امر جلیلکالملکھاری

امر جلیل کا کالم:جب بات پلے نہیں پڑتی

ایک سرائیکی کہاوت ہے، ’’پچھٹنا، نہ منجھٹنا‘‘۔ ہماری زبانوں میں کچھ حروف ایسے ہیں جن کا نعم البدل حرف ہمیں اردو میں نہیں ملتا۔ مثلاً عربی زبان میں حرف پ نہیں ہے۔ اس لئے لفظ پاکستان عربی میں باکستان لکھتے ہیں۔ اسی طرح سندھی، پنجابی اور سرائیکی الفاظ میں حرف ٹ جوکہ اردو کے حرف ٹ کی طرح دکھائی دیتا ہے، کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ اردو لکھتے ہوئے سرائیکی محاورے، ’’پچھٹنا، نہ منجھٹنا میں سرائیکی، پنجابی اور سندھی حرف ٹ کو ٹ اور ن ملا کرتجویز کیا ہے۔ محاورے کا مطلب ہے، جو پوچھتے ہیں، وہ بھٹکتے نہیں، وہ راستہ، منزل کا پتہ بھولتے نہیں۔ یہ محاورہ مجھے اچھا لگتا ہے۔ بڑے کام کا محاورہ ہے۔ اگر آپ کچھ کچھ میرے جیسے ہیں، تو پھر بے دریغ سرائیکی محاورے کو اپنائیں اور اس پر عمل کرکے دیکھیں۔ میرا مطلب ہے کہ خدا نخواستہ اگر آپ میری طرح کچھ کچھ کند ذہن، سست رو، کسی بات، راز، واردات، حادثے کے اسباب سمجھنے سے قاصر ہیں، یا سمجھنے میں دیر لگاتے ہیں تو پھر یقین جانیے آپ کچھ کچھ میرے جیسے ہیں۔ میں نے بہت جھیلا ہے اپنی اس کمزوری بلکہ محرومیت کو۔ مجھے بدھو اور بے وقوف سمجھ کر دفتر میں کولیگ مجھ سے دور دور رہتے تھے مگر جب سے میں نے سرائیکی محاورہ اپنایا ہے، تب سے میں اپنے آپ کو کم کم بدھو سمجھتا ہوں۔جب کوئی بات، کسی حادثے یا واقعہ کے اسباب میری سمجھ میں نہیں آتے تب میں کنفیوژ نہیں ہوتا، الجھن اور گھٹن محسوس نہیں کرتا۔ میں سیانوں کو ڈھونڈ نکالتا ہوں۔ سنی ہوئی سمجھ سے بالاتر بات ان سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ان سے استفسار کرتے کرتے غیرمعمولی واقعے یا حادثے کی تہہ تک پہنچنے کی سعی کرتا ہوں۔ میری آپ سے مودبانہ عرض ہے کہ آپ جب بھی اپنے آپ کو کنفیوژ محسوس کرنے لگیں تب فوراً سیانوں کو ڈھونڈ نکالیں۔ پاکستان میں سیانوں کی کمی نہیں ہے۔ آپ ایک سیانا ڈھونڈنے نکلیں، آپ کو بےشمار سیانے مل جائیں گے۔ آپ اپنی معلومات پر ماتم کریں گے جب آپ کو پتہ چلے گا کہ ہمارے ہاں سیانوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ ہم دنیا بھر کے ممالک کو پاکستانی سیانے ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ سرائیکی محاورے پر عمل پیرا ہونے کے بعد سوچ سمجھ سے وابستہ آپ کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔سردست میں دو باتیں یا ماجرے سمجھنے کی کوشش کررہا ہوں۔ سوچ بچار کے بعد دونوں ماجرے میری ناقص بُوجھ سے بالاتر ہیں۔
ایک ماجرے کا تعلق عافیہ صدیقی سے ہے اور دوسرے ماجرے کا تعلق طالبان سے ہے۔ ایک عرصہ تک میں عافیہ صدیقی کو ماضی کی نامور اداکارہ طلعت صدیقی کی بیٹی عارفہ صدیقی کی جڑواں بہن سمجھتا تھا۔ بونگا ہوں نا۔ اس لئے اکثر سوچتا رہتا تھا کہ عافیہ صدیقی نے آخر ایسا کیا کام کیا ہے کہ وہ امریکہ میں قید تنہائی کی صعوبتیں جھیل رہی ہے۔ امریکی اعلیٰ عدالت نے عافیہ صدیقی کو چھیاسی 86برس جیل کاٹنے کی سزا سنائی ہے۔ اتنی لمبی قید کی سزا کبھی نہ کسی سے سنی اور نہ کبھی پڑھنے کو مواد ملا۔ ہمارے ہاں بھی عدالتیں عمرقید کی سزا سناتی ہیں مگر اس عمر قید کی مدت چودہ برس ہوتی ہے۔ عافیہ صدیقی کی روداد سمجھنے کے لئے میں نے سیانوں سے رجوع کیا۔ میرا ماتھا ٹھنکا جب سیانوں کے توسط سے مجھے معلوم ہوا کہ عافیہ صدیقی مرحومہ طلعت صدیقی کی بیٹی نہیں۔ اس لئے وہ عارفہ صدیقی کی جڑواں بہن نہیں ۔ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہیں۔ میں نے ڈاکٹر عافیہ کے جرم اور غیرمعمولی سزا کے بارے میں کچھ سمجھنے اور لکھنے کا ارادہ ملتوی کردیا۔ میں مانا ہوا بوڑم ہوں۔ جب تک سپرپاور امریکہ کے سپر جوڈیشل سسٹم کو سمجھ نہیں پائوں گا، تب تک عافیہ صدیقی کے بارے میں کچھ نہیں لکھوں گا۔ میں سپر سیانوں سے رابطے میں ہوں۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ ڈاکٹر عافیہ کو امریکی عدالتوں سے ملنے والی چھیاسی برس کی قید تنہائی عالمی ریکارڈ ہے؟ یا، گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں چھیاسی برس سے زیادہ کسی کو ملنے والی سزا، اور سزا دینے والے ملک کا نام لکھا ہوا ہے؟اسی طرح طالبان کا ماجرامیری سمجھ میں نہیں آتا۔ دنیا بھر میں وہ مختلف شناخت اور شہرت رکھتے ہیں۔ کہیں پر طالبان کو دہشت گرد کہا جاتا ہے۔ کہیں پر ان کو مجاہد اور اسلام کے سپاہی کہا جاتا ہے۔ میں اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتا کہ طالبان دہشت گرد ہیں یا اسلام کے سپاہی۔ اپنے باوثوق ذرائع سے میں نے معلوم کرلیا ہے کہ طالبان جنگجوئوں میں سائنس دان اور انجینئر نہیں ہیں۔ وہ ہتھیار اور ہتھیاروں سے چلنے والی گولیاں، بم، میزائل، اور راکٹ نہیں بنا سکتے۔ تو پھر جنگ جیتنے کے لئے ان کو ہتھیار، گولیاں، بم، میزائل اور راکٹ کون دیتا ہے؟ جنگ و جدل میں Supply Lineکو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ جنگ کے دوران دونوں فریق ایک دوسرے کی سپلائی لائن کاٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پچھلے دنوں سندھ کے جنگلات میں دھاڑیلوں کے خلاف آپریشن ہوا تھا۔دھاڑیل ایک قسم کے دہشت گرد ہوتے ہیں۔ دھاڑیلوں نے رینجرز اور پولیس کے خلاف جدید اسلحہ استعمال کیا تھا۔ میں سیانوں سے پوچھتا پھر رہا ہوں کہ جنگلوں میں آباد دہشت گردوں کو جدید اسلحہ کون دیتا ہے؟ جدید اسلحہ چلانے کی تربیت انہیں کون دیتا ہے؟ آج تک کسی سیانے نے مجھے نہیں بتایا کہ دہشت گردوں تک ہتھیار کیسے اور کہاں سے آتے ہیں؟ دنیا کا ہر بوڑم جانتا ہے کہ ہتھیار بانٹے نہیں جاتے۔ ہتھیار بیچے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہتھیار بنانے کے کارخانے چلتے رہتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ سیانے سب کچھ جانتے ہیں۔ مگر بتاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker