عمار غضنفرکالملکھاری

بدلتا سیاسی منظر نامہ اور لٹی پٹی جمہوریت .. عمار غضنفر

ایک جانب ہائیکورٹ سے ریلیف ملنے پر خوشی کے شادیانے بجانے والے ہیں تو دوسری جانب عدالتی فیصلے سے مایوس ہو کر عدالتوں کو مطعون کرنے والے ہیں۔ دونوں فریقین یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس سارے کھیل میں ان کی حیثیت تالیاں بجانے والے تماشائیوں سے بڑھ کر نہیں۔ ایک فریق یہ سمجھتا ہے کہ وہ عمران خان کے بیانیے کے ساتھ کھڑا ہے اور دوسرا فریق میاں صاحب کے بیانیے سے متاثر ہے۔ مگر ستم ظریفی تو یہ ہے کہ دونوں جانب کسی بیانیے کا سرے سے وجود ہی نہیں۔ نواز شرہف صاحب کا تو کبھی کوئی بیانیہ تھا ہی نہیں۔ اور خان صاحب کا بیانیہ اسی روز دفن ہو گیا تھا جب وہ حصولِ اقتدار کی خاطر سمجھوتے کرنے پر رضامند ہو گئے تھے۔ دیکھا جائے تو اس وقت سب سے مضبوط بیانیہ گجرات کے چودھریوں کا ہے۔ کہ جس نے اپنا قبلہ طاقت کے مرکز کو بنائے رکھا وہی مقدر کا سکندر ٹھہرا۔
حکومت کی اتحادی جماعتوں کے لب و لہجے میںبدلاؤ ، مولانا فضل الرحمٰن کے لہجے کی طغیانی میںٹھہراؤ ، خان صاحب کے چہرے کا تناؤ ، اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤن کے معنی خیز بیانات اور حکومتی وزراء کے لہجے کی تلخی، یہ سب مل کر مستقبل قریب میں سیاسی افق پر ممکنہ تبدیلیوں کی چغلی کھاتے نظر آتے ہیں۔ مگر عوام کے لیے نوید ہے کہ کیسی بھی تبدیلی کیوں نہ آ جائے ان کے حالات بہتر ہونے کی بجائے مزید بدتر ہی ہوں گے۔ پنڈ کے چودھریوں کے جھگڑے چودھری خود ہی نبیڑتے رہیں گے۔ ہم کمی کمین لوگ تو اپنے گھر کے دانے پورے کرنے کی فکر کریں۔
جن کے کس بل نکالنے تھے ان کے کس بل نکال دیے گئے۔ جن کے پاس این۔آر۔او دینے کی طاقت ہے وہ این۔آر۔او دے چکے۔ ادھر عوام نے تبدیلی کا ایسا مزہ چکھا ہے کہ اب مسندِ اقتدار پر کسی کو بھی لا بٹھایا جائے، چوں بھی نہ کریں گے۔ جمہوری نظام میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہوا کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں طاقت کبھی عوام کے ہاتھ میں آنے ہی نہیں دی گئی۔ جمہوریت کے ثمرات عوام تک تب ہی پہنچ سکتے تھے جب عوام کو تعلیم و آگہی اور شعور مہیّا کر کے جمہوری عمل میں حصّہ لینے اور اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کی آزادی میّسر ہو اور انتخابی عمل کے نتائج خالصتاً عوام کی مرضی پر متنج ہوں۔ مگر ہماری سیاسی تاریخ میں عوام کو ہمیشہ ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر اصل اہلِ اقتدار اپنی مرضی کے نتائج مرتب کرواتے رہے ہیں۔ ابھی ماضی قریب میں موجودہ وزیرِ داخلہ برگیڈئیر (ر) اعجاز شاہ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں یہ اعتراف کرتے نظر آتے ہیں کہ 2008 کے انتخابات میں “ہم” نے ق لیگ کو سیٹیں دلوائی تھیں تا کہ پیپلزپارٹی سادہ اکثریت حاصل نہ کر سکے۔ اس سے قبل کے ادوار میں کیے جانے والے ایسے ہی اقدامات ہماری سیاسی تاریخ کا حصہ ہیں جہاں جمہوری عمل کو ہماری اسٹیبلشمنٹ نے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے سبوتاژ کیا۔ اور جب ایسی مصنوعی جمہوریت کی وجہ سے جمہوری نظام کے اثرات عوام تک نہیں پہنچ پاتے تو اس جمہوری نظام کو برائی کی جڑ قرار دے کر کوئی نہ کوئی طالع آزما سپہ سالار مسندِ اقتدار پر آ براجمان ہوتا ہے اور پھر جانے کا نام نہیں لیتا۔ 2018 کے انتخابی عمل کی شفافیت پر جو بھی اعتراض اٹھائے جائیں، مگر اب بھی اگر غیر جمہوری طریقے سے سیاسی منظر نامے میں کوئی تبدیلی لانے کی کوشش کی گئی تو یہ ایک غلطی پر دوسری غلطی کرنے کے مترادف ہو گا۔ پنجابی کی مثال ہے کہ ” نانی نے خصم کیتا، برا کیتا۔ کر کے چھڈ دتا، ہور وی برا کیتا”۔ جب تک حقِ انتخاب خالصتاً عوام کے ہاتھوں میں نہیں آنے دیا جاتا، حقیقی جمہوریت کا نفاذ ایک خواب ہی رہے گا اور اس کنٹرولڈ جمہوریت کے مضمرات کو جمہوری نظام کی ناکامی گرداننا سراسر ناانصافی ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker