کالملکھاریماہ طلعت زاہدی

بَسنے کی باتیں .. ماہ طلعت زاہدی

میں اتنی چھوٹی تھی کہ ابھی بولنا شروع نہیں کیا تھا، امی نے پاپا سے کہا، یوں لگتا ہے یہ سارا وقت کچھ گنگناتی،یا بےمعنی زبان بولتی پھرتی ہے، اس کے بعد امی نے مجھے انیس کی رباعی یاد کرادی:
گلشن میں پِھروں کہ سیرِ صحرا دیکھوں
یا معدن و کوہ و دشت و دریا دیکھوں
ہر جا تری قدرت کے ہیں لاکھوں جلوے
حیران ہوں دو آنکھوں سے کیا کیا دیکھوں
اور پاپا نے مجھ نادان، نافہم، ناسمجھ کو اس طرح کے اشعار یاد کرانے شروع کئے
جس کھیت سے دھقاں کو میسّر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشہء گندم کو جلا دو
اور پھر کبھی پاپا کبھی امی دونوں مجھے اشعار یاد کرانے کے دلچسپ مشغلے میں محو رہنے لگے۔ جب میں بہت سے اشعار کی حافظ بن چکی تو میرا یہ معمول ہو گیا کہ اُدھر پاپا کلینک سے آۓ، اِدھر میں نے یادداشت کی بیاض کھول لی، ایک دن دو دن،ہفتہ بھر،مجھے تو چاٹ لگ گئی تھی، بلاآخر ایک دن پاپا امی سے بولے ایک شاعرہ کی شادی کسی سیدھے سادے آدمی سے ہو گئی، وہ جونہی گھر میں داخل ہوتا شاعرہ اپنا کلام کھول کر سُنانے بیٹھ جاتی، کافی عرصے بعد،جب ایک دن شاعرہ نے کہا تم بھی تو کچھ بولو،وہ کہنے لگا، بھاگوان ! میں کیا بولوں ! مجھے تو یہ دِکھے ہے کہ تو بسنے کی باتیں نہیں کر رہی!! میں مسہری کی پَٹی سے لگی، جُھول جُھول کر یہ سب دیکھتی رہی۔۔ تب پاپا ،امی، میں اور وقت سب لاعِلم تھے کہ
ماہ طلعت زاہدی یہ سب سُن رہی ہے۔
مغرب میں ایک اصطلاح استعمال کرتے ہیں، بوہیمین۔ اردو میں کہتے ہیں آزاد مشرب، آزاد خیال،آزادہ رَو۔ بوہیمین اِزم زندگی گزارنے کا ایک ایسا انداز ہے جو مصور، شاعر، موسیقار،ادیب، فنکار اور روحانی معاملات میں دلچسپی رکھنے والے لوگ اپنے لئے ایجاد کرتے ہیں۔ دراصل یہ غیر رسمی، غیر روایتی،زندگی گزارنے کا عمل اور معاشرے سے ہٹ کر چلنے کا چلن ہے اور بےحد کٹھن ہے۔ مغرب میں تو یہ کسی نہ کسی طَور نبھ جاتا ہے لیکن مشرق میں تو معاملہ یوں ہے:
سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں
یہ نہ سمجھیں کہ آہ کرتا ہوں
(اکبر الہ آبادی)
وہاں سارتر اور اُن کی دوست چالیس سال تک ایک اپارٹمنٹ میں بغیر شادی کے رہتے رہے۔ یہاں امرتا پریتم اور امروز چاہئیں ایس مثال قائم کرنے کو جن کے لئے کہا گیا :
مت سہہل ہمیں جانو، پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں۔(میر تقی میر)
سو یہاں جب ،قسمت سے، قرتااُلعین جنم لیتی ہے تو صرف قلم اور کتاب ہی اُس کے ساتھی رہتے ہیں۔
کچھ مردوں نے عموماً اس معاشرے میں اپنے لئے ایسے راستے ڈھونڈ لئے جن کی مثال جوش ملیح آبادی کی ًیادوں کی براتً میں مل جاتی ہے۔ لیکن شریف مردوں کے لئے وہ زندگی بھی ممکن نہیں۔ وہ بھی یہاں شریف گھریلو لوگوں ہی کی مانند وقت کاٹ دیتے ہیں
سہتے ہیں ہزار رنج جی لیتے ہیں
کرتے نہیں شش و پنج جی لیتے ہیں
آرام نہ آسائشِ دنیا ہے نصیب
ہوتے نہیں شکوہ سنج جی لیتے ہیں
(سید مقصود زاہدی)
اسی لئے اس معاشرے میں عورتوں کی تعلیم نے انہیں سماج سے کیا کیا الزام نہیں دلوایا۔ حتٰی کہ اقبال جو عطیہ فیضی کے ساتھ بال روم ڈانس کرتے تھے، اپنی جرمن اتالیق مس ویگناسٹ سے ملنے کو تڑپتے تھے، اپنے سماج کی عورتوں کے لئے اس قبیل کے اشعار اور مصرعے چھوڑ کر گئے
لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی
ڈھونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ
مکالمات ِ فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
آزادئ نسواں کہ زمرد کا گلوبند
سچی بات یہ ہے کہ انہوں نے عورت کو پیچھے دھکیلنے میں متعصبانہ کردار ادا کیا ۔ وہ شاعر ِ ملت ضرور بنے مگر یہ ملت پڑھی لکھی عورتوں سے عاری تھی۔ ان سے زیادہ جدید تو اکبر الہ آبادی تھے جنہوں نے اپنے مشاہدے پر نظرِ ثانی کی اور کہا
بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تک؟
بنے رہو گے تم اس ملک میں میاں کب تک ؟
مگر افسوس اقبال کو بھی عوام کی طرح فقط اکبر کی غیرت ِ قومی یاد رہی، اُن تک نے عوام کی طرح اکبر کو مزید پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کی، جو انیسویں صدی کے اواخر میں کہتے ہیں،
افلاک تو اس عہد میں ثابت ہوۓ معدوم
اب دیکھئے جاتی ہے مری آہ کہاں تک ؟
خیر اگر برِ صغیر پاک و ہند میں سر سید اور پھر سجاد حیدر یلدرم جنم نہ لیتے تو کم ازکم مسلم عورتوں کا تو کوئی والی وارث نہ تھا، اور وہ کہ جو فنون کی دنیا میں آ جاتیں، وہ تو بالکل ہی یکہ و تنہا رہ جاتی تھیں، معذرت کے ساتھ یہاں اُن شاعرات یا فنونِ لطیفہ سے وابستہ خواتین کا ذکر نہیں جنہوں نے فنکار ہونے کا مطلب مادر پِدر آزادی لیا ۔۔لا تعداد ادیب، شاعر، گلوکار، مصور، فنکار عورتوں نے تنہا رہنا انتخاب کیا، انہوں نے جسم کی خوشیوں کو اپنے ذہن کی خوشیوں پر ہمیشہ کے لئے قربان کر دیا۔ محض اپنی فنکارانہ آزادی کے لئے۔اور اگر کچھ نے شادی کر بھی لی تو بعد طلاقوں کا تناسب ہی بڑھایا۔
اب میں اپنے بچپن میں جا کر اپنے پاپا (مقصود زاہدی ) سے مخاطب ہوں
پاپا میں کوشش کر رہی ہوں کہ شاعری کے ساتھ ساتھ بسنے کی باتیں بھی کرتی رہوں، لیکن یہ اکیلے میرے بس کا روگ نہ تھا، میں شکر گزار ہوں ڈاکٹر اسد اریب کی، جنہوں نے نہ صرف بسنے کا سلیقہ سکھایا بلکہ حتی الامکان میری شاعرانہ زندگی کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو ہٹایا۔ ساتھ ہی میری اُس شریف النفسی اور آزاد خیالی کو جو آپ سے مجھے ورثے میں ملی تھی، زندہ رکھا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker