وزیرِ اعظم صاحب فرماتے ہیں کہ سات سو برس تک تمام بڑے سائنسدان مسلمان تھے اور انگریزوں نے ہمارا نظامِ تعلیم تباہ کر دیا، اور ہمارے اہلِ دانش اس پر سر دھنتے ہیں۔ ویسے یہ تمام سائینس دان معتزلہ عقائد رکھتے تھے اور عباسی دور میں یونانی علوم کے عربی تراجم نے مسلمانوں کی سائنسی ترقی کو ممکن بنایا تھا۔اشعری مکتبہ فکر (جس پر اسلام کے موجودہ ڈھانچے کی بنیاد استوار ہے) معتزلہ عقلیت پسندی پر روایت پسندی کو ترجیح دیتا ہے اور ان تمام سائنسدانوں کو فاسق و فاجر سمجھتا ہے۔ اس لیے موجودہ نافذ العمل اسلام کے ساتھ تو سائنسی ترقی میں کردار ادا کرنا ممکن نہیں۔
مزید براں یہ کہ انگریزوں نے مسلمانوں کے جس نظامِ تعلیم کو ختم کر دیا وہ نظامِ تعلیم تھا کیا؟ درسِ نظامی جس کی تدوین ملا نظام الدین نے کئی صدیاں پیشتر کی تھی اور جس کا واحد مقصد شہروں اور مضافاتی علاقوں کے لیے شرعی عدالتوں کے قاضی پیدا کرنا تھا، ایسا نظامِ تعلیم کیسے سائنسدان اور محقّق پیدا کر سکتا تھا؟ اس لیے بّر صغیر میں مسلم حکمرانوں کا دور سائنسی لحاظ سے بانجھ رہا۔حد تو یہ ہے کہ ہمارا نہری اور ریلوے کا نظام بھی انگریزوں ہی کی دین ہے۔
ماضی قریب میں ہمارے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل نوجوان جدید علوم کے حصول کے بعد طالبان، داعش اور دیگر تنظیموں کا حصہ بنتے رہے ہیں۔ ہمارے خان صاحب بھی بعینہ ان نوجوانوں جیسی ذہنی کیفیت کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ مزید براں یہ کہ اس طالبانی سوچ پر روائتی دکاندارانہ تصوف کا تڑکہ اور اقبالیات کا بگھار نشہ مزید دو آتشہ کردیتا ہے۔ مجموعی طور پر تاریخی حقائق سے نا آشنا عوام میں خان صاحب کا بیانیہ یقیناً سراہا جائے گا، کیوں کہ ہر زوال پذیر قوم اپنی عظمتِ رفتہ کا سہارا لے کر اپنی موجودہ ذلت و پستی سے آنکھیں چرائے رکھنا چاہتی ہے۔ مگر حقائق سے چشم پوشی کا نتیجہ مزید تنزّلی کے سوا کچھ بھی نہیں۔

