قومی اسمبلی نے ایک بار پھر پنجاب انتخابات کے لئے 21 ارب روپے جاری کرنے کی تجویز مسترد کردی ہے۔ سپریم کورٹ اسٹیٹ بنک کو حکم دے چکی ہے کہ وہ اس مد میں وزارت خزانہ کو یہ رقم فراہم کرے تاکہ اسے پنجاب میں انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن کو منتقل کیا جا سکے۔ قومی اسمبلی میں اس تجویز پر رائے دہی سے پہلے اسٹیٹ بنک کی طرف سے واضح کیا جا چکا تھا کہ عدالت کے حکم پر رقم مختص کردی گئی ہے لیکن اسے پارلیمنٹ کی اجازت کے بغیر جاری نہیں جا سکتا۔
یوں حکومت اور سپریم کورٹ بدستور ایک دوسرے کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں اور بظاہر کوئی بھی فریق پسپائی اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ اس دوران جماعت اسلامی کی طرف سے حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بات چیت میں بھی کوئی نئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ البتہ فواد چوہدری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختون خوا کے انتخاب تو عدالتی حکم کے مطابق ہی ہوں گے البتہ حکومت قومی اسمبلی کے انتخابات پر بات کر لے۔ اگر فواد چوہدری کا یہ بیان تحریک انصاف کی باقاعدہ حکمت عملی ہے تو یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ انتخابات کے بارے میں کسی اتفاق رائے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے وزیر اعظم شہباز شریف اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ساتھ ملاقات کے بعد یہی تاثر دیا تھا کہ یہ مذاکرات ملک میں عام انتخابات ایک ہی وقت میں کروانے کے لئے ہوں گے۔ تاہم اگر تحریک انصاف پنجاب اور خیبر پختون خوا کے انتخابات کے حوالے سے کوئی نرم رویہ اختیار نہیں کرتی تو مفاہمت کا کوئی امکان پیدا نہیں ہو سکتا۔
اس دوران فواد چوہدری پنجاب اور خیبر پختون خوا میں نگران حکومتوں کا معاملہ بھی سپریم کورٹ لے جانے کا اعلان کر رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ کوئی نگران حکومت 90 روز سے زیادہ کام نہیں کر سکتی۔ پنجاب اور خیبر پختون خوا کی اسمبلیاں جنوری کے دوران تحلیل کی گئی تھیں۔ اس حساب سے دونوں صوبوں کی نگران حکومتوں کو اپریل کے دوران ختم ہوجانا چاہیے لیکن ملکی تاریخ میں یہ بھی پہلی بار دیکھنے میں آ رہا ہے کہ نگران حکومتوں کی مدت پوری ہو رہی ہے لیکن سپریم کورٹ کے براہ راست حکم کے باوجود ان صوبوں میں انتخابات کا کوئی امکان نہیں ہے۔
اس کی سب سے بڑی وجہ خود سپریم کورٹ کی طرف سے دونوں صوبوں کے انتخابات کے حوالے سے لئے گئے سوموٹو نوٹس پر فیصلہ میں ابہام کی صورت حال ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ اس بارے میں فیصلہ پانچ رکنی بنچ نے کیا تھا۔ بنچ کے دو ارکان نے اختلاف کیا لیکن تین ارکان کا اکثریتی حکم ہی سپریم کورٹ کا فیصلہ مانا جائے گا۔ لیکن بنچ میں شامل دو ارکان کے اختلافی فیصلہ کے علاوہ جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلہ کی روشنی میں سوموٹو لینے کا معاملہ سات میں سے چار ججوں نے مسترد کیا تھا۔ اس طرح یکم مارچ کا حکم درحقیقت جن تین ججوں نے دیا تھا، ان کی حیثیت اقلیتی ارکان کی ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اس ابہام کو دور کرنے اور اختلافی نقطہ نظر کو مناسب احترام دینے کی بجائے الیکشن کمیشن کو 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کروانے کا حکم دے دیا اور حکومت سے کہا گیا کہ وہ مطلوبہ وسائل فراہم کرے۔ حکومت نے قومی اسمبلی میں مالیاتی تجویز کی صورت میں اس راستے میں رکاوٹ کھڑی کردی۔ اس کے باوجود چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اسٹیٹ بنک کو 21 ارب روپے فراہم کرنے کا براہ راست حکم دیا۔ سپریم کورٹ کے فاضل جج حضرات ابھی تک یہ واضح نہیں کرسکے کہ ایک صوبے میں انتخاب کے لئے آئینی شرط پر اصرار کرتے ہوئے وہ ملکی پارلیمنٹ کی رائے کو کیسے مسترد کر سکتے ہیں۔ کیا سپریم کورٹ کے ججوں پر بھی قومی اسمبلی میں منظور ہونے والے قوانین اور آئین کے تحت اسے حاصل اختیارات کا احترام واجب نہیں ہے؟
خاص طور سے مالی معاملات پر سپریم کورٹ کو حکم دیتے ہوئے احتیاط اور معاملہ فہمی سے کام لینا چاہیے۔ ماضی میں اسٹیل مل اور ریکوڈک معاملات میں عاقبت نا اندیشانہ حکم جاری کر کے سپریم کورٹ پاکستان پر کثیر مالی بار ڈالنے کا موجب بن چکی ہے۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ کو ریاستی اداروں کے درمیان توازن قائم کرنے، ان کی خود مختاری کا احترام کرنے اور ہر ادارے کو اپنے دائرہ کار میں کام کرنے کا اہتمام بھی کرنا چاہیے۔ اسٹیٹ بنک کو مالی وسائل فراہم کرنے کا براہ راست حکم دینا ادارہ جاتی خود مختاری کے اس بنیاد اصول کے خلاف ہے۔
سپریم کورٹ چونکہ ایک آئینی ادارہ ہے جسے قانون و آئین کی روشنی میں ہی فیصلے کرنے ہوتے ہیں، اس لئے اصولی طور پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ججوں کو پارلیمنٹ کے فیصلوں اور وہاں سے سامنے آنے والی رائے کا مکمل احترام کرنا چاہیے۔ لیکن ان دنوں زیادہ سے زیادہ اختیار اپنے ہاتھ میں لانے کی دوڑ میں سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ براہ راست مد مقابل ہیں۔ توقع تو یہ کی جانی چاہیے کہ اگر قومی اسمبلی اتفاق رائے سے کوئی قرار داد منظور کرتی ہے تو سپریم کورٹ کے فاضل جج حضرات پارلیمانی نظام کے احترام میں اس پر عمل کرنا بھی کسی قانون کو ماننے ہی کی طرح اہم سمجھیں لیکن موجودہ حالات میں پارلیمنٹ ملک میں انتخابات ایک ہی وقت میں کروانے کی متفقہ قرار داد منظور کرچکی ہے لیکن سپریم کورٹ اسے خاطر میں لانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اب پارلیمنٹ پنجاب انتخابات کے لئے وسائل فراہم کرنے سے انکار کر رہی ہے لیکن سپریم کورٹ کے چند ججوں نے اسے عزت و وقار کا مسئلہ بنا لیا ہے۔
اس دوران قومی اسمبلی کے اسپیکر راجا پرویز اشرف نے وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو میں دلچسپ پہلو سے اس تنازعہ پر اظہار خیال کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ اگر سپریم کورٹ پارلیمنٹ میں بنے ہوئے قوانین کو تسلیم ہی نہیں کرتی اور خود اپنی مرضی کے فیصلے جاری کرے گی تو پھر ملک میں انتخابات کا ڈھونگ رچانے کی کیا ضرورت ہے اور آئین کا نام لینا کیوں اہم ہے۔ سپریم کورٹ ہی فیصلے صادر کر دیا کرے۔ واضح رہے حال ہی میں سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی بنچ نے ایک ایسا قانون نافذ ہونے سے پہلے ہی مسترد کر دیا تھا جس کے تحت آئینی شق 184 ( 3 ) کے تحت چیف جسٹس کے اختیار کو محدود کرتے ہوئے یہ اختیار سینئر ججوں کی سہ رکنی کمیٹی کے حوالے کیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ سوموٹو مقدمات میں فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق بھی دیا گیا تھا۔ قانون نافذ ہونے سے پہلے مسترد کرنے کے طرز عمل کا ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے قومی اسمبلی نے گزشتہ ہفتہ کے دوران ایک نیا بل منظور کیا ہے جس میں سوموٹو مقدمات میں اپیل کا حق دیا گیا ہے۔ ابھی اس بل کو سینیٹ اور صدر کی منظوری کے مراحل سے گزرنا ہے۔ البتہ یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا کہ سپریم کورٹ اس بل کے بارے میں کیا طرز عمل اختیار کرتی ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے بجا طور سے یہ دردمندانہ اپیل کی ہے کہ ’سپریم کورٹ کے ججوں کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کہیں وسیع تر قومی مفاد کو نقصان پہنچانے کا سبب تو نہیں بن رہے۔ اور کیا ہم خود ہی اپنی پارلیمان کو بے وقعت تو نہیں کر رہے، جس کے بہت خطرناک اثرات ہو سکتے ہیں۔ راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ تمام اداروں کی ماں ہے جہاں سے آئین نے جنم لیا۔ اور‘ آئین پاکستان کے مطابق اقتدار کو عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کیا جائے گا، کسی اور ادارے کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے ’۔ سپریم کورٹ کو پارلیمان کے ساتھ اختیارات کی تقسیم کے سوال پر تنازعہ میں نہیں پڑنا چاہیے۔ یہ مقابلہ بازی کسی کے مفاد میں نہیں ہو سکتی۔
راجہ پرویز اشرف کہتے ہیں کہ ’سیاست میں تقسیم ضروری ہے کیوں کہ اختلاف رائے کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی لیکن اگر یہ تقسیم سپریم کورٹ میں آ جائے تو پھر عدلیہ نہیں چل سکتی‘ ۔ اس وقت ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں پائی جانے والی تقسیم اور چیف جسٹس کی طرف سے یک طرفہ طور سے گروہ بندی پر اصرار کا طرز عمل ملکی نظام کے حوالے سے اہم ترین سوال بنا ہوا ہے۔ چیف جسٹس کے پاس اس مشکل سے نکلنے کے کئی مواقع تھے لیکن وہ مسلسل بند گلی کی طرف پیش قدمی پر مصر ہیں۔
پہلے تو پنجاب و خیبر پختون خوا میں انتخابات کے سوال پر جب چار ججوں نے سوموٹو کو غلط قرار دیا تو چیف جسٹس کو اسے نظر انداز کر کے پانچ رکنی بنچ کے اکثریتی فیصلہ پر اصرار نہیں کرنا چاہیے تھا۔ پھر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین خان نے سوموٹو کے تحت تمام مقدمات پر کارروائی مؤخر کرنے کا حکم دیا تھا۔ چیف جسٹس اسے اپنی ذات پر حملہ سمجھنے کی بجائے، اگر اسے بند گلی سے نکلنے کا راستہ سمجھتے تو صوبائی انتخابات کے مقدمات کو روک کر سرخرو ہوسکتے تھے اور سپریم کورٹ میں تقسیم کا تاثر بھی زائل ہوجاتا۔ اس کے بعد پارلیمنٹ کی اس قرار داد سے بھی رہنمائی حاصل کی جا سکتی تھی کہ سب اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی وقت میں منعقد ہونے چاہئیں۔ البتہ سپریم کورٹ کے فاضل جج یہ سارے مواقع ضائع کرچکے ہیں۔ اب تصادم کی صورت حال بہت واضح ہے۔
قومی اسمبلی نے فنڈ فراہم کرنے سے انکار کر کے درحقیقت چیف جسٹس کو معاملہ فہمی سے کام لینے کا پیغام دیا ہے۔ اگر اس پیغام کو دوستانہ مشورہ سمجھنے کی بجائے سپریم کورٹ کی عزت پر حملہ سمجھا گیا تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے کوئی بھی انہونی ممکن ہے۔ لیکن ان کی طرف سے کسی غیر معمولی کارروائی کے اثرات ملکی سیاست کے علاوہ عدلیہ اور ججوں پر بھی مرتب ہوں گے۔ اداروں کے درمیان مقابلے بازی کی یہ صورت مستقل طور سے جاری نہیں رہ سکتی۔
( بشکریہ : ہم سب ۔ لاہور )
فیس بک کمینٹ

