کوئٹہ : ’یہاں میدان جنگ تیار ہو رہا ہے، جنگ ہو گی جو پورے بلوچستان میں پھیل جائے گی۔۔۔ دو فلیش پوائنٹس ہوں گے ایک ڈیرہ بگٹی اور دوسرا گودار۔ میرے الفاظ یاد رکھنا۔۔۔‘
نواب اکبر بگٹی نے آج سے 19 سال قبل یعنی 26 اگست 2006 کو ایک فوجی آپریشن کے نتیجے میں اپنی ہلاکت سے کچھ عرصہ قبل یہ پیش گوئی اس وقت کی تھی جب سینیئر سیاستدان مشاہد حسین اُن سے ملنے گئے تھے۔ مشاہد حسین اُس پارلیمانی کمیٹی کا حصہ تھے جس نے نواب اکبر بگٹی کے ساتھ مذاکرات کیے تھے۔
نواب اکبر بگٹی کی یہ پیشگوئی بظاہر آج ایک کربناک حقیقت بن چکی ہے۔ اُن کی موت نے بلوچستان میں ایک ایسی شورش کو جنم دیا جو آج شدت اختیار کر چکی ہے۔ بلوچستان میں اگست وہ مہینہ بن چکا ہے جس میں سب سے زیادہ عسکریت پسندی کی کارروائیاں اور دھماکے ہوتے ہیں، چاہے وہ قیام پاکستان کا دن 14 اگست ہو، جس کی اکبر بگٹی نے حمایت کی تھی، یا اُن کی برسی کا دن یعنی 26 اگست: گوادر اور ڈیرہ بگٹی سمیت بلوچستان کی بلوچ آبادی والے ہر علاقے میں یہ گونج سنائی دیتی ہے۔
مسلم لیگی رہنما مشاہد حسین، جو نواب اکبر بگٹی کے ساتھ مذاکرات میں شریک تھے، اس سے اتفاق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’بلوچستان کے موجودہ بحران اور چپقلش کی جڑ نواب اکبر خان بگٹی کا قتل ہے۔‘
سوئی گیس کی رائلٹی اور ڈاکٹر شازیہ خالد کے مبینہ ریپ کے معاملات پر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں ریاست کی نواب اکبر بگٹی سے کشیدگی پیدا ہوئی، جس نے آگے چل کر تصادم کی شکل اختیار کی۔ اگرچہ اس کشیدگی کی روک تھام کے لیے مذاکراتی کمیٹیاں بنائی گئیں، لیکن یہ ناکام ہوئیں۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

