ہم سب تا عمر خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ اپنی خاص خاص چیزوں کی ہم مرتے دم تک حفاظت کرسکتے ہیں۔ یہاں پر لفظ چیزیں ہم نے محدود معنی میں استعمال نہیں کیا ہے۔ چیزوں سے مراد محض میز، کرسی، مکان، گاڑی، کارخانہ، زرعی زمین تک محدود نہیں ہے۔ یہاں پر لفظ چیزیں ہم نے لامحدود معنی میں استعمال کیا ہے۔ یعنی وہ سب کچھ جس کی آپ حفاظت کرنا چاہتے ہیں۔ مثلاً، آپ نے ایک قیمتی کار خریدی ہے۔ کار کی حفاظت کرنے کیلئے آپ نے اپنی کار میں سیٹلائٹ ٹریکر لگوادیا ہے۔ چوروں سے بچانے کیلئے آپ نے کار میں اینٹی تھیفٹ ڈیوائس لگوا دیے ہیں۔ کار میں آپ نے جدید ترین الارم لگوا لیے ہیں۔ آپ نے کار کی بھاری بھرکم انشورنس پالیسی لے رکھی ہے۔ اس کے باوجود آپ خود کو خوش، آسودہ اور مطمئن محسوس نہیں کرتے۔ آپ رات میں کئی مرتبہ جاگ جاگ کر پورچ یا گیراج میں کھڑی ہوئی کار کو دیکھ آتے ہیں۔ایک صاحب نے اپنے اکلوتے بیٹے کی مکمل Fool-Proof حفاظت کیلئے، حفاظتوں کے اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ ڈالے تھے۔ دو طرح کے محافظ اس صاحب کے اکلوتے بیٹے کی حفاظت پر مامور تھے۔ کچھ محافظ نظر آتے تھے۔ کچھ محافظ نظر نہیں آتے تھے۔ جو محافظ نظر نہیں آتے تھے وہ دکھائی دینے والے محافظوں پر نظر رکھتے تھے۔ اکلوتے بیٹے کے تمام دوستوں کے کوائف والد نے مختلف اداروں کی مدد سے تصدیق کروائے تھے۔ دوستوں کے بھائی بہن کتنے تھے۔ والد کا نام کیا تھا اور وہ کیا کام کرتےتھے۔ والدہ کا نام کیا تھا۔ وہ کس خاندان کی تھیں۔ پڑھی لکھی تھی یا ناخواندہ۔ اگر اکلوتے بیٹے کے کسی دوست کے والدین فوت ہو چکے تھے، تو وہ یعنی اکلوتے بیٹے کے ضرورت سے زیادہ فکرمند والد ان کے کوائف نکلوا لیتے تھے۔ ان کے فوت ہو جانے کی وجہ کیا تھی؟ پہلے کون فوت ہوا تھا؟ والد یا والدہ؟ ان کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی تصدیق شدہ کاپی لے کر فائل میں لگا دیتے تھے۔
اس نوعیت کے بیشمار قصہ کہانیوں کے انبار پڑے ہوئے ہیں۔ مگر آپ اپنی کچھ چیزوں کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ وہ چیزیں آپ کے بس میں ہیں۔ وہ چیزیں بظاہر آپ کے بس میں ہوتی ہیں، مگر حقیقتاً آ پ کے بس میں نہیں ہوتیں۔ مثلاً آپ نے اپنے صحن میں نایاب موتیے اور گلاب کے پھول لگوائے ہیں۔ پھولوں کی مہک نے ماحول کو معطر کر دیا ہے۔ آپ کی لاکھوں کروڑوں کوششوں کے باوجود آپ اپنے موتیے اور گلاب کے پھولوں کی مہک کو پھیلنے سے روک نہیں سکتے۔ آپ اپنے پھولوں کی خوشبو اپنے آپ تک محدود نہیں رکھ سکتے۔ آپ کو اپنے ہمسائے سے نفرت ہے۔ مگر آپ اپنے ہمسائے کو اپنے پھولوں کی خوشبو سے محروم نہیں کرسکتے۔ یہ آپ کے یا پھر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔یہ بور کرنے جیسی تمہید میں نے اس لیے باندھی ہے تاکہ ہم سب مل کر اردو کے حوالہ سے ایک گھمبیر مسئلہ کا جائزہ لے سکیں۔ اور میں یہ بھی جانتا ہوں، سمجھتا ہوں کہ اس مسئلہ کا کوئی حل نہیں ہے۔ اس مسئلہ کے سامنے ہم سب جوکہ اردو سے عشق کرتے ہیں، بےبس ہیں۔ میں نے کئی مرتبہ لکھا ہے، اپنے لیکچر ز میں کہا ہے کہ اردو ایک کرشماتی، ایک سیمابی، ایک طلسماتی اور معجزاتی زبان ہے۔ ایسی زبان پر کوئی بھی اجارہ داری کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ ایسی زبان کو آپ اپنی تحویل میں نہیں رکھ سکتے۔ اردو کی حفاظت کے نام پر اردو کے لیے آپ بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں مگر آپ اردو کو اپنے قبضے میں نہیں رکھ سکتے۔ آپ کوشش کرکے دیکھ لیں۔ اپنے صحن کی کیاریوں میں لگائے ہوئے گلاب اور موتیے کے پھولوں کی مہک کو آپ ماحول میں پھیلنے سے روک نہیں سکتے۔ یہ آپ کے بس کی بات نہیں ہے۔ آپ جب تک حیران نہیں ہوتے تب تک آگاہی کے دروازے نہیں کھلتے۔ مجھے بےحد حیرت ہوئی تھی جب پہلی مرتبہ میں نے صوفیوں کے مرشد سچل سرمست کی دو ڈھائی سوبرس پرانی اردو شاعری پڑھی تھی۔ حیرت نے آگاہی کے دروازے کھول دیے۔ تجسس کی جگہ جستجونے لے لی۔ سچل سرمست خیرپور کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں درازا میں پیدا ہوئے تھے۔ اور وہیں پر 95برس کی عمر میں اللہ سائیں کو پیارے ہو گئے تھے۔ کہتے ہیں کہ 95برس کی عمر میں ایک مرتبہ بھی اپنے گائوں درازا سے باہر نہیں گئے تھے۔ تو پھر، انہوں نے اردو کیسے، اور کس سے سیکھی؟ یہ ایک الگ موضوع ہے۔ اس پر بات ہوتی رہتی ہے، اور ہوتی رہے گی۔
اچانک میرے ذہن میں سوال ابھرا ہے کہ میں جس روداد کو اردو کا بہت بڑا مسئلہ سمجھ رہا ہوں وہ اصل میں مسئلہ ہے بھی، یا کہ نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں اردو کی صفات اردو کے لیے مسئلہ بن گئی ہیں۔ اردو طلسماتی اور کرشماتی زبان ہے۔ دلکش ہے، پڑھے لکھوں کے ساتھ ساتھ، ان پڑھ اور نیم خواندہ لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ زبان بذات خود اہم تب بنتی ہے جب اس زبان میں جو کچھ لکھا جارہا ہے، یا جو کچھ بولا جارہا ہےوہ معیاری ہے، اعلیٰ ہے، مستند ہے، قابلِ یقین ہے، معتبر ہے؟
موبائل فون تقریباً سب کے ہاتھ لگ گیا ہے۔ گولی چلانے کو چھوڑ کر آپ سب کام موبائل فون سے کر سکتے ہیں۔ آپ خط و کتابت کر سکتے ہیں۔ شعر و شاعری کرسکتے ہیں۔ تصویریں کھینچ سکتے ہیں۔ گانے سن سکتے ہیں۔ لوگوں کو اپنا گانا سنا سکتے ہیں۔ فلمیں دیکھ سکتے ہیں اس کام کیلئے آپ کا تعلیم یافتہ یا پڑھا لکھا ہونا ضروری نہیں ہے۔ تہذیب اور تمیز کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ آپ جب چاہیں کسی کی بھی پگڑی اچھال سکتے ہیں۔ جس کو چاہے گالیاں دے سکتے ہیں۔ افواہیں اُڑا کر آپ سنسنی پھیلا سکتے ہیں۔ کوئی آپ کو روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے۔ اس کو کہتے ہیں سوشل میڈیا۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا کی زبان ہے اردو۔ ایسی اردو جس میں شائستگی نہیں ہوتی۔ نفاست نہیں ہوتی۔ شیرینی نہیں ہوتی۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

