2018 انتخاباتامجد اسلام امجدکالملکھاری

یک اور فیصلے کی گھڑی: چشم تماشا /امجد اسلام امجد

6 جولائی کا سارا دن رات گئے تک ٹی وی کے سامنے گزارا کہ چار بجے تک فیصلے کے انتظار میں کیس کی تفصیلات، پس منظر، امکانات، اور تجزیوں کا ہنگامہ رہا اور سزا کے اعلان کے بعد اب کیا ہو گا؟ کی بحث باقی تمام موضوعات پر غالب آگئی۔ ان باتوں کو دہرانا یا اس بھیڑ میں اپنی ’’ذاتی رائے‘‘ کو شامل کرنا ایک بیکار سی بات ہے۔ اس ڈرامے میں مبینہ طور پر کون کون سے کردار تھے؟ اور ان کا کیا کیا رول رہا اور وہ تھے بھی یا نہیں!
یہ سب باتیں بھی اسلیے بے مقصد ہو گئی ہیں کہ کوئی اس فیصلے کے حق میں ہو یا خلاف دونوں صورتوں میں وہ کسی مخصوص مائنڈ سیٹ کی عینک سے اس منظر کو دیکھتا ہے اور اس کے مطابق صورتحال کو دکھاتا اور اس کا تجزیہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یوں اصل مقصد کے بجائے فروعات میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔ تاریخ کے ایک طالبعلم، ایک محب وطن پاکستانی اور زندگی کی مثبت قدروں پر یقین رکھنے والے بیشمار انسانوں کی طرح میرا مسئلہ کچھ اور ہے لیکن اس پر بات کرنے سے پہلے اپنا ہی ایک شعر سناتا چلوں کہ یہ میری معروضات سے براہ راست متعلق ہے
وقت کرتا ہے ہر سوال کو حل
زیست مکتب ہے، امتحان نہیں
تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ وطن عزیز کے قیام سے لے کر اب تک جو کچھ ہوا، جو ہو رہا ہے اور جو امکانی طور پر ہونے جا رہا ہے اس کا تعلق اس علاقے کی تاریخ، جغرافیے، اس میں بسنے والی خلق خدا اور اس کو درپیش ان مسائل سے ہے جن کا غالب حصہ تیسری دنیا کی اس مشترکہ صورت حال سے وابستہ ہے جو ہمیں ورثے میں ملا ہے اور جس کا بوجھ ماضی کے ان خاندانی قرضوں کے مماثل ہے جن کو لینے اور خرچ کرنے والے کچھ اور لوگ تھے مگر جس کی ادائیگی ان کے پسماندگان کو کرنا پڑتی ہے۔
تاریخ کے مختلف ادوار میں ہر غلط یا غلط وقت پر کیا گیا فیصلہ بعد میں آنے والوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اب اس میں اگر ان شکست خوردہ ذہنی رویوں اور اس علمی، ذہنی اور عملی پسماندگی کو بھی شامل کر لیا جائے جو اس کے نتیجے میں نہ صرف پیدا ہوتے ہیں بلکہ ایک طرز حیات کی شکل اختیار کر جاتے ہیں تو معاملہ اور بھی گھمبیر اور پیچیدہ ہو جاتا ہے کہ اول تو ایسے معاشروں کے ادارے مستحکم نہیں ہو پاتے اور دوسرے یہ مل کر چلنے کے بجائے ایک دوسرے کا رستہ کاٹنے لگ جاتے ہیں اور ان کے مابین مفادات اور تحفظات کی ایک ایسی سرد اور بعض صورتوں میں گرم جنگ شروع ہو جاتی ہے جس میں ابتدائی طور پر عوام کی نمائندگی ان کے وہ حاکم طبقے کرتے ہیں جن کی عملی تربیت عوام کے بجائے ان ہی اداروں کے انداز پرورش میں ہوتی ہے جن سے آگے چل کر انھیں ٹکرانا ہوتا ہے کہ کوئی بھی ایک دوسرے کو اپنی حاصل کردہ Space (جو اصل میں ان کے بجائے معاشرے کی امانت ہوتی ہے) میں سے حصہ دینے کو بخوشی تیار نہیں ہوتا اور یوں باہمی Love/Hate کا ایک ایسا سلسلہ جاری ہو جاتا ہے جس میں عوام کی ترقی اور فلاح و بہبود آپ سے آپ پیچھے ہوتی چلی جاتی ہے اور دونوں گروہ اپنی اپنی کام چوری اور کم فہمی کو ایک دوسرے پر لگائے گئے بدنیتی کے نام نہاد الزامات کے بخار میں چھپانے کی ایک ایسی بدعادت میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اصل پارٹی یعنی عوام بے بس تماشائیوں کی طرح اس تماشے کو دیکھتے رہ جاتے ہیں۔
آج کا یہ سارا منظرنامہ بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے جس میں سارا زور کرداروں پر ہے جب کہ اصل مسئلہ ان کرداروں کے رول کے تعین اور اس کہانی کے بہاؤ کا ہے جس کے لیے اداکاروں کے ذہنی رویوں کی تربیت اور اسٹیج پر ان کی Placing اور کی جانے والی Moves کی ہے۔
اگر کردار Over Acting، غلط Moves اور Over Laping کے بجائے اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں تو نہ صرف کہانی صحیح رخ پر آگے بڑھے گی بلکہ بتدریج فی الوقت تماشا دیکھنے پر مجبور عوام بھی اس کا حصہ بنتے چلے جائیں گے جس کی ایک زندہ، روشن اور حالیہ مثال برادر ملک ترکی کی ہے کہ وہاں بھی تقریباً ستر برس تک اداروں کے مابین تصادم کا ایک ایسا ہی سلسلہ جاری تھا مگر پھر ہم نے دیکھا کہ سول اداروں کی مضبوطی، تربیت اور کارکردگی کی بنا پر آہستہ آہستہ وہ Space انھیں ملنا شروع ہو گئی جو ان کا حق اور حصہ تھی مگر نہ تو یہ کام اپنے آپ سے اور نہ ہی براہ راست تصادم کی راہ پر چل کر ہوا ہے۔ اس کے لیے وہاں کے عوام اور ان کی لیڈر شپ نے محنت، صلاحیت اور کارکردگی تینوں کے معیار کو اس قدر بہتر بنا کر عملی شکل میں ڈھالا ہے کہ اب وہ تیزی سے ایک خوشحال اور ترقی یافتہ قوم کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
بلاشبہ یہ ہمارے لیے بھی ایک روشن اور قابل عمل مثال ہے لیکن اس کے لیے ہمیں اپنی مخصوص صورتحال کو سامنے رکھ کر محنت، صلاحیت اور کارکردگی کا ایک ایسا راستہ اپنانا ہو گا جس کی بنیاد ان معروضی حقائق پر ہو جن کا تعلق ہماری اپنی تاریخ، جغرافیے اور موجود وسائل سے ہو کہ اس حقیقت پسندی کے بغیر ہمارے بھٹکنے اور صحیح سمت میں مطلوبہ رفتار سے آگے بڑھنے کے خدشات اسی طرح شکلیں بدل بدل کر ہمارے سامنے آتے رہیں گے۔ جس کی ایک مثال ہم اس وقت دیکھ رہے ہیں۔
انتخابات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے یہ تو 26 جولائی کا سورج ہی بتائے گا مگر اس نتیجے کے بعد کسی بھی شکل میں بننے والی سویلین اور جمہوری حکومت کے سامنے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑا مسئلہ یہ بھی ہو گا کہ وہ سب سے پہلے اپنے سمیت تمام اداروں کو ایک ایسی سطح پر لانے کی کوشش کرے جہاں ایک دوسرے کی موجودہ Space کی اس کی مطلوبہ اور جائز سرحدوں میں لانے اور رکھنے کے لیے نہ صرف تحمل، بردباری، حقیقت پسندی اور جذبۂ حب الوطنی کو ہر قدم پر رہبر اور رہنما سمجھا جائے بلکہ ہر کوئی ’’میں‘‘ کے بجائے ’’ہم‘‘ کی آنکھوں سے دیکھنے کی عادت ڈالے کہ بقول علامہ اقبال
فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف
میں نے نوّے کی دہائی میں میاں محمد نواز شریف کی پہلی حکومت بننے پر ایک نظم لکھی اسی کو آئندہ بننے والی حکومت اور اس کے سربراہ سے شیئر کرتے ہوئے اس دعا پر اس بات کو ختم کرتا ہوں کہ رب کریم ہماری سختیوں کو معاف فرما دے اور ہمیں دنیا و آخرت میں سرخرو کرنے کے لیے وہ عقل اور قوت عمل عطا فرمائے جس کے انتظار میں ہماری آنکھیں فرش راہ اور دل بے چین ہیں۔
یہ اب جو موڑ آیا ہے
یہ اب جو موڑ آیا ہے
یہاں رک کر کئی باتیں سمجھنے کی ضرورت ہے
کہ یہ اس راستے کا ایک حصہ ہی نہیں سارے
سفر کو جانچنے کا، دیکھنے کا، تولنے کا
ایک پیمانہ بھی ہے یعنی، یہ ایسا آئینہ ہے
جس میں عکس حال و ماضی اور مستقبل
بہ یک لمحہ نمایاں ہے
یہ اس کا استعارہ ہے
جو اپنی منزل جاں ہے
سنا ہے ریگ صحرا کے سفر میں
راستے سے دو قدم بھٹکیں تو منزل تک پہنچنے میں
کئی فرسنگ کی دوری نکلتی ہے
سو اب جو موڑ آیا ہے
یہاں رک کر کئی باتیں سمجھنے کی ضرورت ہے
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker