھڑا ہوا تھا جس کا احساس ہوتے ہی میں بے تحاشا گھبرا کر ایک طرف ہوتے ہوئے بولا ” وہ۔۔۔ جی آپ لائبریری گئی تھیں؟”
” جی نہیں میں چیئرمین صاحب کے دفتر کی طرف گئی تھی ”
مختصر سا جواب آیا اور پھر وہی سوالیہ سی نظریں اب مجھے کچھ سمجھ میں نہ آ رہا ہو کہ بات آگے کیسے بڑھائی جائے، مجھے خاموش دیکھ کر محترمہ نے ایک قدم آگے بڑھایا اور پھر اچانک شرط ہارنے کا خوف مجھ پر زیادہ حاوی ہوگیا اور میں نے جی کڑا کر کے ایک بار پھر انہیں مخاطب کیا "جی سنئے ۔۔۔ وہ دراصل آج آپ بہار جیسے اس لباس میں بہت اچھی لگ رہی ہیں۔۔۔ اس لئے۔۔۔!”
یہ کہتے کہتے میر ی سانس پھول گئی لیکن ساتھ ہی یہ بھی لگا کہ جیسے سر سے بہت بھاری بوجھ بھی اتر گیا ہو۔۔ تھوڑا حوصلہ بھی بڑھا کیونکہ موصوفہ کہ چہرے پر ناگواری نہیں سرخی کی ایک دلکش لہر دکھائی دے رہی تھی ۔۔۔ اس کے لبوں پر مسکراہٹ سی ابھری اور وہ سوالیہ انداز میں بولیں
"اس لئے کیا۔۔۔؟”
اور اب ایک بار پھر میری جان پر بن آئی ۔۔۔ اب بات منہ سے نکل ہی گئی تھی تو کچھ کہنا لازم تھا اس لئے مسکین سے لہجے میں عرض کیا "بہار کے موسم میں یہ چوائس بہت اچھا ہے”
نرم گھنٹیاں سی بجیں اور محترمہ کی آواز آئی "شکر ہے کسی نے تعریف تو کی ورنہ صبح سے حرام ہے کسی نے ایک لفظ بھی کہا ہو ”
اس درویش نے یہ سنتے ہی سکھ کا گہرا سانس لیا اب یوں لگا کہ وہ جو صنف لطیف سے اجنبیت کا ایک طویل فاصلہ محسوس ہوتا تھا بہت سمٹ گیا ہے اب مجھ میں کافی ہمت پیدا ہو چکی تھی اسی لمحے راو کی بات یاد آئی اور میں نے کہہ ڈالا "ایسے جیسے بہار مجسم ہوجائے ”
موصوفہ کے چہرے پر حیا کی سرخی سی آئی اور وہ "شکریہ” کہہ کر آگے چل پڑیں اور ہم انہیں جاتے ہوئے دیکھتے رہے۔ ہمارے لئے یہ دومنٹ دو صدیوں سے کم نہیں تھے فاروق شاہ اس دوران میں اگرچہ خاموش رہا لیکن اس کی تشنہ و گرسنہ نظریں اس بہار مجسم کا طواف کرتی رہیں اس کی آنکھوں کی پیاس جاتی ہوئی بہار کو دیکھتے ہوئے اس کی محویت میں صاف نظر آرہی تھی اس لئے میرے مخاطب کرنے پر وہ چونکا تو یوں لگا کہ کسی سہانے خواب سے اسے زبردستی جگا دیا گیا ہو ایسے خوابوں سے کوئی کب جاگنا چاہتا ہے بھلا ۔۔۔
اس واقعے سے نہ صرف ہم نے شرط جیت لی اور دوستوں پر ہماری دھاک بیٹھ گئی، اپنی ہم جماعت لڑکیوں سے گفتگو کے راستے بھی کھل گئے اور اس کے بعد وہ ہمارے لئے خوفزدہ کرنے والی کوئی پر اسرار اور پرکشش مخلوق نہیں رہیں بلکہ ایک اچھی زمینی مخلوق لگنے لگیں ۔۔۔
کلاس میں قدرے ہم آہنگی اور بے تکلفی پیدا ہوئی تو کسی مشترکہ سرگرمی کے تذکرے شروع ہوئے اور پھر خدا خدا کرکے کلاس کے پہلے یک روزہ تفریحی دورے (دریائے چناب کے کنارے) پر جانے کا پروگرام بنا۔
پکنک کے اس موقع پر صنف نازک اور صنف کرخت کے باہمی فاصلوں میں اسلئے تھوڑی سی مزید کمی آئی کیونکہ کھانا مل جل کر موقعے پرہی پکایا گیا لڑکے لکڑیاں اکٹھی کرنے کیلئے لکڑہارے بنے تو لڑکیوں نے کچن سنبھالا روٹیاں شعیب عتیق دو ایک ساتھیوں کے ساتھ جاکر مظفرگڑھ سے لے آیا سالن پکانے والی ٹیم کی قیادت مس شگفتہ حسین نے از خود سنبھال لی خیر افراتفری میں بھی اچھا خاصا انتظام ہوگیا اور بڑا مزہ رہا، اگرچہ بعد میں اس مشق کو نہ دہرانے کا فیصلہ کرلیا گیا کیونکہ سکون سے تفریح کی خواہش حاوی ہوتی چلی گئی ۔۔۔ اس موقع پر فاروق مشہدی اپنے مخصوص دیہی پس منظر میں لڑکیوں کی مختلف حرکات و سکنات کو دیکھ کر ان کا تجزیہ کرتا رہا تھا، کسی کے لباس سے متاثر تھا تو کسی کی سادہ مسکراہٹ سے۔ اس دوران میں وہ کھانا پکانے اور تقسیم کرنے میں شگفتہ حسین کی سلیقہ شعاری اور گھریلو پن کا سخت مداح بن گیا دوچار بار جب اس نے اس کے بارے میں تعریفی کلمات کہے تو یار لوگوں نے اسے تھوڑا چھیڑا بھی یاسین نے تو باقاعدہ حاسدانہ جملے بازی شروع کردی۔۔۔ شاہ جی یاروں کے یہ انداز دیکھ کر پہلے حیران ہوئے اور معصومیت سے ایک ایک کا چہرہ دیکھا کئے اور پھر جھنجھلا کر محفل سے ہی اٹھ گئے
اسی پکنک ٹرپ کے دوران میں ایک دلچسپ(لیکن اس وقت ہمارے لئے کافی تکلیف دہ) واقعہ اور ہوا میں ایک دوست سے کیمرہ مانگ لایا تھا ہم نے چندہ کرکے دوتین فلم رول لئے دو دن ایک فوٹو گرافر سے فوٹو کھینچنے اور کیمرے سے فلم نکالنے کی تربیت لیتے رہے تاکہ جی بھر کر کلاس کے اس پہلے فنکشن کی فوٹوگرافی کرسکیں اس دور میں زیادہ تر بلیک اینڈ وہائٹ فوٹوگرافی ہوتی تھی بعد میں فلم فوٹو گرافر کو دی جاتی جو ا پنی لیبارٹری میں اسے ڈیویلپ کرکے اس کے نیگٹو بناتا جن سے بعد ازاں فوٹو بنتے اور اگر اس سے پہلے فلم کو روشنی لگ جاتی تو سب کچھ ضائع ہو جاتا تھا۔۔۔ ہم نے وہاں پکنک کے دوران میں سارا دن بڑی احتیاط سے نہ راضی ہونے والوں کا منت ترلا کرکے تصویریں کھینچیں شام ہوتے ہوتے ایک رول ختم ہوا جس میں شاید پچیس ایک تصویریں لی گئی تھیں بڑی احتیاط سے رول نکال کر میں نے فاروق کے ہاتھ میں تھما دیا کہ سنبھال کر رکھے اتنے میں ہمارا بہت اچھا اور سادہ لوح دوست جاوید محمود سہو مرحوم ہماری طرف آیا اور کہنے لگا "مڑ فوٹو چھک لئے وے۔۔۔ کوئی کاکیاں شاکیاں دیاں فوٹواں وی ہین یا کوئیناں؟”
یہ کہتے کہتے اس نے فلم رول فاروق کے ہاتھ سے لے لیا تھا اور پھر اچانک ہی فاروق کی بےحد گھبرائی ہوئی اور اس کے مزاج اور انداز سے ہٹی ہوئی کافی بلند آواز بلند ہوئی "۔۔۔ اوئے سہو تیرا بیڑہ ترے اے توں کیا کیتے؟”
ہم نے چونک کر ادھر دیکھا ۔۔۔ سہو نے وہ کردیا تھا جس کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے اس نے فاروق سے فلم رول لیتے ہی "کاکیوں”( لڑکیوں) کی تصویریں دیکھنے کے تجسس میں فلم کو کھینچ کر باہر نکال لیا تھا اور سادگی سے فاروق سے پوچھ رہا تھا کہ "یار اس میں تو کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔؟”
یہ دیکھ کر یکبارگی ہم سب سکتے کی سی کیفیت سے دوچار ہوئے پھر صورت حال کی مضحکہ خیزی پر ایک طرف سے قہقہہ بلند ہوا، راو تسنیم بے تحاشا ہنس رہا تھا اور اس کا موٹا پیٹ تھل تھل کرہا تھا وجہ یہ تھی کہ اس کی منزل مراد کی تصویر بن نہیں سکی تھی اس لئے وہ شاد باد نہیں تھا بہرحال اس کی دیکھا دیکھی ہم سبھی اپنی کاوش کو حسرت میں بدلتے دیکھ کر کھسیانی ہنسی ہنسنے لگے اب منظر اور تصویریں صرف تصور کے پردوں پر نقش ہو کر رہ گئی تھیں ۔
جاوید محمود سہو کا تعلق ماڑی سہو تحصیل کبیروالا سے تھا، نیلی بار کی دیہی ثقافتی سادگی، بے تکلفی اور خلوس کا نمونہ۔۔۔ خود اپنے آپ پر پھبتیاں کس کر لطف اندوز ہونے والا مرنجا مرنج شخص جس کی محبت اس درویش کو موصوف کی زندگی کے آخری ایام تک حاصل رہی ۔۔۔ جاوید کا مرکز محبت بھی وہی تھا جو فاروق اور راو تسنیم کا تھا لیکن اس کو کبھی کسی نے سنجیدہ نہیں لیا حالانکہ وہ اظہار میں ان دونوں سے بے باک ثابت ہوا تھا۔ جاوید بھی امتحان کی تیاری کے دنوں میں ہمارے پاس ہاسٹل آجاتا مجھے اس کی پرخلوص سادگی اچھی لگی اس لئے ہماری خوب بننے لگی ۔۔۔ وہ مختلف مزاج کے ہم چار لوگوں کو ایک ہی کمرے میں رہتے دیکھ کر حیران ہوتا ایک روز اس نے اس سلسلے میں مچھ سے بات چھیڑی گرمیوں کا موسم تھا مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے اسے کیا کہا لیکن اگلے دن شام ڈھلے وہ ایک تانگہ لئے ہاسٹل آ پہنچا اور مجھے اپنا سامان اٹھانے کو کہا ہم سب اس کی اس حرکت پر حیران اسے دیکھ رہے تھے اور وہ میرا سامان سمیٹنے میں لگا ہوا تھا، سامان بھی کیا کپڑوں کا ایک بیگ چند کتابیں اور ایک چارپائی ۔۔۔ باقی سب روک رہے تھے اور میں بھی ہچکچاہٹ کا شکار تھا لیکن جاوید نے فیصلہ سنایا کہ کچھ عرصے کیلئے وہ مجھے اپنے مکان پر لے جا رہا ہے دل نہ لگے تو واپس آجاؤں ہاسٹل میں داخلہ کینسل نہ کرایا جائے۔ ملتان میں خانیوال(لاہور) روڈ پر جاوید کا اپنا ایک کشادہ مکان تھا جس میں وہ اور اس کے دو چھوٹے بھائی شاہد محمود اور اسد محمود بھی رہتے تھے جو ابھی سکول میں پڑھتے تھے وہاں مجھے ایک الگ کمرہ مل گیا۔ یہاں آکر میں نے موٹر سائیکل خرید لی حالانکہ جاوید مجھے روکتا رہا کہ موٹر سائیکل تو اس کے پاس ہے ہی اکٹھے یونیورسٹی آتے جاتے رہیں گے کچھ عرصہ یہ اہتمام رہا بھی لیکن اس طرح میری آزادی ختم ہو گئی تھی۔ اب اپنی سواری آئی تو اس سے ہاسٹل کے دوستوں سے رابطے اور تعلق میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ اضافہ ہی ہوا کیونکہ اب جس کسی نے مجھ سے حال دل کہنا ہوتا یا خود میں نے اپنی کوئی بپتا کسی کو سنانا ہوتی اس سے پروگرام طے ہوتا اور پھر شام کو ہم شہر کے کسی کیفے میں جا بیٹھتے اور چائے کی پیالی پر حال احوال کرتے۔ فاروق سے اس طرح کی نشستیں زیادہ ہونےلگیں ہم اپنے بعض اساتذہ اور شہر کے سینئر ادیبوں سے بھی ملنے چلے جاتے اردو اکادمی کے ہفتہ وار ادبی تنقید اجلاسوں میں بھی ہم باقاعدہ جانے لگے (دوسرے دوستوں کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں تھی) فاروق نے گاہے گاہے اپنی شعری اور نثری تخلیقات اردو اکادمی میں تنقید کے لئے پیش کرنا شروع کیں اس درویش کو ایسا کرنے کی ہمت کچھ عرصہ بعد ہوئی۔
( جاری ہے )
فیس بک کمینٹ

