قلےایک انگریزی کہاوت ہے ، آپ نے ضرور سنی ہوگی۔ ایک مرتبہ اور سن لیجئے۔ چونکہ اس کہاوت سے منسلک کسی قسم کے نفع نقصان کا امکان نہیں ہے۔اسلئے انگریز کی کہاوت بار بار سننے سے آپ کو کسی قسم کا خسارہ نہیں ہوگا۔ آپ کہاوت سنئے ۔Man is Known by the Company he Keepsسلیس اردو میں انگریزی کہاوت کا مطلب ہے کہ آپ کے دوست آپ کی پہچان ہوتے ہیں۔ یعنی آپ کا جن لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے انہیں دیکھ کر آپ کے بارے میں رائے قائم کی جاتی ہے۔ جن جن لوگوں کے ساتھ آپ کی گاڑھی چھنتی ہے، ان پر نظر رکھنے سے آپ کے چال چلن کا پتہ چلایا جاسکتا ہے۔ انگریز کی بات سچ تو ہے، مگر بات ہے رسوائی کی۔ یار باشی رکھنے کے لئے آپ آسمانی مخلوق کہاں سے لائیں گے؟ ہم زمینی مخلوق فرشتے نہیں ہوتے ۔ ہم کچھ کچھ اچھے اور کچھ کچھ بُرے ہوتے ہیں۔ دو کندھوں پر رکھی ہوئی گناہوں کی گٹھڑی اور ثوابوں کی گٹھڑی میں ہم توازن برقرار نہیں رکھ سکتے۔ یہی سبب ہے کہ ہم دعاؤں میں بلک بلک کر کہتے رہتے ہیں:گناہ کو میرے ، تیری رحمت پہ ناز ہے …. بندہ ہوں ، جانتا ہوں، تو بندہ نواز ہے۔
میں چونکہ انگریز کا دیرینہ دشمن ہوں اس لئے میں ہر وہ کام کرتا ہوں جس سے انگریزوں کی کہاوتوں، محاوروں، چال چلن کی نفی ہو۔ مثال کے طور پر گھومتے پھرتے میں چاکلیٹ خریدتا ہوں۔ میں ذیابیطس کا مریض ہوں۔ مگر پھر بھی ایک نیک مقصد کے لئے میں چاکلیٹ خریدتا ہوں۔ انگریز شاذو نادر ہی ہمارے ملک میں دکھائی دیتے ہیں۔ میرا مقدس فریضہ انگریز کی نفی کرنا یا اسے چڑانا ہوتا ہے ، اس لئے چاکلیٹ کا ریپر یعنی بیرونی کاغذ جس میں چاکلیٹ لپٹا ہوا ہوتا ہے، اتار کر ایک طرف پھینک دیتا ہوں، اور چاکلیٹ دوسری طرف پھینک دیتا ہوں۔ ایسا کرنے سے مجھے دلی سکون ملتا ہے۔ مجھے لگتا ہے ، جیسے میں انگریز سے بدلا لے رہا ہوں۔ یاد رہے کہ بد بخت انگریز چھوٹا موٹا کوڑا کرکٹ اپنی جیبوں میں ٹھونس لیتا ہے۔
اپنے ملک کی سڑکوں ، گلی کوچوں، چوراہوں، پلیٹ فارموں، پارکوں میں گند پھیلا کر مجھے بے انتہا خوشی محسوس ہوتی ہے۔ مجھے تب محسوس ہوتا ہے ،میں جیسے انگریز سے بدلہ لے رہا ہوں۔ بد بخت انگریز نے ہم سے پانچ سو برس پرانی ہندوستان کی حکومت چھینی تھی۔ پانچ سو برس چھوٹا موٹا قابل فراموش عرصہ نہیں ہوتا۔ یہ پانچ صدیوں کا معاملہ ہے۔ اگر میرے بس میں ہوتا تو میں کب کا انگریز کے خلاف فوج کشی کرچکا ہوتا اور اس سے برطانیہ نام کا ملک چھین لیتا۔ اگر ہم اسپین فتح کرسکتے ہیں ،تو پھر برطانیہ کی ہمارے آگے کیا حیثیت تھی۔ تاریخ کے اوراق میں اس لئے پلٹنے لگتا ہوں تاکہ آپ پر ثابت کرسکوں کہ میں انگری کا کس قدر کٹر دشمن ہوں۔ انگریز کی کہاوتیں اور محاورے چاہے کتنے ہی عمدہ اور عالیشان کیوں نہ ہوں، میں ان کہاوتوں اور محاوروں کی نفی کرتاہوں۔بات چل نکلی تھی انگریزی کہاوت Man is known by the company he keepsسے ۔ آپ مجھے میرے دوستوں کے حوالے سے کبھی نہیں پہچان سکتے۔ یہ میری دانستہ مزاحمت ہے، مدافعت ہے انگریزی کہاوت کے خلاف میرے گرد میرے دوستوں کے جمگھٹے دیکھ کر آپ دنگ رہ جائیں گے۔میرے دوستوں میں مختلف نوعیت کے پیشوں سے وابستہ لوگ شامل ہوتے ہیں۔ انگریزی محاروے کی نفی کرنے کے لئے میں دوستوں کے جمگھٹوں میں گھرا رہتا ہوں۔ ورنہ میں بڑا ہی بور قسم کا آدمی ہوں، اکیلا، اجاڑ اور ویران۔ٹھٹھے لگانے والے دوست مجھے چیپ، سستے، اور زہر لگتے ہیں۔ محض انگریزی کہاوت کی نفی کرنے کیلئے میں نے ان سے نام نہاد دوستی گانٹھ رکھی ہے۔ میرے نام نہاد دوستوں میں کچھ دوست ایسے بھی ہیں جو انتخابات کے دوران ایک سے زیادہ ووٹ ڈالنے کے ماہر ہیں۔ووٹ ڈالنے والوں یعنی سیاستدانوں کے دلدادہ ہوتے ہیں ان کو دیکھ کر آپ میرے بارے میں کچھ نہیں جان سکتے۔ ووٹ ڈالنے کا میرا اپنا طریقہ کار ہے۔ انتخابی پرچی پر بنے ہوئے نشان ، اشیا کے شکلیں،مورتیوں کی تصویریں نظرانداز کرتے ہوئے میں ان پر کاٹا لگا دیتا ہوں۔ ووٹ کے آخر میں چھوڑی ہوئی جگہ پر میں چوہے کی تصویر بناکر ووٹ چوہے کے نام ڈال دیتا ہوں۔ کبھی کبھار لومڑ یا گیدڑ کی تصویر بناکر اس پر ٹھپا لگا کر ووٹ کبھی کسی گیدڑ ، کبھی کسی لومڑ کے نام بیلٹ بکس میں ڈال دیتا ہوں۔ آپ کو حیرت ہوگی کہ میرے ایک ووٹ کی وجہ سے کئی مرتبہ کبھی چوہے، کبھی لومڑ، کبھی گیدڑ اسمبلی کے ایوانوں تک پہنچ جاتے ہیں۔
میرے نام نہاد دوست خود کو سچ بولنے، سچ سننے اور سچ لکھنے کا علم بردار سمجھے ہیں۔ معاشرے میں بڑی عزت ہے ان کی۔ ایسی ساکھ بہت کم لوگوں کے حصہ میں آتی ہے۔میرا ان کے ساتھ میل جول ہے۔اٹھنا بیٹھنا ہے ۔ ان کے ساتھ میرا اوڑھنا بچھونا ہے۔ سب دوست ایک دوسرے پر جان چھڑکتے ہیں۔ جب دیکھو تمام دوست سچ بولنے،سچ سننے ، اور سچ لکھنے کی ہمسری میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی سعی میں لگے رہتے ہیں۔ اب آپ مجھے بتلائیں کہ ایسے لوگوں سے میری دوستی کیسے ہوسکتی ہے ؟ آپ تو جانتے ہیں کہ میرا اوڑھنا بچھونا جھوٹ ہے۔ میں جھوٹ لکھتا ہوں، جھوٹ بولتا ہوں اور جھوٹ کی توسیع کرتا ہوں۔ میرے نام نہاد دوستوں کو دیکھ کر کوئی انگریز اندازہ نہیں لگا سکتا کہ میں کس خصلت کا آدمی ہوں۔ میں نے انگریزی کہاوت کی نفی کردی ہے۔ میں کبھی نہیں بھول سکتا کہ ہندوستان کی حکومت انگریز نے ہم سے چھینی تھی، ہندو سے نہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

