احمد سجاد بابرادبلکھاری

کچھ فصاحتِ کلام کے بارے میں ۔۔ احمد سجاد بابر

شعر کی موزونیت اور فصاحت کا انحصار بہت سے عوامل پر ہے ،وزن،بحر،خیال کی بلندی،الفاظ کا حسن ،بہاؤ اور روانی شعر کو دو آتشہ کر دیتے ہیں،گرچہ شاعری میں حسن بیانی ایک وہبی (عطا) شے ہے کسبی) محنت سے حاصل کردہ) نہیں مگر الفاظ کی خوبصورتی کا اہتمام کر کے،ان کے چناؤ میں کشٹ اٹھا کر شعریت اور تغزل میں اضافہ ضرور کیا جا سکتا ہے،کلام میں بہت سی بے احتیاطیاں ایسی ہیں جو شعر کی روانی اور حسن کو متاثر کرتی ہیں، کیفی فصاحت کی تعریف کچھ یوں کرتا ہے۔
’’فصاحت کیا ہے،اجزائے کلام میں حسنِ ترتیب ہے۔۔۔۔انہی اجزا کا پریشاں ہونا فقدانِ فصاحت ہے‘‘
اسی لئے غزل کہنے کے ضمن میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ
جمال ؔ کھیل نہیں ہے کوئی غزل کہنا
کہ اک بات چھپانی ہے،اک بات بتانی ہے
وہ عوامل جو فصاحت کو متاثر کرتے ہیں،ان میں سے کچھ کا طائرانہ جائزہ حسبِ ذیل ہے
شتر گربہ: ایک ہی مصرعہ،ایک ہی شعر میں “میں، میرا ،مجھے ” استعمال کرتے ہوئے ساتھ ہی” ہم، ہمیں ،ہمارا” یا “تیرا،تجھے” کے ساتھ “تم، تمہیں،تمہارا” استعمال کرنا
بے جا لفظی تعقید: لفظوں کو اس طرح آگے پیچھے کرنا کہ گراں محسوس ہوں جیسے اگر جملہ ہے “میری تعریف نے ” کی جگہ “تعریف نے میری” تو گوارا ہے مگر “تعریف میری نے” بارِ سماعت ہے
حشو: یہ اس زائد لفظ کو کہتے ہیں جس کے بغیر بھی شعر پورے معانی دے اور جس کے حذف کرنے سے شعر میں حسن پیدا ہو جائے
“شاید کہ ہوئی کارگر اب آہ کسی کی”
اس مصرعہ میں “اب” حشو ہے۔۔۔۔بعض اوقات ضرورتِ شعری شاعر کو مجبور بھی کر دیتی ہے اور حشو سے فرار ممکن نہیں رہ پاتا
تنافرِ صوتی: ایک ہی مصرعہ میں دو یا زائد الفاظ میں ایک ہی حرف کا اس طرح جمع ہو جاناکہ لفظ اور روانی کو متاثر کرے،ادائیگی میں رکاوٹ پیدا ہو۔۔۔۔اس کی اقسام خفی ) ہلکا( ا ور جلی) واضح( ہیں
خفی: یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
اس مصرعہ میں “ج” تنافر پیدا کر رہا ہے جو معمولی اور ہلکا ہے،اس لئے قابلِ قبول ہے
جلی: کیا قسم ہے یہ ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں
اس مصرعہ میں “ک” کا یکے بعد دیگرے آنا ادائیگی میں شدید رکاوٹ کا باعث ہے،اس تنافر کو جلی کہیں گے
تکرارِ لفظی قبیح: حسرت موہانی کے ہاں تکرارِ لفظی کو خامی کے طور پر شمار کیا گیا ہے،تمام ماہرین گرچہ اس پر متفق نہیں،بعض مقامات پر یہ حسن میں اضافہ کرتی ہے اور کچھ جگہوں پر بار محسوس ہوتی ہے )تکرار لفظی قبیح(
سامنے یار کے کمرے کے بنایا کمرہ
در جو توڑا تو اسی در کے مقابل توڑا
پہلے مصرعہ میں کمرہ کی تکرار گراں گذرتی ہے جبکہ دوسرے میں توڑا کی تکرار بھلی محسوس ہوتی ہے
“نے” کا غلط استعمال: “میں نے جانا ہے” کی جگہ “مجھے جانا ہے” درست ہے یا پھر “یہ آواز میں نے پہچانی ہوئی ہے” کی بجائے “یہ آواز میری پہچانی ہوئی ہے” درست ہو گا
ہندی الفاظ کے ساتھ فارسی تراکیب: بعض احباب ہندی الفاظ کے ساتھ فارسی الفاظ زبردستی جوڑ دیتے ہیں جیسے چیخ و پکار غلط ہے،اس کی بجائے چیخ پکار آنا چاہیے،اہلِ دھن غلط ہے،درست ترکیب اہلِ زر ہو گی،دن بہ دن غلط ہے،اس کی بجائے روز بہ روز ہونا چاہیے،برس ہا برس غلط ہے،صحیح ترکیب سال ہا سال ہو گی وغیرہ
عیوبِ قافیہ: قافیہ کا آخری حرف روی کہلاتا ہے۔۔۔۔روی سے پچھلے حرف پر کوئی حرکت )زیر،زبر،پیش( ہوگی،تمام قوافی میں یکساں روی کا آنا بھی ضروری ہے اور روی سے پچھلے حرف کی حرکت کا یکساں ہونا بھی ضروری ہے۔’’آسماں،بادباں،رائیگاں‘‘ تو قافیے ہیں مگر ’’خدا،سلسلہ،نگاہ‘‘ وغیرہ ان کے قافیے نہیں ہیں۔اسی طرح’’محفل،قاتل،دل ‘‘تو قافیے ہیں مگر’’ہلچل،بلبل وغیرہ‘‘ ان کے قافیے نہیں ہیں۔’’حور، دستور،نور‘‘تو قافیے ہیں مگر’’ مَوْرْ،شور،زور وغیرہ‘‘ ان کے قافیے نہیں ہیںْ
استثناء: اگر شاعر نے غزل کا مطلع اس طرح لکھا ہے کہ پہلے مصرعہ میں” سلسلہ “ہے اور دوسرے مصرعہ میں “رتجگا” کا قافیہ آیا ہے تو پھر یہ پیٹرن آخر تک چل سکتا ہے اور قابلِ قبول ہو گا۔
مندرجہ بالا عوامل کے علاوہ بھی بہت سے ایسے عناصر ہیں جو کلام میں حسن پیدا کرتے ہیں۔جن کو ایک مختصر مضمون میں سمیٹنا ممکن نہیں۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker