عمار غضنفرکالملکھاری

مملکتِ پاکستان قدیم و جدید: ایک تقابلی جائزہ ۔۔عمار غضنفر

مؤ رخ لکھتا ہے کہ ریاستِ پاکستان کا جو ناک نقشہ ہم لوگ آج دیکھ رہے ہیں، اگلے زمانے میں یہ اس سے یکسر مختلف تھا۔ وہ زمانہ کہ گویا ایک گلجگ تھا۔ چوروں اور لٹیروں نے خزانے کی پہرے داری سنبھال رکھی تھی۔ انصاف کا منہ کالا تھا اور جھوٹ کا بول بالا تھا۔ صحافی “لفافی” تھے اور سر پر قرضوں کے بوجھ اضافی تھے۔ میڈیا شترِبے مہار تھا اورسلطانیء جمہور کے نام پر سجا لوٹ کا بازار تھا۔ بہت سے شوریدہ سر، سر اٹھائے پھرتے تھے۔ بجھتی آنکھیں سہانے مستقبل کی آس لگائے پتھرانے کو تھیں کہ لرزتے ہونٹوں کی دعائیں رنگ لے آئیں۔ چند گمنام مجاہدوں نے نئے پاکستان کی تعمیر کا بیڑا اٹھایا اور اس مقصد کے حصول کی خاطر کسی شاہین صفت رہنماء کی تلاش میں نظریں دوڑائیں۔ کوئلے کی اس کان میں چمکتے ایک ہیرے پر نظرِ انتخاب جا ٹھری۔ ان گمنام مجاہدوں کی مساعیء جمیلہ سے ایک نئے پاکستان کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ اب تخت گرائے جانے اور تاج اچھالے جانے کا وقت آ پہنچا تھا۔ بڑے بڑے برج الٹنے کو تھے۔ خوشیوں کے شادیانے بج اٹھے۔ ہر مرد و زن، پیر و جواں محوِ رقص ہوا کہ ظلمتوں کے اندھیرے چھٹنے اور نئی صبح کے آغاز کی نوید تھی۔



اب ہم نئے پاکستان کے باسی ہیں۔ راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ ہرسو خوشحالی کا دور دورہ ہے۔ تمام چور اور لٹیرے پابندِ سلاسل ہیں۔ جن کی رسی اب تک دراز ہے، وہ اپنی باری کے انتظار میں دن گنتے ہیں۔ جو انصاف کی چھتر چھایا میں آگیا، وہ امان پا گیا۔ پرانے پاکستان میں اپوزیشن سڑکوں پر رہتی تھی، نئے پاکستان میں اپوزیشن جیلوں میں رہتی ہے۔ پرانے پاکستان میں ہارس ٹریڈنگ ہوا کرتی تھی، اور وہ ہارس ٹریڈنگ ہی کہلاتی تھی۔ نئے پاکستان میں بھی ہارس ٹریڈنگ ہوتی ہے، مگر اب یہ “ضمیر کی آواز” کہلاتی ہے۔ معاشی ترقی کا یہ عالم ہے کہ اب ہمیں کشکول تھامے عالمی مالیاتی اداروں کے پاس جانے کی ضرورت نہیں رہی۔ اس کے برعکس اب عالمی مالیاتی اداروں کے ملازمین معاشیات کے اسرار و رموز جاننے کی خاطر ہماری وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بنک میں ملازمت کرنے پر مجبور ہیں۔ نیوز چینلز سیلف سنسرشپ کی افادیت کے قائل اور رپورٹرز “مثبت رپورٹنگ” کی جانب مائل ہیں۔ پرانے پاکستان میں ایمنٹسی اسکیم کا مقصد کالے دھن کو سفید کرنا ہوا کرتا تھا۔ نئے پاکستان میں یہ سرمایہ داروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا ذریعہ ہیں۔ صنعت و کاروبار دن دگنی اور رات چگنی ترقی کر رہے ہیں۔ تاجر اگر تفریحاً ایک دو دن کاروبار روک بھی دیں تو ملکی معیشت کو چنداں فرق نہیں پڑتا۔



پرانے پاکستان میں پانی کی قلّت سب سے بڑا مسئلہ تھا، جس کے حل کے لیے ہمارے سب ادارے سرگرداں تھے۔ نئے پاکستان میں خدا کے فضل سے اس قدر ابرِرحمت برستا ہے کہ سڑکوں اور گلیوں میں بھی جل تھل ایک ہو جاتا ہے۔ پرانے پاکستان میں جو امریکہ کا یار ہوتا تھا وہ غدّار ہوتا تھا۔ نئے پاکستان میں جو ٹرمپ کا یار ہوتا ہے، سوشل میڈیا اُس کی اس پذیرائی پر تیار ہوتا ہے۔ پرانے پاکستان میں انڈیا سے جنگ نہ چھیڑنے والا مودی کا یار کہلاتا تھا۔ نئے پاکستان میں انڈیا سے جنگ نہ چھیڑنا دانائی اور حقیقت پسندی میں شمار ہوتا ہے۔ عالمی طاقتوں کے سربراہان ہمارے وزیرِ اعظم کی بارعب شخصیت کے گرویدہ ہیں اور ان کے استقبال کے لیے دیدہ و دل فرشِ راہ کئے رہتے ہیں۔ ہماری کامیاب خارجہ پالیسی سے گھبرا کر دشمن ملک ایسے غلط فیصلے لینے پر مجبور ہو گیا ہے کہ جس کا نتیجہ اس کی کئی ٹکروں میں تقسیم کی صورت میں سامنے آنا اظہر من الشمس ہے۔ ہمارے وزیرِ خارجہ فصاحت و بلاغت کے ہتھیاروں سے لیس ہونے کے ساتھ ہی ساتھ روحانی طاقت سے بھی مالا مال ہیں۔ ان کی کامیاب خارجہ پالیسی ہمیں مدّتِ قلیل ہی میں مسئلہء کشمیر کے حل کے قریب لے آئی ہے۔ پرانے پاکستان میں ٹی۔وی ٹاک شو میں اپوزیشن حکومت کے لتّے لیا کرتی تھی۔ نئے پاکستان میں حکومت ملکی حالات دگرگوں کرنے پر اپوزیشن کی گوشمالی کرتی نظر آتی ہے۔ نئے پاکستان کی خوبصورتی یہ ہے کہ تمام سیاسی، عسکری اور عبقری قیادت ایک ہی پیج پر ہے۔ اور وہ پیج ایک فولادی صندوق میں مقفل، ایک بلندوبالا پہاڑ کی چوٹی پر محفوظ ہے، جس کی حفاظت پر ایک خونخوار اژدھا مامور ہے۔ پرانے پاکستان میں جن سے جمہوریت کو خطرہ رہا کرتا تھا، نئے پاکستان میں جمہوریت انہی کے حفاظتی حصار میں ہے۔ اور تو اور ہمارے علامہ خادم رضوی صاحب بھی اب امن پسندی اور رواداری کے راستے پر گامزن ہو چکے ہیں۔
مؤ رخ لکھتا ہے کہ شاعرِمشرق کی روح شدّتِ مسرّت سے محوِرقص ہے کہ جس ریاستِ مدینہ کا خواب انہوں نے دیکھا تھا، آج تقریباً ایک صدی بعد اس کی تعبیر سامنے آ رہی ہے۔ ان کا شاہین کہ جس کا نشیمن قصرِسلطانی کے گنبد پر نہیں ہوا کرتا، آج بنی گالا کی چٹانوں پر بسیرا کیے ہوئے ہے۔ قائد کی روح سرشار ہے کہ جس آزاد جمہوری ریاست کے قیام کے لیے انہوں نے جدوجہد کی تھی، اس کے خدوخال نمایاں ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اور مؤ رخ کا قلم اس جدوجہد کی کہانی کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کرتا جاتا ہے تاکہ وہ نئے پاکستان کی بنیاد رکھنے والے گمنام مجاہدوں کی کاوشوں کو کبھی بھلا نہ پائیں۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker