ایک جیالے نے کل نئی وزیر مملکت برائے خارجہ امور محترمہ حنا ربانی کھر کی تصویر "بیوٹی” کے کیپشن کے ساتھ شیئر کی. مجھے یہ کیپشن بہت واہیات اور عجیب لگا کیونکہ یہ حرکت بی بی شہید کی جماعت کے کارکن یا حمایتی نے کی تھی. اگر وہ beautiful politician لکھ دیتے تو شاید بہتر ہوتا.
حنا کھر مظفر گڑھ کے جاگیردار گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں. وہ ریاستی اشرافیہ کا حصہ ہیں. ہمارا ان سے زبردست سیاسی اختلاف ہے. لیکن ہم خواتین کا احترام کرتے ہیں. ہمیں خواتین کو عزت اور احترام دینا ہو گا. جن جیالے صاحب نے حنا ربانی کھر کی تصویر کے ساتھ یہ کیپشن لگایا ہے کیا وہ بینظیر بھٹو کی تصویر کے ساتھ بھی یہی عنوان تحریر کریں گے؟ وہ شاید کہہ دیں کہ ہاں میں تو آصفہ کی تصویر کے ساتھ بھی یہی لکھوں گا. لیکن ان کی غیرت شاید اپنے اہل خانہ کی تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے ضرور جاگ جاتی ہو گی. بلکہ یہ ان کی تصاویر فیس بک پر لگانے کو بھی بےغیرتی سمجھتے ہوں گے. ایسے لوگ ہی دراصل بےغیرت جیالے، یوتھیے یا پٹواری ہیں.
یہ پوسٹ ضیاءالحق سنڈروم کا شکار نسلیں ہیں. منافقت، بدتمیزی، بدتہذیبی، عدم برداشت، تشدد، انتہاپسندی، جھوٹی حب الوطنی اور جھوٹی مذہبی اخلاقیات پچھلے چالیس برسوں میں ریاست نے ان کے جینیاتی مواد میں شامل کر دی ہیں. ان کا علاج صرف اور صرف انہیں سیاسی، سماجی، معاشی اور طبقاتی شعور اور تعلیم و تربیت دینے سے ممکن ہے. ہمیں اس معاشرے کے سماجی تانے بانے (Social Fabric) کو ہی بدلنا ہو گا. اس کے لیے ایک طویل، صبرآزما اور مشکل طبقاتی جدوجہد کی ضرورت ہے. ہر ظلم اور فاشسٹ اقدام کے خلاف مزاحمت کی جائے گی. ظالموں، جابروں، سرمایہ داروں اور فاشسٹوں کی ناک میں دم کر دیا جائے گا. ہر قدم پر "ناک میں دم تحریک” چلائی جائے گی، آواز اٹھائی جائے گی، رات بھر انہیں مزاحمتی چمونے تنگ کیا کریں گے، ان کی نیندیں حرام کر دی جائیں گی.
فیس بک کمینٹ

