سہیل وڑائچکالملکھاری

کِلّہ بہت مضبوط ہے!۔۔سہیل وڑائچ

پنجابی کا یہ محاورہ جنرل ضیاء الحق مرحوم نے سیاست سے اس وقت روشناس کروایا جب نواز شریف کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی۔ اس دوران جنرل ضیاء الحق لاہور کے دورے پر تشریف لائے اور وزیر اعلیٰ پنجاب نواز شریف کے بارے میں کہا کہ اس کا کِلّہ بہت مضبوط ہے یوں ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ہوا میں اڑ گئی اور میاں نواز شریف پھر سے پوری طاقت و خود مختاری سے پنجاب کے تخت پرحکومت کرنے لگے۔ جنرل ضیاء الحق نوے روز میں الیکشن کروانے کے وعدے پر برسراقتدار آئے اور پھر 4ہزار دن اقتدار سے چمٹے رہے۔ پاکستان کی تاریخ میں جتنے بھی حکمران آئے ان میں سے چانکیہ اور میکاولیانہ سیاست کے وہ سب سے بڑے کلا کار تھے تاہم کِلّہ بہت مضبوط ہے کا محاورہ زبان زد عام کرنے پر اہل سیاست اور اہل ادب کو ان کا شکر گزار ہونا چاہئے۔
آج اس موضوع پر لکھنے لگا تو کِلّہ کا لفظ ڈھونڈنے کے لئے پنجابی ڈکشنری سے رجوع کیا کِلّہ کا لفظ تو موجود تھا مگر اس کے وہ معانی درج نہ تھے، جو پنجاب میں سمجھے جاتے ہیں۔ اہل پنجاب کِلّہ اس لکڑی کے کھونٹے کو کہتے ہیں جس سے جانور باندھے جاتے ہیں یا کِلّہ اس لکڑی کو بھی کہتے ہیں جسے گھڑ سوار نیزہ بازی کے کھیل میں زمین سے اکھاڑ کر لے جاتے ہیں۔ فرہنگ آصفیہ سے رجوع کیا مگر اس معانی والا لفظ تلاش نہ کر سکا۔ پروفیسر تنویر کی فراہم کردہ وارث سرہندی کی علمی اردو لغت میں اس معنی والا لفظ ندارد۔ البتہ کِلّہ سے مراد دانتوں کا جبڑا ضرور اس میں لکھا ملا۔ اردو لغت بورڈ کی لغت کو بھی کھنگالا لفظ موجود مگر معانی یہ والے نہیں۔ بالآخر استاذی شکیل عادل زادہ کو فون کیا اور ان سے رہنمائی لی۔ انہوں نے لفظ کے استعمال کی اجازت بھی دی اور کہا عجیب بات ہے کہ لغت میں یہ معانی دیے ہی نہیں گئے ان کا کہنا تھا یہ پنجابی ہی کا لفظ ہے اور اردو میں بھی پنجابی یا ہندی سے آیا ہے۔
کِلّہ مضبوط ہونا موجودہ حکومت کے دعوؤں سے یاد آیا بھٹو صاحب نے بھی اپنے اقتدار کے آخری ایام میں انہی معنوں میں دوسرے محاورے کو استعمال کر کے کہا تھا کہ ’’میری کرسی بہت مضبوط ہے‘‘ لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ سیاست میں ایسے نشیب و فراز دیکھنے پڑتے ہیں کہ نہ کِلّہ مضبوط رہتا ہے اور نہ کرسی بہت مضبوط رہتی ہے ہر عروج کو زوال آتا ہے اس لئے جو اقتدار میں ہوں انہیں کِلّے کی مضبوطی پر نہیں بلکہ اپنے کاموں پر توجہ دینی چاہئے۔ پنجابی اس خطے کی قدیم زبانوں میں سے ہے جو زبان جتنی قدیم ہوتی ہے اس میں اتنی ہی گہرائی بھی ہوتی ہے۔ پنجابی کسانوں اور گلّہ بانوں میںیہ محاورہ بھی مشہور ہے کہ کِلّے دے زور تے ٹپدا پیا اے‘‘ یعنی یہ جو جانور ناچ ٹپ کر رہا ہے اس کی وجہ اس کا کِلّہ ہے۔ بھٹو صاحب نے کہا کرسی مضبوط ہے تو شاید ان کی مراد یہ تھی کہ وہ بہت پاپولر ہیں اور عوام کی حمایت انہیں مضبوط بناتی ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے نواز شریف کا کِلّہ مضبوط کیا تو صاف ظاہر تھا کہ فوج کی حمایت نواز شریف کو حاصل تھی۔ ہمارے وزیراعظم نے کہا ہے کہ ’’وہ کہیں نہیں جا رہے‘‘ اب سوال ہے کہ ان کی مضبوط کرسی اور ان کا کِلّہ کون ہے۔ اگر تو ان کا کِلّہ وہی ہے جس کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ سب ایک صفحے پر ہیں تو اب اس حوالے سے فاصلے پیدا ہوتے نظر آ رہے ہیں۔
ایک زمانے کی بات ہے کہ حکمران امریکہ کو اپنا کِلّہ سمجھا کرتے تھے۔ جنرل یحییٰ خان ساتویں بحری بیڑے کا انتظار کرتے کرتے مشرقی پاکستان گنوا بیٹھے۔ جنرل مشرف ہوں یا جنرل ایوب خان دونوں امریکی صدور سے اپنی دوستی کی پینگیں بڑھاتے رہے۔ دونوں نے امریکہ کو پاکستان میں فوجی اڈے دیے، دونوں سمجھتے تھے کہ امریکہ سے تعلقات مضبوط ہیں تو ان کا کِلّہ بھی مضبوط ہے۔ جنرل ضیاء الحق اندرونی سیاست میں اوروں کے کِلّے مضبوط کرتے تھے اور خود امریکہ سے اپنا کِلّہ مضبوط کراتے تھے مگر ہم نے دیکھا کہ جب بادِ مخالف چلتی ہے تو پھر وہ کِلّے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہے۔ جنرل ایوب، جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے جانے کا وقت آیا تو امریکہ ہی ان کا مخالف ہو گیا اور اقتدار سے رخصتی کے وقت تینوں ہی کی اپنے سرپرست سے سرد مہری قائم ہو چکی تھی۔ موجودہ وزیراعظم اقتدار میں آئے تو ان کا کِلّہ مضبوط تھا، ان کو ریاستی اداروں کی مکمل حمایت حاصل تھی اور شاید اتنی کھل کر حمایت ماضی میں کسی بھی وزیراعظم کو نہیں ملی۔ ریاست اور حکومت کی یگانگت کے اس دور میں مثالی ترقی ہونا چاہئے تھی اور اب تک نمایاں تبدیلی کے اثرات ظاہر ہو جانا چاہئے تھے مگر اب ایسا لگ رہا ہے کہ کِلّہ مضبوط بھی ہو تو کام خود ہی کر کے دکھانا پڑتا ہے۔ پنجاب کے دیہات کی رِیت ہے کہ بچھڑے اور بھینسے کو نہ صرف کِلّے سے باندھتے ہیں بلکہ اس کے ناک میں نکیل بھی ڈال کر رکھتے ہیں۔ اس دہرے انتظام کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ طاقتور بھینسا غصے یا انتقام میں آ کر اپنے کِلّے کو اکھاڑ پھینکتا ہے اور کِلّے سمیت ہی بھاگ اٹھتا ہے، اس لئے ایسے اڑیل جانوروں کو پکڑنے کے لئے نکیل استعمال کی جاتی ہے۔ ماضی کے اکثر حکمران بھیڑ بکریاں ثابت ہوئے انہیں کِلّے کی سپورٹ ختم ہوئی تو وہ بے وزن ہو کر اقتدار سے باہر ہو گئے مگر اب یوں لگ رہا ہے کہ اقتدار منہ زور کے پاس ہے وہ کِلّہ بھی اڑا لے جائے گا اور نکیل کو بھی ہاتھ نہیں ڈالنے دے گا۔
مویشی کو کِلّے سے باندھنے والا کسان یا گلّہ بان اتنا سمجھ دار ضرور ہوتا ہے کہ اگر اس کا بھینسا یا بچھڑا کنٹرول سے باہر ہو جائے تو پھر اس کا متبادل انتظام کیا جاتا ہے۔ مویشیوں کے باڑے میں اگر صرف ایک بھینسا ہو تو ایک اور بھینسا وہاں لا کر پہلے والے کی طاقت کو متوازن بنایا جاتا ہے، اب بھی کچھ ایسا ہی ہو گا، کِلّے والے نے متبادل کی تلاش شروع کرنی ہے، دیکھیں یہ عمل کب شروع ہوتا ہے۔ کوئی مانے نہ مانے کِلّے والے نے ایک طرف رسی ڈھیلی چھوڑ دی ہے اور دوسری طرف سرکش بچھڑے کا حل ڈھونڈنا شروع کر دیا ہے۔ کاش اس بار حل وہ نہ ہو جو ماضی میں ہوتا آیا ہے مگر کیا کریں اگر حکومتیں کچھ نہیں کریں گی تو پھر وہی کچھ ہو گا جو ماضی میں ہوتا آیا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker