امر جلیلکالملکھاری

راز کی باتیں۔۔امر جلیل

میرے پاس کچھ پنے ہیں۔ پنے سمجھتے ہیں نا آپ؟ اوراق، صفحے، Pages۔ بہت سی اہم قسم کی معلومات درج ہے اِن صفحوں پر۔ آپ اس بات کو چھوڑ دیں کہ اس قدر اہم صفحے میرے پاس کس ذریعہ سے پہنچے ہیں اور کس نے پہنچائے ہیں۔ صفحوں سے ملنے والی معلومات میں آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ یہ صفحے مجھ تک کہاں سے پہنچے ہیں، اس بات کو آپ چھوڑ دیں۔ آپ آم کھائیں، یعنی معلومات سنیں۔ درخت اور آم مت گنیں۔
یہ چند صفحے کسی مخفی فائل سے کھسکائے گئے ہیں۔ جس کسی نے یہ اہم صفحے مخفی فائل سے نکالے ہیں، وہ عجلت میں تھا۔ صفحوں کی صورت دیکھنے کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوا ہے۔ فائل کھول کر صفحے نکالنے کے بجائے صفحے کھینچ کر فائل سے نکالے گئے ہیں۔ اس لیے کچھ صفحے پھٹے ہوئے ہیں اور کچھ صفحے چرمر ہیں۔ بہرحال، صفحوں پر لکھی ہوئی معلومات پڑھی جا سکتی ہیں۔ میں نے پڑھی ہے، اب میں آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ فائل کس ادارے کی ہے جس کے کچھ پنے مجھے ملے ہیں۔ ہاں، میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میرے پاس جو صفحے ہیں وہ کسی پاکستانی ادارے کی فائل سے نکالے ہوئے نہیں ہیں۔ اس کیلئے میرے پاس دو وجوہ ہیں۔ ایک یہ کہ صفحوں پر لکھی ہوئی انگریزی کسی بھی حوالہ سے دیسی انگریزی نہیں ہے۔ وہ گوروں کی لکھی ہوئی انگریزی ہے۔ گوروں کی انگریزی اور ہماری انگریزی میں سب سے بڑا فرق لفظ Welcomeہے۔ ہم ویلکم کو Wel Comeیا Well Comeلکھتے ہیں۔ گورے ویلکم کو Welcome لکھتے ہیں۔ دوسری وجہ جس کی بنا پر میں نے محسوس کیا کہ مخفی صفحے کسی دیسی ادارے کی فائل سے غائب کیے ہوئے نہیں ہیں، وہ وجہ ہے کہ مخفی صفحوں میں امداد مانگنے کی بات لکھی ہوئی نہیں ہے۔ مخفی صفحوں میں امداد میں ہمیں بڑی رقم ملنے اور رقم کے ساتھ شرائط لکھی ہوئی ہیں۔ اس لیے مجھے یقین ہے کہ جس فائل سے مخفی صفحے نکال کر مجھ تک پہنچائے گئے ہیں، وہ فائل کسی بین الاقوامی ادارے کی فائل ہے۔ آپ تو جانتے ہیں کہ چھوٹے بڑے بین الاقوامی اداروں نے پاکستان میں اپنے اپنے ذیلی دفاتر کھول رکھے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں وہ فائل آئی ایم ایف کی ہے۔ میرے سمجھنے سے کیا ہوتا ہے۔ آئی ایم ایف کے علاوہ ایک بین الاقوامی ادارے کا نام ہے ایف ایم آئی۔ اس ادارے کے ذیلی دفتر سے چرائی ہوئی ایک فائل میں ہمیں ملنے والی رقم کے ساتھ نتھی (Tagged) شرائط لکھی ہوئی ہیں۔ خاصی لمبی فہرست ہے۔ مثلاً ایک پاکستانی کو دن میں کتنی بار سانس لینی چاہئے۔ ایک پاکستانی کو کب مسکرانا چاہئے، کب ہنسنا چاہئے، کب رونا چاہئے۔ ایک پاکستانی کو کب شادی کرنی چاہئے، کب اور کتنے بچے پیدا کرنے چاہئیں، اور کب مرجانا چاہئے۔ اس نوعیت کی بیشمار شرطیں لکھی ہوئی ہیں ان صفحوں پر۔ امدادی رقم قسطوں میں دی جائے گی، وہ بھی مرحلہ وار۔ اس دوران امداد دینے والا ادارہ حکومت پاکستان کی کارکردگی پر نظر رکھے گا۔ ذرا سی کوتاہی پر امداد کی اگلی قسط روک دی جائے گی۔ پاکستانیوں کو بچے پیدا کرنے کی رفتار لازماً کم کرنا پڑے گی۔ تیزی سے بچے پیدا کرنے کا خمیازہ حکومت پاکستان کو بھگتنا پڑے گا۔ امدادی رقم میں کمی کردی جائے گی۔ اب تمام تر بوجھ پاکستانی قوم کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے۔ اگر آپ امداد میں ملنے والی بھاری بھرکم رقم کے متمنی ہیں، تو پھر لازماً آپ کو بچے پیدا کرنے کی رفتار کم کرنا پڑے گی۔ آپ تیزی سے بچے پیدا کرتے رہیں اور بین الاقومی اداروں اور دولتمند ممالک سے بوریاں بھر بھر کر امداد بھی لیتے رہیں، یہ ہو نہیں سکتا۔ قرض دینے والوں کی شرائط ماننا پڑتی ہیں۔ وہ دور گزر گیا جب امداد دیتے اور لیتے ہوئے بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ کی خبر نہیں ہوتی تھی۔ رازداری کا مقصد ہوتا تھا کہ امداد لینے والے کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔ مدتوں سے وہ دور گزر گیا ہے۔ اب امداد دینے والے ببانگِ دُہل امداد لینے والے ملک کا نام لیکر امدادی رقم دینے کا اعلان کرتے ہیں۔ اسی طرح امداد لینے والے ممالک سرعام اعلان کرکے امداد وصول کرتے ہیں۔
مخفی فائل سے چرائے ہوئے صفحوں میں امداد دینے والے ادارے کی شرائط لکھی ہوئی ہیں۔ فضول اور بےسود مد میں خرچ کرنے سے حکومت پاکستان کو سختی سے روکا گیا ہے۔ مجھے حیرت تب ہوئی جب فضول اور بےسود مند میں مَیں نے اپنا ذکر پڑھا۔ میرا نام براہ راست لکھا ہوا نہیں ہے مگر وضاحتوں میں انگلیاں میری طرف اٹھتی ہیں۔ اشارے اس قدر واضح ہیں کہ مجھے کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ صاف صاف لکھا ہوا ہے کہ ایسے بڈھے یعنی بوڑھے، جو کسی کام کے ہیں نہ کاج کے، ان کو پنشن دیکر پالنا بے سود اور فضول سرمایہ کاری کی مد میں آتا ہے۔ ایسے بڈھے ملک کی معیشت پر بوجھ ہوتے ہیں۔ وضاحت کے ساتھ لکھا ہوا ہے کہ مفت خور بڈھوں کو پالنا بند کریں۔ یعنی عمر رسیدہ لوگوں کو پنشن دینا بند کریں۔ اگر ان کی پنشن بند کرنا سردست ممکن نہیں، ہم تجویز کرتے ہیں کہ پنشن میں سالانہ اضافہ کی احمقانہ روایت فوراً ختم کی جائے۔ چرائے ہوئے مخفی پنوں میں بڈھوں سے جان چھڑانے کی تجویزیں دی گئی ہیں تاکہ بےسود اور فضول مد میں ہونے والے اخراجات سے جان چھڑائی جا سکے۔ ان پنوں پر بڈھوں سے جان چھڑانے کے بڑے انوکھے اور دلچسپ طریقے بتائے گئے ہیں۔ کسی مناسب موقع پر آپ سے شیئر کروں گا۔ میرے ہم عمر بڈھے تیار رہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker