امر جلیلکالملکھاری

امر جلیل کا کالم۔۔جاتے جاتے کچھ اچھا کر جایئے

سرکار آج میں آپ کی توجہ دوسرے بڑے مافیاکی جانب مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ اس مافیا نے پچھلے بہتر برسوں میں دن دونی رات چوگنی ترقی کی ہے۔ دن بدن طاقتور سے بے انتہا طاقتور بن گئے ہیں۔ وہ لوگ پاکستان میں منفی قوتوں کا منبع بن چکے ہیں۔ بہتر برس سے پاکستان پر حکومت کرنے والے کسی حاکم میں دم خم نہیں تھا کہ وہ مافیا کے سرغنوں پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت کرسکتا ۔ بالکل اسی طرح جس طرح آج تک کسی نے بھتہ خوروں کا قلع قمع کرنے کی جرات نہیں کی ہے۔ قابل اعتبار اعدادو شمارstatisticsکا ہمارے ہاں فقدان ہے۔ لہٰذا ایک اندازے کے مطابق دو وقت کی روزی روٹی کے ڈھابے، ٹھیلے اور ریڑھیاں چلانے والے سات کروڑ سے زیادہ لوگ طاقتور بھتہ خوروں کے نیٹ ورک میں پھنسے ہوئے ہیں۔ پچھلے بہتر برسوں میں تیس بتیس وزرائے اعظم پاکستان پر حکمراںرہے ہیں۔ مگر ہر طرح کے مافیا سے ڈرتے رہے ہیں، گھبراتے رہے ہیں۔ دراصل اقتدار میں آنے والے اور اقتدار سے جانے والے وزرائے اعظم کو عوام کے مسائل حل کرنے کی فرصت کہاں ملتی تھی۔ آنے والے اپنے دور اقتدار کا پورا وقت جانے والوں کے گھپلے، کرپشن،چوریاں اور ڈاکے تلاش کرنے میں ضائع کردیتے تھے۔ سرکار آپ نے بھی اپنے دور اقتدار کے پہلے ڈھائی برس دور اقتدار سے جانے والوں کو روسیاہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش میں ضائع کردئے ہیں۔ ہم فقیر خوش فہمی کا شکار تھے کہ پاکستان کی تاریخ میں آپ پہلے حاکم وقت ہوں گے جو ستر برس پرانی روایت کو قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے سے گریز کریں گے مگر ایسا ہو نہ سکا۔ آپ اور آپ کے معاونین اسی گھسے پٹے ڈگر پر چل پڑے جس ڈگر پر ستر برس سے اقتدار میں آنے والے آپ سے پہلے چلتے رہےہیں۔ آپ نے آج تک کچھ نیا کرکے دکھایا نہیں ہے۔
آخری ڈھائی برسوں میں کچھ کرکے دکھائیں سرکار۔ اپنے اقتدار کے آخری ڈھائی برسوں میں آپ ایک کروڑ بے روزگار نوجوانوں کو روزگار نہیں دے سکتے۔ آخری ڈھائی برسوں میں آپ پچاس لاکھ گھر نہیں بنا سکتے۔ یہ امکان سے باہر ہے مگر آپ بھتہ خور مافیا کے چنگل سے سات آٹھ کروڑ بےبس لوگوں کو نجات دلوا سکتے نہیں۔ سرکار آج میں ایک اور مافیا کی نشان دہی کررہا ہوں جن کو گزرے زمانوں کے تیس وزرائے اعظم نظر انداز کرتے آئے ہیں۔ نظر انداز مناسب لفظ نہیں ہے ۔ وزرائے اعظم طاقتور مافیا سے ڈرتے رہے ہیں۔ خوف کھاتے رہے ہیں۔ یہ سنی سنائی باتیں نہیں ہیں۔ یہ آنکھوں دیکھی باتیں ہیں۔ میں نے چالیس برس دیکھا کہ الطاف حسین اور ان کے کن کٹوں، کالے ناگوں، لنگڑے قاتلوں، لولے قصابوں کا ذکر سن کر وڈیروں ،سرداروں، بھوتاروں اور جاگیرداروں پر مشتمل سندھ حکومت کو کپکپی لگ جاتی تھی۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ عام آدمی کی طرح حکومتیں بھی مافیا کا نام سن کر تھر تھر کانپنے لگتی ہیں۔ اگر اس بات میں ابہام ہوتا تو آج حکومت اس مافیا کو ٹھکانے لگا چکی ہوتی۔ اور آج میں جس مافیا کا ذکر آپ سے کررہا ہوں، اس کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں مافیا بغیر کسی روک ٹوک کے مضبوط سے مضبوط تر اور منظم ہوتے جارہے ہیں۔ اب آپ دوسرے مافیا کا قصہ سنیں۔
دوسرا مافیا انسانیت کا دشمن ہے۔ ظلم اور بربریت کے بغیر ان کاکام نہیں چلتا۔ ان کی وحشی کارروائیوں کا کچا چٹھا سنگدلوں کے رونگٹے کھڑے کرسکتا ہے۔سرکار آپ گاڑی بہت اچھی چلا لیتے ہیں۔ عام لوگوں کے پاس جو پھٹیچر گاڑیاں ہوتی ہیں، ایسی کسی گاڑی میں آپ بیٹھیں۔ ہارون رشید اور مامون رشید کی طرح حلیہ بدل کر، کلفٹن کراچی کے تین تلوار والے علاقے سے گزریں۔تین تلوار کے قریب سے آٹھ روڈ یعنی راستے گزرتے ہیں۔ اس لحاظ سے آپ تین تلوار کو آٹھ راستوں والا چوراہا کہہ سکتے ہیں۔ چورا ہے پر آٹو میٹک سگنل لگے ہوئے ہیں۔ سرخ سگنل کے اشارے پر سینکٹروں گاڑیاں رک جاتی ہیں۔ گاڑیوں کے رکتے ہی اچانک بھکاری کھڑی گاڑیوں کوگھیر لیتے ہیں۔ ایسے مناظر آپ کو پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں چوراہوں پر دکھائی دیتے ہیں۔ میں نے کراچی میں تین تلوار والے چوراہے کی مثال اس لئے دی ہے کہ میں تین تلوار والے چوراہے کے قریب رہتا ہوں۔ یہ منظر صبح سےسورج غروب ہونے تک دیکھتا ہوں۔ اس طرح کے بے شمار چوراہے کراچی میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں بھکاری کہاں سےو ارد ہوتے ہیں؟ ان کو وہاں تک کون لے آتے ہیں؟ سورج غروب ہونے کے بعد کون ان کو وہاں سے لے جاتا ہے؟ کہاں لے جاتا ہے؟ میں نہیں جانتا کوئی نہیں جانتا ۔ حیران کن منظر ہوتا ہے۔ روازنہ بھکاری بدلتے رہتے ہیں۔ ایک روز لولے لنگڑے بھکاری آپ کو گھیر لیتے ہیں۔ دوسرے روز پانچ چھ برس سے لیکر دس برس کے بھکاری بچے آپ کی گاڑی کو گھیر لیتے ہیں۔ تیسرے روز میلی کچیلی بھکارنیں نوزائیدہ کوگود میں اٹھائے بھیک مانگنے آجاتی ہیں۔ چوتھے روز خواجہ سرا بھیک مانگنے پہنچ جاتے ہیں۔ اس طرح مختلف قسم کے بھکاری تین تلوار کے آٹھ راستوں والے چوراہے پر صبح لائے جاتے ہیں اور سورج غروب ہونے کے بعد وہاں سے لے جائے جاتے ہیں۔ کس مافیا کے ہیں وہ لوگ، جوان کو بھیک مانگنے کے لئے وہاں چھوڑ جاتے ہیں، اور بھیک منگوانے کے بعد سورج ڈھلے ان کو وہاں سے لے جاتے ہیں؟ سوچنے کی بات ہے سرکار۔ یہ گھنائونا کام سرعام، سب کے سامنے ہوتا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker