لگاتار سات دن اور سات راتیں سوچنے کے بعد باؤلے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ حال نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ماضی اور مستقبل قطعی طور پر ہوتے ہیں۔اس حقیقت میں ذرہ بھر شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اس قدر یقین کے ساتھ یہ بات میں نے اس لئے لکھی ہے کہ بائولوں کوعام طور پر باتیں سمجھ میں آجاتی ہیں،تب وہ بات اٹل اورٹھوس ہوتی ہے۔ میں خود چونکہ بائولا ہوں اس لئے بائولوں کا متفقہ فیصلہ میں نے آپ کو سنادیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ اس وقت سوچ رہے ہونگے کہ لفظ پگلا مروج ہے۔ یہ بائولا کیا ہوتا ہے؟ یہ زبانوں کا معاملہ ہے۔ ڈر ڈر کر بات کرنی پڑتی ہے۔ بندرگاہوں والے شہروں کی زبانیں اور بولیاں ملک کے باقی حصوں میں بولی جانے والی زبانوں اور بولیوں سے لہجے اور تلفظ میں مختلف ہوتی ہیں۔ نئے اور غیر معروف الفاظ چپکے سے بندرگاہوں میں بولی جانے والی بولیوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ کچھ الفاظ نئی صورت اپنا لیتے ہیں۔ جیسے بیزار ہونا۔ بیزار لفظ کا انگریزی نعم البدل ہے Bore۔بیزار ہونے والی کیفیت کے اظہار کے لئے ایک دلچسپ تخلیقی لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ وہ لفظ انگریزی اور اردو کے حرف ملانے سے وجود میں آیا۔ میں نہیں جانتا کہ وہ اور اس جیسے کچھ انوکھے الفاظ لغت میں اپنی جگہ بناسکے ہیں یاکہ ابھی تک نہیں۔ انگریزی لفظ بور کے ساتھ اردو کے حرف ی اور ت ملانے سے ایک عام فہم لفظ روزمرہ کی بول چال میں استعمال ہوتا ہے۔ وہ لفظ ہے بوریت ۔ اس لفظ کی ساخت آدھی اردو اور آدھی انگریزی ہے۔ بوریت اب اپنی کسی زبان اوربولی کا لفظ محسوس ہوتا ہے۔
باؤلا عام طور پر لفظ پگلا کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ مگر پرانے کراچی کے ہم پرانے باسی باؤلا یا پگلا لفظ استعمال کرنے کی بجائے لفظ چریا استعمال کرتے تھے۔ ہندوستان کے بٹوارے سے پہلے کی باتیں میں آپ کو بتارہا ہوں۔کراچی کے مالیاتی اداروں، سینما اور تھیٹر وغیرہ کی دیکھ بھال پر مرہٹے اور بلوچستان کے علاقہ مکران سے تعلق رکھنے والےجن کو عام طور پر مکرانی کہا جاتا تھا،مامور ہوتے تھے۔ مرہٹے مہاراشٹرا کے رہنے والے تھے اور انگریزوں کے سندھ پر قابض ہونے کے بعد بڑی تعداد میں مہارا شٹرا سے کوچ کرکے کراچی آگئے تھے ۔ پاکستان بننے کے بعد مرہٹے ہندوستان چلے گئے۔ بلوچستان کے مکرانی بھی بٹوارے کے بعد کراچی سے کم ہونے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ، کراچی کی ایک لازمی پہچان مکرانی کراچی سے غائب ہوگئے۔ اب کراچی میں ان کی جگہ پٹھانوں نے لے لی ہے۔ بٹوارے کے بعد مرہٹوں کا کراچی سے چلے جانا سمجھ میں آتا ہے۔ مگر مکرانیوں کی کراچی سے عدم موجودگی سمجھ سے بالاتر ہے۔ بٹوارے کے بعد کراچی میں بہت کچھ غیر معمولی دیکھنے میں آیا تھا۔ مثال کے طور پر، بٹوارے کے بعد ہندو اور سکھوں کے علاوہ کراچی میں صدیوں سے آباد پارسی اور کرسچن یہاں سے کیوں چلے گئے تھے؟ تاریخ میں پی ایچ ڈی کے متمنی کھوج لگاسکتے ہیں۔ بٹوارے کے بعد ہندوستان میں آباد ایک بھی پارسی نے ہندوستان نہیں چھوڑا تھا۔ ایک بھی کرسچن نے کوچ نہیں کیا تھا۔ بمبئی یعنی ممبئی ہو یا کلکتہ، چپے چپے پر آپ کو ایرانی ریسٹورنٹ دکھائی دیں گے۔ صدر کراچی کے پوسٹ آفس سے منسلک بلڈنگ کے فرسٹ فلور پر انڈیا کافی ہاؤس ہوتا تھا۔ اب وہاں کباڑی اپنا کباڑ رکھتے ہیں۔ کلکتہ میں آج بھی انڈیا کافی ہاؤس اسی اپنی مخصوص سج دھج یعنی ڈیکور کے ساتھ رواں دواں ہے۔ وکٹوریہ میموریل کی خوبصورت عمارت سے دور نہیںہے۔ برطانیہ کی رانی وکٹوریہ کی گولڈن جوبلی کی یادگار کے طور پرکراچی صدر میں ایمپریس مارکیٹ اور کلکتہ میں خوبصورت وکٹوریہ میموریل بنوائے گئے تھے۔
میں اکثر آپ سے بڑھاپے کی باتیں کرتا رہتا ہوں۔ بڑھاپے میں ہم بوڑھے بھلکڑ بن جاتے ہیں۔ لمحہ بھر پہلے سنی ہوئی بات لمحہ بھر بعد بھلا بیٹھتے ہیں۔ مگر بڑھاپے میں پرانی باتیں کل کی باتیں لگتی ہیں۔ ماضی صاف شفاف دکھائی اور سنائی دیتا ہے۔ بہتے ہوئے دکھ اور سکھ دور حاضر کی طرح واضح ہونے لگتے ہیں۔ پرانے گھاؤ تازہ لگنے لگتے ہیں۔ کل ہی کی تو بات ہے کہ ہم ملے تھے۔آج بچھڑ گئے ہیں۔ اس قدر دور ہوگئے ہیں کہ ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ایک دوسرے کی بھولی بسری سرگوشیاں سن سکتےہیں۔ ان تمام تجریدی باتوں کا مطلب اور مقصد آپ کو باور کروانا ہے کہ انسانی ذات کی تمام سوچ بچار اور سرگرمیوں کاریکارڈ ماضی میں موجود ہے۔ اگر آپ نے اچھے کام کئے ہیں، تو پھر آپ کا اچھا ریکارڈ ماضی میں موجود ہوگا۔ اگر آپ نے مولیٰ کی مخلوق کو ڈرایا،دھمکایا اور ستایا ہے، توپھر آپ کے کارناموں کا بدترین اور قابل نفرت ریکارڈماضی میں موجود ہوگا۔ آپ اپنے ماضی سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔ بلکہ کوئی شخص بھی اپنے ماضی سے پیچھا نہیں چھڑا سکتا۔
اب سوال سامنے آتا ہے کہ ماضی میں محفوظ ہونے کے لئے لگا تار مواد کہاں سے آتا ہے؟ بہتے ہوئے دریاؤں اور ندیوں اور آبشاروں کی طرح بغیر رکے، بغیر ٹھہرے پانی کی طرح مستقبل سے مواد کی آمد جاری رہتی ہے۔ آمد کے اس سلسلے میں سیکنڈ کے ہزارویں حصہ جتنا بھی وقفہ نہیں آتا۔ اور یہ سلسلہ ہماری آخری سانس تک جاری رہتا ہے۔
ایک حیرت انگیز حقیقت ہمیں سکتے میں چھوڑ جاتی ہے۔ کوئی واقعہ، کوئی سانحہ، کوئی نوبت، کوئی اچھی بری کیفیت ظہور پذیر ہوتے ہی ماضی میں تبدیل ہوجاتےہیں۔ کچھ بھی تھمتا نہیں جسے ہم حال سے تعبیر کرسکیں۔ ابھی ابھی آپ جو سانس لے رہے ہیں وہ ماضی میں داخل ہوتی رہتی ہے۔حیات جاوداںمیں دوزمان ہوتے ہیں، مستقبل اور ماضی۔ لامتناہی سلسلہ میں حال پر اسرار صراط ہے جس سے گزرتے ہوئے مستقبل ماضی میں بدل جاتا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

