کیسا لگ رہا ہے آپ کو آج کل کی سیاست کے نئے رنگ اور نئے ڈھنگ دیکھ کر؟ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں ایک انوکھی سیاست کا باب رقم ہو رہا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں گھاگ سیاست دانوں کا پہلی مرتبہ رابطہ ایک Sportsman یعنی کھلاڑی سے پڑا ہے۔ چھٹے ہوئے وڈیرے، چوہدری، خان اور سردار چکرا کر گر پڑے ہیں جو کھڑوس سیاست دان اپنے آپ کو پاکستان کی سیاست میں توپ سمجھتے ہیں وہ سب کھسیانی بلی بن کر کھمبا نوچ رہے ہیں۔ ایک اسپورٹس مین کو سیاست کے گندے تالاب میں ڈبکی لگانی چاہئے یا نہیں، یہ الگ بحث کا موضوع ہے۔ عمران خان اچھا ہے، عمران خان برا ہے، اس بات سے قطع نظر، عمران خان کی آمد کے بعد، ایک حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ پاکستان کے لوگ گھاگ سیاست دانوں سے کس قدر ناخوش، ناراض اور بیزار ہیں۔ عمران خان کے جلسے جلوسوں میں عوام کی تعداد اور عوام کا جوش و خروش دیکھ کر گھاگ سیاست دان سکتے میں آگئے ہیں۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ عمران خان کے آنے کے بعد کسی گھاگ سیاست دان نے عوامی جلسہ کر کے دکھایا ہو۔ مولانا فضل الرحمن اگرچہ جلسے جلوس کرتے رہتے ہیںمگر ایک ہی مکتب فکر کے لوگ ان کے جلسوں میں شریک ہوتے ہیں۔
یہ بات یاد رکھیں کہ کوئی بھی عقیدہ اور سیاست آپس میں گھل مل نہیں سکتے۔ بین الاقوامی سیاست میں کئی ممالک ایسے ہیں جہاں کسی بھی عقیدہ کو قبول نہیں کیا جاتا۔ دنیا کے دیگر ممالک جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں، ایسے ممالک سے سیاسی طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ عقائد آپ کو ملحقہ ممالک سے کسی قسم کے روابط رکھنے کی اجازت نہیں دیتے۔ کوئی افلاطون سیاست کی بات نہیں ہے۔ سادہ اور سیدھی سی بات ہے۔ آپ عقائد اور سیاست کو یک جان نہیں کر سکتے۔ ہمارا آج کا موضوع یہ نہیں ہے۔ میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ عمران خان کی آمد کے بعد گھاگ اور گھسے پٹے سیاست دان عوامی جلسہ کرنے کی جرأت نہیں رکھتے۔ سوائے مولانا فضل الرحمن کے۔ مگر وہ میرے خیال میںسیاست دان نہیں ہیں۔ وہ خواہ مخواہ سیاست میںآگئے ہیں ان کا کام کچھ اور ہے۔
پاکستانی سیاست دانوں کے ہجوم میں آپ کو ایسا ایک بھی سیاست دان نہیں ملے گا جس نے زندگی میں کبھی کوئی کھیل کھیلا ہو، پھر وہ کھیل چاہے گلی ڈنڈا ہی کیوں نہ ہو۔ ان کے رویے اور عادات واطوار دیکھ کر لگتا ہے کہ کھیلنا درکنارتو انہوں نے آج تک کسی کو کھیلتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اب ان کا واسطہ پڑا ہے ایک کھرے اور خالص کھلاڑی سے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ عمران دودھ میں دھلا ہوا ہے۔ عمران خان ہماری طرح کا ایک انسان ہے۔ ہم سب کی طرح عمران خان میں خامیاں ہیں تو اس میں خوبیاں بھی ہیں۔ کوئی شخص آپ کو ایسا نہیں ملے گا جس میں صرف خوبیاں ہوں، اور خامیاں نہ ہوں۔ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں عمران خان نے ثابت کر دیا ہے کہ لوگ گھاگ، گھسے پٹے سیاست دانوں سے بیزار ہو چکے ہیں، ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ عمران خان کے جلسوں میں پڑھے لکھے لوگوں کا سمندر امڈ آتا ہے۔ اس سے عمران خان کی اپنی بے پناہ شہرت اور ہردلعزیزی ثابت ہوتی ہےمگر اس کے ساتھ ساتھ کھڑوس سیاست دانوں سے لوگوں کی بیزاری بھی ثابت ہوتی ہے۔
عمران خان کی تقریروں کا لہجہ، الفاظ کا چناؤ، کھری کھری سنانے کا انداز، تقریروں کے دوران کھروں اور کھوٹوں کو لتاڑنا ثابت کرتا ہے کہ وہ اپنی ذات میں مکمل کھلاڑی ہے۔ وہ سیاست دان نہیں ہے۔ جو لوگ چاہتے تھے کہ عمران خان سیاست میں آکر ملک کی باگ ڈور سنبھالے اور اپنی بے پناہ بین الاقوامی شہرت کو بروئے کار لاتے ہوئے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرے، ان سیانوں کو قطعی اندازہ نہیں تھا کہ بین الاقوامی شہرت رکھنے والے نامور کھلاڑی اپنی نجی زندگی میں کیسے ہوتے ہیں۔ ان کا مزاج، ان کے رویے ان کی سوچ کیسی ہوتی ہے۔ ایک بات کبھی نہیں بھولنی چاہئے کہ آپ مانے ہوئے مشہور کھلاڑی کو اپنا ماتحت نہیں بنا سکتے۔ آپ اس کے سامنے کچھ نہیں ہوتے۔ باکسنگ کی دنیا کے بے تاج بادشاہ محمد علی کلے آپ کویاد ہے؟ اپنے دور کا سب سے زیادہ نامور کھلاڑی تھا۔ لازمی دفاعی تربیت لینے سے انکار کرتے ہوئے محمد علی کلے تن تنہا امریکی حکومت کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو گیا تھا۔ حکومت نے محمد علی پر باکسنگ کے دروازے تین برس تک بند کردیئے تھے۔ باکسنگ کے بین الاقوامی اعزاز سے اسے طاقتور حکومت نے محروم کر دیا تھا۔ صعوبتیں محمد علی کو جھکا نہ سکیں۔ تین برس کی بندش کے بعد محمد علی نے پھر سے باکسنگ کی دنیا میں قدم رکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے تمام اعزازات جیت لئے۔ ایسے ہوتے ہیں بین الاقوامی شہرت رکھنے والے نامور کھلاڑی۔
عمران خان بین الاقوامی شہرت رکھنے والے کھلاڑی ہیں، اور وہ بھی کرکٹ کے۔ آپ کبھی مت بھولیں کہ عمران خان اپنے دور کے آل رائونڈر سراین بوتھم، کپل دیو اور رچرڈ ہیڈلی سے بڑے آل رائونڈر تھے۔ خاص طور پر فاسٹ بالنگ میں عمران خان کا ثانی نہیں تھا۔ ایک زبردست فاسٹ بالر کی نفسیات کو پاکستانی سیاست کے وڈیرے، چوہدری، خان، سردار اور پیر سائیں سمجھ نہیں سکتے۔ عمران خان آپ کا کسان، مزارع اور مرید نہیں بن سکتا۔ وہ آپ کی فہم اور فراست سے بالا ہے۔ مجھے دکھ ہے کہ گندی اور کرپٹ سیاست میں دھکیل کر آپ نے عمران خان کو ضائع کر دیا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)کیسا لگ رہا ہے آپ کو آج کل کی سیاست کے نئے رنگ اور نئے ڈھنگ دیکھ کر؟ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں ایک انوکھی سیاست کا باب رقم ہو رہا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں گھاگ سیاست دانوں کا پہلی مرتبہ رابطہ ایک Sportsman یعنی کھلاڑی سے پڑا ہے۔ چھٹے ہوئے وڈیرے، چوہدری، خان اور سردار چکرا کر گر پڑے ہیں جو کھڑوس سیاست دان اپنے آپ کو پاکستان کی سیاست میں توپ سمجھتے ہیں وہ سب کھسیانی بلی بن کر کھمبا نوچ رہے ہیں۔ ایک اسپورٹس مین کو سیاست کے گندے تالاب میں ڈبکی لگانی چاہئے یا نہیں، یہ الگ بحث کا موضوع ہے۔ عمران خان اچھا ہے، عمران خان برا ہے، اس بات سے قطع نظر، عمران خان کی آمد کے بعد، ایک حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ پاکستان کے لوگ گھاگ سیاست دانوں سے کس قدر ناخوش، ناراض اور بیزار ہیں۔ عمران خان کے جلسے جلوسوں میں عوام کی تعداد اور عوام کا جوش و خروش دیکھ کر گھاگ سیاست دان سکتے میں آگئے ہیں۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ عمران خان کے آنے کے بعد کسی گھاگ سیاست دان نے عوامی جلسہ کر کے دکھایا ہو۔ مولانا فضل الرحمن اگرچہ جلسے جلوس کرتے رہتے ہیںمگر ایک ہی مکتب فکر کے لوگ ان کے جلسوں میں شریک ہوتے ہیں۔
یہ بات یاد رکھیں کہ کوئی بھی عقیدہ اور سیاست آپس میں گھل مل نہیں سکتے۔ بین الاقوامی سیاست میں کئی ممالک ایسے ہیں جہاں کسی بھی عقیدہ کو قبول نہیں کیا جاتا۔ دنیا کے دیگر ممالک جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں، ایسے ممالک سے سیاسی طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ عقائد آپ کو ملحقہ ممالک سے کسی قسم کے روابط رکھنے کی اجازت نہیں دیتے۔ کوئی افلاطون سیاست کی بات نہیں ہے۔ سادہ اور سیدھی سی بات ہے۔ آپ عقائد اور سیاست کو یک جان نہیں کر سکتے۔ ہمارا آج کا موضوع یہ نہیں ہے۔ میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ عمران خان کی آمد کے بعد گھاگ اور گھسے پٹے سیاست دان عوامی جلسہ کرنے کی جرأت نہیں رکھتے۔ سوائے مولانا فضل الرحمن کے۔ مگر وہ میرے خیال میںسیاست دان نہیں ہیں۔ وہ خواہ مخواہ سیاست میںآگئے ہیں ان کا کام کچھ اور ہے۔
پاکستانی سیاست دانوں کے ہجوم میں آپ کو ایسا ایک بھی سیاست دان نہیں ملے گا جس نے زندگی میں کبھی کوئی کھیل کھیلا ہو، پھر وہ کھیل چاہے گلی ڈنڈا ہی کیوں نہ ہو۔ ان کے رویے اور عادات واطوار دیکھ کر لگتا ہے کہ کھیلنا درکنارتو انہوں نے آج تک کسی کو کھیلتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اب ان کا واسطہ پڑا ہے ایک کھرے اور خالص کھلاڑی سے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ عمران دودھ میں دھلا ہوا ہے۔ عمران خان ہماری طرح کا ایک انسان ہے۔ ہم سب کی طرح عمران خان میں خامیاں ہیں تو اس میں خوبیاں بھی ہیں۔ کوئی شخص آپ کو ایسا نہیں ملے گا جس میں صرف خوبیاں ہوں، اور خامیاں نہ ہوں۔ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں عمران خان نے ثابت کر دیا ہے کہ لوگ گھاگ، گھسے پٹے سیاست دانوں سے بیزار ہو چکے ہیں، ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ عمران خان کے جلسوں میں پڑھے لکھے لوگوں کا سمندر امڈ آتا ہے۔ اس سے عمران خان کی اپنی بے پناہ شہرت اور ہردلعزیزی ثابت ہوتی ہےمگر اس کے ساتھ ساتھ کھڑوس سیاست دانوں سے لوگوں کی بیزاری بھی ثابت ہوتی ہے۔
عمران خان کی تقریروں کا لہجہ، الفاظ کا چناؤ، کھری کھری سنانے کا انداز، تقریروں کے دوران کھروں اور کھوٹوں کو لتاڑنا ثابت کرتا ہے کہ وہ اپنی ذات میں مکمل کھلاڑی ہے۔ وہ سیاست دان نہیں ہے۔ جو لوگ چاہتے تھے کہ عمران خان سیاست میں آکر ملک کی باگ ڈور سنبھالے اور اپنی بے پناہ بین الاقوامی شہرت کو بروئے کار لاتے ہوئے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرے، ان سیانوں کو قطعی اندازہ نہیں تھا کہ بین الاقوامی شہرت رکھنے والے نامور کھلاڑی اپنی نجی زندگی میں کیسے ہوتے ہیں۔ ان کا مزاج، ان کے رویے ان کی سوچ کیسی ہوتی ہے۔ ایک بات کبھی نہیں بھولنی چاہئے کہ آپ مانے ہوئے مشہور کھلاڑی کو اپنا ماتحت نہیں بنا سکتے۔ آپ اس کے سامنے کچھ نہیں ہوتے۔ باکسنگ کی دنیا کے بے تاج بادشاہ محمد علی کلے آپ کویاد ہے؟ اپنے دور کا سب سے زیادہ نامور کھلاڑی تھا۔ لازمی دفاعی تربیت لینے سے انکار کرتے ہوئے محمد علی کلے تن تنہا امریکی حکومت کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو گیا تھا۔ حکومت نے محمد علی پر باکسنگ کے دروازے تین برس تک بند کردیئے تھے۔ باکسنگ کے بین الاقوامی اعزاز سے اسے طاقتور حکومت نے محروم کر دیا تھا۔ صعوبتیں محمد علی کو جھکا نہ سکیں۔ تین برس کی بندش کے بعد محمد علی نے پھر سے باکسنگ کی دنیا میں قدم رکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے تمام اعزازات جیت لئے۔ ایسے ہوتے ہیں بین الاقوامی شہرت رکھنے والے نامور کھلاڑی۔
عمران خان بین الاقوامی شہرت رکھنے والے کھلاڑی ہیں، اور وہ بھی کرکٹ کے۔ آپ کبھی مت بھولیں کہ عمران خان اپنے دور کے آل رائونڈر سراین بوتھم، کپل دیو اور رچرڈ ہیڈلی سے بڑے آل رائونڈر تھے۔ خاص طور پر فاسٹ بالنگ میں عمران خان کا ثانی نہیں تھا۔ ایک زبردست فاسٹ بالر کی نفسیات کو پاکستانی سیاست کے وڈیرے، چوہدری، خان، سردار اور پیر سائیں سمجھ نہیں سکتے۔ عمران خان آپ کا کسان، مزارع اور مرید نہیں بن سکتا۔ وہ آپ کی فہم اور فراست سے بالا ہے۔ مجھے دکھ ہے کہ گندی اور کرپٹ سیاست میں دھکیل کر آپ نے عمران خان کو ضائع کر دیا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

