Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعرات, جنوری 22, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • "عشق آباد سے اشک آباد” درد کی داستان : محمد عمران کا کتاب کالم
  • گل پلازہ میں ایک دکان سے 30 لاشیں برآمد، تعداد 61 ہوگئی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے : فی تولہ سونا پانچ لاکھ روپے سے بھی مہنگا
  • "اعتراف” سے کچھ سبق ، ضیاء نے بھٹو حکومت کیوں ختم کی ؟ نصرت جاوید کا کالم
  • گل پلازہ میں آتشزدگی ، ہمارے شہرسے ہوکردھواں گزرتا ہے : وجاہت مسعود
  • سرخ گلابوں کے موسم میں ۔۔ ڈاکٹر خدیجہ وکیل کی نثری نظم
  • گل پلازہ کے 26 میں سے 24 دروازے بند تھے : 28 لاشیں برآمد، 81 افراد لاپتا
  • قتل کے مقدمے میں عمر قید پانے والے کو سپریم کورٹ نے 15 برس بعد بری کر دیا
  • ایران کے ’روپوش‘ رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کا انجام کیا ہو گا ؟
  • گل پلازہ آتش زدگی اور فائر بریگیڈ اہلکار کی ماں کے آنسو : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»تجزیے»پاکستان کے گرگٹ اور سانحہ جعفر ایکسپریس : حامد میر کا تجزیہ
تجزیے

پاکستان کے گرگٹ اور سانحہ جعفر ایکسپریس : حامد میر کا تجزیہ

رضی الدین رضیمارچ 13, 202572 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
jaffar express coffins
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

یہ 24مئی 1998ءکا واقعہ ہے گوادر ایئر پورٹ سے پی آئی اے کا ایک فوکر جہاز کراچی کیلئے روانہ ہوا۔ جہاز کے فضاء میں بلند ہونے کے تھوڑی دیر بعد تین مسافروں نے اسلحہ نکال کر جہاز کا رخ نئی دہلی کی طرف موڑنے کا حکم دیا۔ جہاز کے کپتان عذیر خان نے ہائی جیکروں کو بتایا کہ اس کے پاس ایندھن بہت کم ہے وہ نئی دہلی تک نہیں جا سکتا۔ ہائی جیکروں کے پاس ایک نقشہ تھا اور وہ نقشے کی مدد سے کوئی ایسا بھارتی ایئر پورٹ تلاش کر رہے تھے جہاں یہ فوکر جہاز لینڈ کر سکتا تھا۔ جہاز میں 33مسافر اور عملے کے پانچ افراد موجود تھے عذیر خان نے ہائی جیکروں کو بتایا کہ وہ جہاز کو بھارتی گجرات کے بھوج ایئرپورٹ پر اتار سکتا ہے۔ ہائی جیکروں نے صلاح مشورے کے بعد اسے بھوج کی طرف جانے کی اجازت دیدی۔ ایک ہائی جیکر کاک پٹ میں کپتان کےساتھ موجود تھا اور دو ہائی جیکروں نے مسافروں پر اسلحہ تان رکھا تھا کپتان نے کچھ دیر کیلئے جہاز کو فضاء میں گھمایا اور وہ شام کے سائے گہرے ہونے کا انتظار کرتا رہا۔ پھر اس نے ہائی جیکروں کو نقشے کی مدد سے بتایا کہ وہ پاکستان کی حدود سے نکل کر بھارت میں داخل ہو گیا ہے پھر کپتان نے انگریزی میں بھوج ایئر پورٹ کا نام لیکر بتایا کہ اس کا جہاز اغوا ہو چکا ہے اس لئے وہ بھوج میں لینڈ کرنا چاہتا ہے۔ کنٹرول ٹاور نے فوری طور پر کپتان کو کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ کپتان نے یہ پیغام بھوج ایئر پورٹ کو نہیں بلکہ پاکستان کے شہر حیدر آباد کے ایئر پورٹ کو دیا تھا۔
حیدر آباد ایئر پورٹ کے عملے نے عقلمندی کا مظاہرہ کیا اور کپتان کو لینڈ کرنے کی اجازت دیدی۔ کپتان نے حیدرآباد ایئر پورٹ کے رن وے پر لینڈ کیا اور جہاز کو عمارت کے قریب لیجانے کی بجائے کافی فاصلے پر کھڑا کر دیا تاکہ پتہ نہ چلے کہ جہاز کون سے ایئر پورٹ پر آیا ہے۔ رات ہو چکی تھی اور ایئر پورٹ کے عملے نے مرکزی عمارت کی روشنیاں بجھا دیں تاکہ ایئر پورٹ پر کوئی تحریر پڑھ کر ہائی جیکر اندازہ نہ لگا سکیں کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ ایئر پورٹ کے عملے نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ ایس ایس پی حیدر آباد اختر گورچانی اور ایک نوجوان اے ایس پی عثمان انور ایئرپورٹ پر پہنچ گئے۔ ان دونوں نے فوری طور پر حیدر آباد کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ شہر کی مساجد سے لاؤڈ سپیکر پر کوئی اذان نہ دی جائے کچھ دیر کے بعد ہائی جیکروں نے جہاز کے انجینئر کے ذریعے پیغام بھیجا کہ وہ بابا جان کے آدمی ہیں اور انڈیا کے زی ٹی وی کو انٹرویو دینے کیلئے تیار ہیں۔ اختر گورچانی اور عثمان انور نے فیصلہ کیا کہ کراچی سے کمانڈوز کے آنے کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ خود ہی کوئی حکمت عملی ترتیب دی جائے۔ اختر گورچانی نے سویلین ڈریس پہن لیا اور وہ بھوج ایئر پورٹ کے مینجر منوج کمار جبکہ عثمان انور اسسٹنٹ مینجر رام چندر بن گئے۔ گرمی بہت زیادہ تھی ہائی جیکروں نے پانی مانگا تو یہ دونوں پولیس افسر پانی کی بوتلیں لیکر خود جہاز کے پاس چلے گئے۔ ہائی جیکروں نے پانی لے لیا اور زی ٹی وی کے متعلق پوچھنے لگے اختر گورچانی اور عثمان انور کو سمجھ آ چکی تھی کہ تینوں ہائی جیکر بلوچ علیحدگی پسند ہیں اور انہوں نے بھارتی خفیہ ادارے را کی ملی بھگت سے جہاز اغوا کیا ہے۔ چند دن قبل بھارت نے پوکھران میں ایٹمی دھماکہ کیا تھا اور اب پاکستان بھی جوابی ایٹمی دھماکے کرنے کی تیاری میں مصروف تھا۔ بھارت نے پاکستان کو بلیک میل کرنے کیلئے تین بلوچ نوجوانوں کو استعمال کیا اور پی آئی اے کا ہوائی جہاز اغواء کرا دیا۔ عثمان انور نے ہائی جیکروں کو رام چندر بن کر بتایا کہ زی ٹی وی کے پاس بھوج میں کوئی کیمرہ مین نہیں ہے اس لئے زی ٹی وی کی ٹیم نئی دہلی سے آ رہی ہے۔ اس دوران عثمان انور کو پتہ چل گیا کہ ہائی جیکروں کے پاس کوئی ہینڈ گرنیڈ نہیں ہے صرف دو پسٹل ہیں پھر رینجرز کا ایک میجر عامر ہاشمی کھانا لیکر جہاز کے پاس آ گیا اور کچھ دیر کے بعد منوج کمار، رام چندر اور عامر ہاشمی نے تینوں ہائی جیکروں پر حملہ کر کے انہیں دبوچ لیا۔ دھینگا مشتی میں ہائی جیکروں نے ایک فائر کیا جو ان کے اپنے ساتھی کولگ گیا۔ عثمان انور زخمی ہو گئے لیکن اس دوران مزید کمک آ گئی اور تینوں ہائی جیکر گرفتار ہو گئے۔ یہ آپریشن مکمل ہوا تو ایک ایئر ہوسٹس نے شور مچا دیا کہ اسے پاکستان واپس بھیجا جائے جب اسے بتایا گیا کہ گھبراؤ نہیں تم پاکستان میں ہی ہو تو وہ خوشی سے رونے لگی۔ ان ہائی جیکروں کا سرغنہ شہسوار بلوچ تھا اس کے دو ساتھی صابر بلوچ اور شبیر رند بی ایس او سے تعلق رکھتے تھے۔ ان تینوں نے گوادر ایئر پورٹ پر اے ایس ایف کے ایک اہلکار کی ملی بھگت سے اسلحہ جہاز میں سمگل کیا اورتینوں جعلی ناموں سے جہاز میں سفر کر رہےتھے۔
28مئی 1998ء کو پاکستان ایٹمی طاقت بن گیا ان تینوں کو 28مئی 2015ء کو پھانسی دیدی گئی۔ اختر گورچانی بعد میں انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ بنے اور ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست میں آ گئے۔ عثمان انور آج کل آئی جی پنجاب ہیں بلوچ علیحدگی پسندوں نے 1998ء میں ہوائی جہاز اغواء کیا لیکن اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکے۔ مارچ 2025ء میں انہوں نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی ایک ٹرین کو اغواء کیا ہے۔ ٹرین کے اغواء اور قتل وغارت سے بھی بلوچوں کیلئے خیر نہیں نکلے گی لیکن 1998ء اور 2025ء میں کافی فرق ہے۔ 1998ء میں دو پولیس افسروں نے اسلحے کے بغیر تین مسلح ہائی جیکروں پر قابو پالیا تھا۔ 2025ء میں پاکستان ایک ایٹمی طاقت بن چکا ہے۔ ہائی جیکروں نے ٹرین اغواء کر کے دنیا کو یہ تو بتا دیا کہ بلوچستان کے حالات بہت خراب ہو چکے ہیں لیکن تشدد اور قتل وغارت کے ذریعہ وہ آج بھی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتے۔ ٹرین ہائی جیک کرنیوالوں پر قابو پانے کیلئے ریاستی اداروں نے کافی جانی نقصان اٹھایا۔ اس ہولناک واقعے نے ہمیں وزیر داخلہ محسن نقوی کا وہ بیان یاد دلایا ہےکہ ’بلوچ دہشت گرد ایک ایس ایچ او کی مار ہیں‘۔ ان سے گزارش ہے کہ وفاقی کابینہ اور پارلیمینٹ میں موجود بلوچوں سے آف دی ریکارڈ پوچھ لیں کہ بلوچستان کے حالات کیا ہیں؟ بلوچستان میں پہلی دفعہ ٹرین پر فائرنگ نہیں ہوئی ٹرینوں پر حملے نواب نوروز خان زرکزئی کی گرفتاری اور جیل میں موت کے بعد شروع ہوئے۔ اکبر بگٹی کی 2006ء میں شہادت کے بعد ٹرینوں پر حملوں میں مزید شدت آئی اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے ۔آج بلوچستان میں ویسے ہی حالات ہیں جو 1973ء میں تھے 1973ء میں وفاقی وزیر داخلہ خان عبدالقیوم خان نے عراقی سفارتخانے سے اسلحہ برآمد کیا اور بلوچستان میں نیپ کی منتخب حکومت کو ملک کیخلاف سازش کا الزام لگا کر برطرف کرا دیا۔ اکبر بگٹی کو گورنر بنا کر فوجی آپریشن شروع کیا گیا اور سپریم کورٹ کے ذریعہ نیپ پر پابندی لگا دی گئی۔ پیپلز پارٹی نے جام غلام قادر کے ساتھ مل کر صوبے میں حکومت بنا لی۔
ستم ظریفی دیکھئے کہ نہ تو نیپ پر پابندی لگوانے والے ذوالفقار علی بھٹو پر کسی نے رحم کیا اور نہ انکا ساتھ دینے والے اکبر بگٹی کو کسی جرنیل نے قبول کیا۔ جام غلام قادر جنرل ضیاء کی مدد سے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ بن گئے انکے برخوردار جام یوسف جنرل مشرف کی مدد سے وزیر اعلیٰ بنے اور انکے پوتے جام کمال کو جنرل باجوہ نے وزیر اعلیٰ بنوایا۔ آج پھر بلوچستان پر پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور حالات آپ کے سامنے ہیں بلوچستان میں بھارت کی سازشوں سے کسی کو انکار نہیں لیکن کیا گرگٹ کی طرح اپنے سیاسی رنگ بدلنے والے سیاست دان بلوچستان کے حالات سدھار پائیں گے؟
( بشکریہ : روزنامہ جنگ)
یہ 24مئی 1998ءکا واقعہ ہے گوادر ایئر پورٹ سے پی آئی اے کا ایک فوکر جہاز کراچی کیلئے روانہ ہوا۔ جہاز کے فضاء میں بلند ہونے کے تھوڑی دیر بعد تین مسافروں نے اسلحہ نکال کر جہاز کا رخ نئی دہلی کی طرف موڑنے کا حکم دیا۔ جہاز کے کپتان عذیر خان نے ہائی جیکروں کو بتایا کہ اس کے پاس ایندھن بہت کم ہے وہ نئی دہلی تک نہیں جا سکتا۔ ہائی جیکروں کے پاس ایک نقشہ تھا اور وہ نقشے کی مدد سے کوئی ایسا بھارتی ایئر پورٹ تلاش کر رہے تھے جہاں یہ فوکر جہاز لینڈ کر سکتا تھا۔ جہاز میں 33مسافر اور عملے کے پانچ افراد موجود تھے عذیر خان نے ہائی جیکروں کو بتایا کہ وہ جہاز کو بھارتی گجرات کے بھوج ایئرپورٹ پر اتار سکتا ہے۔ ہائی جیکروں نے صلاح مشورے کے بعد اسے بھوج کی طرف جانے کی اجازت دیدی۔ ایک ہائی جیکر کاک پٹ میں کپتان کےساتھ موجود تھا اور دو ہائی جیکروں نے مسافروں پر اسلحہ تان رکھا تھا کپتان نے کچھ دیر کیلئے جہاز کو فضاء میں گھمایا اور وہ شام کے سائے گہرے ہونے کا انتظار کرتا رہا۔ پھر اس نے ہائی جیکروں کو نقشے کی مدد سے بتایا کہ وہ پاکستان کی حدود سے نکل کر بھارت میں داخل ہو گیا ہے پھر کپتان نے انگریزی میں بھوج ایئر پورٹ کا نام لیکر بتایا کہ اس کا جہاز اغوا ہو چکا ہے اس لئے وہ بھوج میں لینڈ کرنا چاہتا ہے۔ کنٹرول ٹاور نے فوری طور پر کپتان کو کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ کپتان نے یہ پیغام بھوج ایئر پورٹ کو نہیں بلکہ پاکستان کے شہر حیدر آباد کے ایئر پورٹ کو دیا تھا۔
حیدر آباد ایئر پورٹ کے عملے نے عقلمندی کا مظاہرہ کیا اور کپتان کو لینڈ کرنے کی اجازت دیدی۔ کپتان نے حیدرآباد ایئر پورٹ کے رن وے پر لینڈ کیا اور جہاز کو عمارت کے قریب لیجانے کی بجائے کافی فاصلے پر کھڑا کر دیا تاکہ پتہ نہ چلے کہ جہاز کون سے ایئر پورٹ پر آیا ہے۔ رات ہو چکی تھی اور ایئر پورٹ کے عملے نے مرکزی عمارت کی روشنیاں بجھا دیں تاکہ ایئر پورٹ پر کوئی تحریر پڑھ کر ہائی جیکر اندازہ نہ لگا سکیں کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ ایئر پورٹ کے عملے نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ ایس ایس پی حیدر آباد اختر گورچانی اور ایک نوجوان اے ایس پی عثمان انور ایئرپورٹ پر پہنچ گئے۔ ان دونوں نے فوری طور پر حیدر آباد کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ شہر کی مساجد سے لاؤڈ سپیکر پر کوئی اذان نہ دی جائے کچھ دیر کے بعد ہائی جیکروں نے جہاز کے انجینئر کے ذریعے پیغام بھیجا کہ وہ بابا جان کے آدمی ہیں اور انڈیا کے زی ٹی وی کو انٹرویو دینے کیلئے تیار ہیں۔ اختر گورچانی اور عثمان انور نے فیصلہ کیا کہ کراچی سے کمانڈوز کے آنے کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ خود ہی کوئی حکمت عملی ترتیب دی جائے۔ اختر گورچانی نے سویلین ڈریس پہن لیا اور وہ بھوج ایئر پورٹ کے مینجر منوج کمار جبکہ عثمان انور اسسٹنٹ مینجر رام چندر بن گئے۔ گرمی بہت زیادہ تھی ہائی جیکروں نے پانی مانگا تو یہ دونوں پولیس افسر پانی کی بوتلیں لیکر خود جہاز کے پاس چلے گئے۔ ہائی جیکروں نے پانی لے لیا اور زی ٹی وی کے متعلق پوچھنے لگے اختر گورچانی اور عثمان انور کو سمجھ آ چکی تھی کہ تینوں ہائی جیکر بلوچ علیحدگی پسند ہیں اور انہوں نے بھارتی خفیہ ادارے را کی ملی بھگت سے جہاز اغوا کیا ہے۔ چند دن قبل بھارت نے پوکھران میں ایٹمی دھماکہ کیا تھا اور اب پاکستان بھی جوابی ایٹمی دھماکے کرنے کی تیاری میں مصروف تھا۔ بھارت نے پاکستان کو بلیک میل کرنے کیلئے تین بلوچ نوجوانوں کو استعمال کیا اور پی آئی اے کا ہوائی جہاز اغواء کرا دیا۔ عثمان انور نے ہائی جیکروں کو رام چندر بن کر بتایا کہ زی ٹی وی کے پاس بھوج میں کوئی کیمرہ مین نہیں ہے اس لئے زی ٹی وی کی ٹیم نئی دہلی سے آ رہی ہے۔ اس دوران عثمان انور کو پتہ چل گیا کہ ہائی جیکروں کے پاس کوئی ہینڈ گرنیڈ نہیں ہے صرف دو پسٹل ہیں پھر رینجرز کا ایک میجر عامر ہاشمی کھانا لیکر جہاز کے پاس آ گیا اور کچھ دیر کے بعد منوج کمار، رام چندر اور عامر ہاشمی نے تینوں ہائی جیکروں پر حملہ کر کے انہیں دبوچ لیا۔ دھینگا مشتی میں ہائی جیکروں نے ایک فائر کیا جو ان کے اپنے ساتھی کولگ گیا۔ عثمان انور زخمی ہو گئے لیکن اس دوران مزید کمک آ گئی اور تینوں ہائی جیکر گرفتار ہو گئے۔ یہ آپریشن مکمل ہوا تو ایک ایئر ہوسٹس نے شور مچا دیا کہ اسے پاکستان واپس بھیجا جائے جب اسے بتایا گیا کہ گھبراؤ نہیں تم پاکستان میں ہی ہو تو وہ خوشی سے رونے لگی۔ ان ہائی جیکروں کا سرغنہ شہسوار بلوچ تھا اس کے دو ساتھی صابر بلوچ اور شبیر رند بی ایس او سے تعلق رکھتے تھے۔ ان تینوں نے گوادر ایئر پورٹ پر اے ایس ایف کے ایک اہلکار کی ملی بھگت سے اسلحہ جہاز میں سمگل کیا اورتینوں جعلی ناموں سے جہاز میں سفر کر رہےتھے۔
28مئی 1998ء کو پاکستان ایٹمی طاقت بن گیا ان تینوں کو 28مئی 2015ء کو پھانسی دیدی گئی۔ اختر گورچانی بعد میں انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ بنے اور ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست میں آ گئے۔ عثمان انور آج کل آئی جی پنجاب ہیں بلوچ علیحدگی پسندوں نے 1998ء میں ہوائی جہاز اغواء کیا لیکن اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکے۔ مارچ 2025ء میں انہوں نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی ایک ٹرین کو اغواء کیا ہے۔ ٹرین کے اغواء اور قتل وغارت سے بھی بلوچوں کیلئے خیر نہیں نکلے گی لیکن 1998ء اور 2025ء میں کافی فرق ہے۔ 1998ء میں دو پولیس افسروں نے اسلحے کے بغیر تین مسلح ہائی جیکروں پر قابو پالیا تھا۔ 2025ء میں پاکستان ایک ایٹمی طاقت بن چکا ہے۔ ہائی جیکروں نے ٹرین اغواء کر کے دنیا کو یہ تو بتا دیا کہ بلوچستان کے حالات بہت خراب ہو چکے ہیں لیکن تشدد اور قتل وغارت کے ذریعہ وہ آج بھی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتے۔ ٹرین ہائی جیک کرنیوالوں پر قابو پانے کیلئے ریاستی اداروں نے کافی جانی نقصان اٹھایا۔ اس ہولناک واقعے نے ہمیں وزیر داخلہ محسن نقوی کا وہ بیان یاد دلایا ہےکہ ’بلوچ دہشت گرد ایک ایس ایچ او کی مار ہیں‘۔ ان سے گزارش ہے کہ وفاقی کابینہ اور پارلیمینٹ میں موجود بلوچوں سے آف دی ریکارڈ پوچھ لیں کہ بلوچستان کے حالات کیا ہیں؟ بلوچستان میں پہلی دفعہ ٹرین پر فائرنگ نہیں ہوئی ٹرینوں پر حملے نواب نوروز خان زرکزئی کی گرفتاری اور جیل میں موت کے بعد شروع ہوئے۔ اکبر بگٹی کی 2006ء میں شہادت کے بعد ٹرینوں پر حملوں میں مزید شدت آئی اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے ۔آج بلوچستان میں ویسے ہی حالات ہیں جو 1973ء میں تھے 1973ء میں وفاقی وزیر داخلہ خان عبدالقیوم خان نے عراقی سفارتخانے سے اسلحہ برآمد کیا اور بلوچستان میں نیپ کی منتخب حکومت کو ملک کیخلاف سازش کا الزام لگا کر برطرف کرا دیا۔ اکبر بگٹی کو گورنر بنا کر فوجی آپریشن شروع کیا گیا اور سپریم کورٹ کے ذریعہ نیپ پر پابندی لگا دی گئی۔ پیپلز پارٹی نے جام غلام قادر کے ساتھ مل کر صوبے میں حکومت بنا لی۔
ستم ظریفی دیکھئے کہ نہ تو نیپ پر پابندی لگوانے والے ذوالفقار علی بھٹو پر کسی نے رحم کیا اور نہ انکا ساتھ دینے والے اکبر بگٹی کو کسی جرنیل نے قبول کیا۔ جام غلام قادر جنرل ضیاء کی مدد سے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ بن گئے انکے برخوردار جام یوسف جنرل مشرف کی مدد سے وزیر اعلیٰ بنے اور انکے پوتے جام کمال کو جنرل باجوہ نے وزیر اعلیٰ بنوایا۔ آج پھر بلوچستان پر پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور حالات آپ کے سامنے ہیں بلوچستان میں بھارت کی سازشوں سے کسی کو انکار نہیں لیکن کیا گرگٹ کی طرح اپنے سیاسی رنگ بدلنے والے سیاست دان بلوچستان کے حالات سدھار پائیں گے؟
( بشکریہ : روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

اکبر بگٹی جعفر ایکسپریس حملہ
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleخالد مسعود خان کا کالم : میرے پاکستانی امریکی دوستوں کی مایوسی
Next Article سید مجاہد علی کاتجزیہ : بلوچستان دہشت گردی پر آئی ایس پی آر کی وضاحت اور جواب طلب سوالات
رضی الدین رضی
  • Website

Related Posts

بھنبھور ، کیچ سسی پنوں اور اکبر بگٹی : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد

اکتوبر 31, 2025

اکبر بگٹی ، بھٹو اور بلوچستان

اگست 28, 2025

26 اگست : نواب اکبر بگٹی کی 19 ویں برسی اور بلوچستان میں پھیلتی بد امنی

اگست 26, 2025

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • "عشق آباد سے اشک آباد” درد کی داستان : محمد عمران کا کتاب کالم جنوری 22, 2026
  • گل پلازہ میں ایک دکان سے 30 لاشیں برآمد، تعداد 61 ہوگئی جنوری 22, 2026
  • پاکستان میں سونے کی قیمت نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے : فی تولہ سونا پانچ لاکھ روپے سے بھی مہنگا جنوری 21, 2026
  • "اعتراف” سے کچھ سبق ، ضیاء نے بھٹو حکومت کیوں ختم کی ؟ نصرت جاوید کا کالم جنوری 21, 2026
  • گل پلازہ میں آتشزدگی ، ہمارے شہرسے ہوکردھواں گزرتا ہے : وجاہت مسعود جنوری 21, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.