عمار غضنفرکالملکھاری

طوفانی شادی کے بعد روحانی یعنی عمرانی شادی ۔۔ عمار غضنفر

ہمارے ایک مذہبی رجحان، تبلیغی ہیجان اور جنسی معاملات کی جانب معمول سے کچھ زیادہ میلان رکھنے والے دفتر کے ساتھی کا دعویٰ تھا کہ ان کی عمرِ رفتہ متعدّد رنگین وارداتوں کی امین ہے۔ ہمارے کنوارپنے کا زمانہ تھا اور جب بھی ہماری دوستوں کی محفل میں ایسا کوئی رنگین قصّہ چھڑ جاتا تو ان کی دلچسپی دیدنی ہوتی۔ ان کے باریش چہرے پر ایک دبی دبی مسکراہٹ نمودار ہوتی اور وہ آنکھوں میں چمک لیے گویا ہوتے ” ہم نے بھی ہتھیار رکھ تو دیے ہیں مگر چلانا نہیں بھولے”۔ اپنے عمران خان صاحب نے عمر کے اس حصّے میں بھی نہ تو ہتھیار رکھے ہیں اور نہ ہی ہاتھ میں لرزش آنے دی ہے، بلکہ تجربہ کار شکاریوں کی صفِ اولیٰ میں شامل نظر آتے ہیں، مگر کیا کِیا جائے کہ ہر رومانوی مہم جوئی کے دوران ان کے اندر کا ٹین ایجر شرارت سے باز نہیں آتا ان کی یہ معصومانہ شرارتیں عوام الناس کے لیے تفریحِ طبع کا نیا سامان مہیا کرنے کا باعث بنتی ہیں۔
گھر بسانے کی خواہش انسانی فطرت کا تقاضا بھی ہے اور اپنی پسند کا جیون ساتھی چننا شرعی اور قانونی حق بھی۔ اب اگر اپنے انٹرویو کے لیے آنے والی خوش شکل صحافی خاتون سے پہلی نظر کی محبت ہو یا پھر پیری مریدی کے روحانی تعلق میں ایکسٹرا میریٹل افئیر کی چاشنی ہو، اسے خان صاحب کی معصوماً شرارت سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ مخالفین کو تو بس انگلی اٹھانے کا موقع چاہیے۔
عمران خان صاحب نے ایک طوفانی شادی کے ناکام ہو جانے کے بعد اب ایک روحانی یعنی عمرانی شادی کی نئی روایت ڈالی ہے۔ شنید ہے کہ روحانیت سے خان صاحب کو ہمیشہ سے شغف رہا ہے مگران کا میلان تصوف کے روایتی سلاسل کی بجائے ماڈرن قسم کی روحانی شخصیات کی جانب رہا ہے۔ بشریٰ بی بی سے قبل خان صاحب کی نظرِ التفات پروفیسر احمد رفیق اختر پر تھی، جن کی بارگاہ میں جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی نذرانہء عقیدت پیش کیا کرتے تھے۔ عمران خان کے دھرنا پارٹ ون کے دوران پروفیسر صاحب کا یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ جب عمران خان کے قافلے کو لاہور سے باہر نکلنے سے روک دیا گیا تھا تو پروفیسر صاحب نے ہی اپنے اثر و رسوخ سے کام لے ان کی راہ کی رکاوٹیں دور کی تھیں۔ مگر نامعلوم وجوہات کی بناء پر خان صاحب اور پروفیسر صاحب کی دوریاں بڑھنے لگیں۔ شاید یہ بشریٰ بی بی کی روحانیت ہی کا کرشمہ ہو۔
بشریٰ بی بی کی اپنے سابقہ شوہر سے علیحدگی اہلِ اسلام کی تاریخ میں شاید پہلی ایسی طلاق ہو گی جس کا باعث روحانی وجوہات تھیں۔ امید ہے کہ آئیندہ عدالتوں میں دائر خلع کے مقدمات کی سماعت کے دوران معزز جج صاحبان روحانی وجوہات کو بھی ایک مضبوط دلیل کے طور پر تسلیم کیا کریں گے۔ اور علماء کرام بھی اس ضمن میں اجتہاد کرنے کی سعادت سے بہرہ مند ہو سکیں گے۔
جتنے منہ اتنی باتوں کے مصداق یار لوگ یہ بھی پھبتی کسنے لگے تھے کہ خان صاحب وزیرِ اعظم بننے کے لیے شیروانی سلواتے ہیں اور اس بارے میں مایوس ہونے پر یہی شیروانی شادی میں استعمال کر لیتے ہیں۔ لیجیے بھلا خان صاحب کو شیروانیوں کی کوئی کمی ہے۔ پھر بھی اس مرتبہ مخالفین کا منہ بند کرنے کے لیے خان صاحب نے دولہا بنتے وقت کوٹ زیبِ تن فرمایا ہے تاکہ سند رہے کہ وہ اس الیکشن میں بھی وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار بلکہ حق دار ہیں۔
دوسری جانب عمر چیمہ صاحب عمران خان کی جانب سے نکاح کے باقاعدہ اعلان کے بعد بھی اس بات پر مصر ہیں کہ یہ نکاح حقیقتاً یکم جنوری کو انجام پایا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ خبر بریک کرتے وقت جس نکاح خواں، جن گواہان اور باراتیوں کا ذکر کیا تھا، جاری کردہ تصویر میں کسی انیس بیس کے فرق کے بغیر بعینہ وہی افراد دیکھے جا سکتے ہیں۔ بال کی کھال اتارنا توکوئی ان صحافیوں سے سیکھے۔ اب کیا آپ خود کو اس قدر اہم تصور کرنے لگے کہ آپ کو غلط ثابت کرنے کی خاطر خان صاحب نکاح خواں اور گواہوں کو تبدیل کردیں۔
دیکھنا یہ ہے کہ نئی نویلی دلہن کی روحانی طاقتیں آئیندہ الیکشن میں خان صاحب کی کس قدر مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ فی الحال تو آثار کچھ اتنے اچھے نظر نہیں آتے۔ اور دیکھنا تو یہ بھی ہے کہ ازدواجی زندگی میں خان صاحب کی شوہرانہ ہیبت غالب آتی ہے یا کہ مریدانہ عقیدت بازی لے جاتی ہے۔ چاہے جو بھی ہو مگر ہماری دعا ہے کہ یہ شادی نہ صرف خان صاحب کی حتمی اور قطعی آخری شادی ثابت ہو بلکہ ان کے روحانی مدارج میں ترقی کا باعث بھی بنے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker