عمار غضنفرکالملکھاری

ضمیر کے ووٹ ، پیسے کے ووٹ اور دلہنیا کے مؤکل ۔۔ عمار غضنفر

سینیٹ الیکشن کا غوغا ختم ہونے کے بعد ہارس ٹریڈنگ کا غلغلہ مچا ہے۔ تقریباً سب بڑی سیاسی جماعتیں اپنے اراکین ِ اسمبلی کی ضمیر فروشی سے شاکی ہیں اور ووٹ کی خرید و فروخت کا رونا روتی نظر آتی ہِیں۔ ہارس ٹریڈنگ اور فلور کراسنگ کی اصطلاحات سیاسی لغت میں دشنام کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ہم لوگ مقامی طور پر ان کے متبادل کے طور پر “لوٹے” اور “لفافے” جیسی دیسی اصطلاحات استعمال کر کے مزہ دوبالا کرتے ہیں۔ عموماً ایسے الزامات ہار جانے والی جماعتوں کی جانب سے سامنے آیا کرتے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ان الیکشنز میں ہار جانے والی سیٹوں کی بابت تو سیاسی راہنماء اپنے اراکین کے ووٹ خریدے جانے کا واویلا کرتے نظر آتے ہیں مگر جن نشستوں پر ان کے امیدواروں کو غیرمتوقع کامیابی نصیب ہوئی ہے ان کے متعلق کوئی بھی ایسا الزام تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔ یہاں میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو والی ضرب المثل صادق آتی ہے۔


” مصدقہ طور پر ایمان دار اور شفاف جماعت ” پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ کے۔ پی۔ کے سے متوقع نتائج نہ ملنے پر حسبِ سابق برہم نظر آئے اور اپنے اراکینِ اسمبلی کے ووٹ خریدے جانے سے متعلق تحقیقات کے لیے کمیٹی کے قیام کا مژدہ سنایا۔ ہم اس اعلان کو فقط ان کی کسرِ نفسی پر قیاس کرتے ہیں وگرنہ یہ سب کچا چٹھا کھولنے کے لیے تو ان کی نئی نویلی دلہنیا کے مؤ کل ہی کافی تھے۔ اس قدر تردّد کی کیا ضرورت تھی۔ لگتا ہے ابھی خان صاحب کو ہنی مون پیریڈ ختم نہیں ہوا۔ اگر ہنی مون واقعی یکم جنوری سے جاری ہے تو اس کی طوالت متاثر کن ہے۔ خان صاحب کا سینیٹ الیکشن میں ووٹ ڈالنے نہ آنا بھی ان کی مریدانہ سعادت مندی کا ہی شاخسانہ سمجھا جا سکتا ہے۔
ادھر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ محترم چوہدری سرور صاحب پنجاب اسمبلی میں پی۔ ٹی ۔آئی اراکین کی مطلوبہ تعداد میسر نہ ہونے کے باوجود پنجا ب سے میدان مار گئے۔ جہاں حکمران جماعت کے لیے یہ امر باعثِ حیرت تھا وہاں تحریک انصاف کے راہنماء اس ضمن میں جشن مناتے ہوئے پائے گئے۔ اب چودھری سرور کو یہ ایکسٹرا ووٹ کیسے ملے اس پر بھی چند عاقبت نا اندیش لگے انگلیاں اٹھانے۔ کل ایک چینل پر ٹاک شو کے دوران جناب چودھری سرور صاحب بدخواہوں کی اس الزام تراشی کا ایسا منہ توڑ جواب دیتے نظر آئے کہ ان کی فہم اور سیاسی بصیرت کا قائل ہوتے ہی بنی۔


جناب چودھری صاحب نے اینکر کے چبھتے ہوئے سوالوں پر ایک معصومانہ ادا کے ساتھ فرمایا کہ دیکھیں ایک ہوتا ہے ضمیر کا ووٹ اور ایک ہوتا ہے پیسے کا ووٹ۔ اب جو ووٹ پنجاب اسمبلی کے ن لیگ کے اراکین نے چوہدری صاحب کی نذر کیے وہ ٹھہرے ضمیر کے ووٹ، اور جو ووٹ کے ۔ پی ۔ کے میں تحریکِ انصاف کے اراکینِ اسمبلی نے اپنی پارٹی کے امیدوار کی بجائے پی۔ پی۔ پی کے امیدوار کو دیے وہ ہوئے پیسے کے ووٹ۔ اور بقول سرور صاحب ویسے بھی یہ ن لیگ کے حما یت یافتہ آزاد اراکین جلد ہی تحریکِ انصاف میں شمولیت کا اعلان کرنے کو ہیں، تو کیا مضائقہ ہے کہ انہوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ووٹ سرور صاحب کی نذر کر دیے۔ البتہ چودھری سرور صاحب یہ اس امر کی وضاحت کرنے سے قاصر نظر آئے کہ اگر کوئی رکن اپنی پارٹی، جس کے ٹکٹ پر منتخب ہو کر رکنِ اسمبلی بنا ہو، اس کی مرضی کے خلاف حقِ رائے دہی کا استعمال کرے تو کیا اسے ہی فلور کراسنگ نہیں کہتے؟ اور اس معاملے پر گستاخ اینکر عائشہ گلالئی کی مثال لے آیا اور حوالہ دینے لگا تحریکِ انصاف کی جانب سے عائشہ گلالئی کی رکنیت اس بنیاد پر ختم کرنے کی الیکشن کمیشن میں دائر درخواست کا۔ چودھری سرور صاحب بھی ٹھہرے جہاں دیدہ بندے۔ انہوں نے آنکھوں میں حیرت بھر کر اینکر کی جانب دیکھا اور گوہا ہوئے “یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں عباسی صاحب۔ یعنی آپ پنجاب کا موازنہ خیبر پختونخواہ سے کر رہے ہیں۔ عباسی صاحب یقیناً ایک مرتبہ تو اپنی اس حماقت پر دل ہی دل میں نادم تو ضرور ہوئے ہوں گے۔
ذہن میں مگر ایک نادان سا سوال ابھرتا ہے کہ عمران خان صاحب نے تو جنرل الیکشن کے دوران ایماندار اور شفاف لوگوں کو آگے لانے کا نعرہ بلند کیا تھا۔ تو کے۔ پی۔ کے اسمبلی کے یہ اراکین جو کہ بقول خان صاحب کے بِک گئے، انہیں کس۔میرٹ کے تحت آگے لایا گیا تھا؟ دوسری جانب ایم۔ کیو۔ ایم کو کامران ٹیسوری لے ڈوبا، مگر حسبِ دستور وہاں سے بھی اپنے اراکین کے بِک جانے کا راگ سنائی دیتا ہے۔ آج کی خبروں کے مطابق ایم۔ کیو۔ ایم کی ایک رکنِ اسمبلی ان طعنوں کے باعث شدید ڈپریشن کا شکار ہو کر اسپتال میں داخل ہو چکی ہیں۔ ادھر حکمران جماعت اپنے حمایت یافتہ آزاد حیثیت سے سینیٹ کا الیکشن لڑ کر کامیاب ہونے والے امیدواروں کی فتح پر شادیانے بجا رہی ہے اور پروفیسر آصف علی زرداری نے پھر سے ایسی ہاتھ کی صفائی دکھائی ہے کہ سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں۔
اب اگلا مرحلہ چئیرمین سینٹ کے انتخاب کا ہے جس بارے میں نت نئے نام سامنے آ رہے ہیں۔ مسلم لیگ کی جانب سے پرویز رشید کی نامزدگی کی افواہ بھی اڑی ہے مگر موجودہ حالت میں ایسا کوئی فیصلہ سراسر اقدامِ خودکشی تصور کیا جائے گا۔ بہرحال جوڑ توڑ تیزی سے جاری ہے اور دیکھیے قرعہء فال کس کے نام نکلتا ہے۔ سب الزامات اپنی جگہ مگر حقیقت یہ ہے کہ تمام تر افواہوں اور چند حلقوں کی دلی خواہش کے باوجود سینیٹ کے انتخابات بخیر و خوبی منعقد ہو چکے ہیں اور اب ہم جنرل الیکشن کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ دیکھیے حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں مگراپنی تمام تر خامیوں کے باوجود موجودہ سیاسی بندوبست اب بھی کسی نئے ایڈونچر سے بہتر ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker