امجد اسلام امجدکالملکھاری

بارے ڈاکٹر کا کچھ بیاں ہو جائے / امجد اسلام امجد

عمر کے ڈھلنے کی یوں تو بے شمار نشانیاں ہیں لیکن ایک حوالہ ایسا ہے جو اپنی تمام تر سنجیدگی کے باوجود مسکرانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک اس کے لیے فون کی ذاتی ڈائری کا نام لیا جاتا تھا، آج کل موبائل فون کے Cantacts کی فہرست کو بنیاد بنایا جاتا ہے کہ جب ان میں ڈاکٹرز کے نام اولیت اور اکثریت حاصل کر لیں تو سمجھ لیجیے بڑھاپا آن پہنچا ہے۔
نومولود بچوں کو لگائے جانے والے حفاظتی ٹیکوں سے لے کر اس جہان فانی سے رخصت کی گھڑیوں تک ڈاکٹرز کے ساتھ ہمارا تعلق کسی نہ کسی شکل میں قائم اور جاری رہتا ہے جب کہ بقول نواز نیاز بیوی کے بعد ڈاکٹر ہی وہ ہستی ہے جو آپ کو آپ سے زیادہ جانتی ہے۔ علوم کی ترقی اور میڈیکل سائنس کے فروغ کے بعد اب سے کچھ عرصہ پہلے تک دنیا کا ہر دوسرا بچہ بڑا ہو کر ڈاکٹر بننے کا ہی ارادہ ظاہر کرتا تھا اور اس کی وجہ ہمیشہ ’’انسانیت کی خدمت‘‘ بتایا کرتا تھا اور یہ جملہ ایک محاورے کی سی شکل اختیار کر چکا تھا کہ ’’میں بڑا ہو کر ڈاکٹر بنوں گا اور انسانیت کی خدمت کروں گا‘‘ اردو کے عظیم مزاح نگار اور میرے ذاتی مہربان بزرگ دوست مرحوم ڈاکٹر شفیق الرحمن نے البتہ اس ضمن میں ایک دانشور بچے کا قدرے مختلف قول سنایا جو کچھ یوں تھا کہ
’’میں بڑا ہو کر مریض بنوں گا اور ڈاکٹروں کی خدمت کروں گا‘‘
اب تو ڈاکٹری کے شعبے میں تعلیم‘ تحقیق اور طریقہ ہائے علاج کے ضمن میں ایسے ایسے شعبے نکل آئے ہیں جن میں سے کچھ کا تو چند برس پہلے تک نام بھی کسی نے نہ سنا تھا اور ایسی ایسی بیماریاں بھی سامنے آ رہی ہیں جن کے مریض معدوم ہوتی زبانوں اور نسلوں کی طرح ڈھونڈنے پڑتے ہیں۔ یہاں تک کہ انسانی دل کی تہہ تک فزیشن کا دماغ اور سرجن کا چاقو ایسے ایسے مقامات کو چھو آیا ہے جو شاعروں کے تخیل اور پہنچ سے باہر تھے۔
تقریباً نصف صدی قبل جب پہلی بار ایک انسان کا پورے کا پورا دل کسی دوسرے انسان کے جسم میں فٹ کر کے چلایا گیا تو اس کے ساتھ ہی بے شمار اور صدیوں سے چلے آ رہے تصورات بھی بدل گئے کہ اب خواب کی جگہ حقیقت نے لے لی تھی۔ مجھے یاد ہے ان دنوں میں نے ایک ساؤتھ افریقن سیاہ فام شاعر کی ڈاکٹر کرسچین برنارڈ (وہ سفید فام ڈاکٹر جس نے تبدیلیٔ قلب کا پہلا کامیاب آپریشن کیا تھا اور جو خود بھی ساؤتھ افریقن تھا) کے نام لکھی گئی ایک بے مثال نظم کا اردو میں ترجمہ بھی کیا تھا جو میری کتاب کالے لوگوں کی ’’روشن نظمیں‘‘ میں شامل بھی ہے اور جس کا مفہوم یہ تھا کہ ’’برنارڈ میرے دوست میرے بھائی تم نے انسانوں کے صدیوں پرانے خواب کو ایک حقیقت کی شکل دے دی ہے کہ ایک کا دل دوسرے کے سینے میں نصب کر دیا ہے۔
مجھے فخر ہے کہ ہم دونوں ہم وطن ہیں لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا کہ جب حشر کے روز تمام انسان دوبارہ سے زندہ کیے جائیں گے اور کالوں کے جسموں میں سفید اور سفید لوگوں کے جسموں میں کالوں کے دل پھر سے دھڑک اٹھیں گے تو اس دھمکا چوکڑی میں تم اور وہ سب سفید فام لوگ کہاں ہوں گے جو اس وقت مجھے اپنے ساتھ بیٹھنے‘ کھانا کھانے‘ رہنے اور سفر کرنے تک کی اجازت نہیں دیتے‘ اس وقت کہاں ہوں گے اور کیا کریں گے۔ یہ سب لوگ؟۔ برنارڈ میرے دوست۔ میرے بھائی‘‘
پلاسٹک سرجری کا شعبہ امراض دل کے مقابلے میں نسبتاً بہت محدود اور مختلف ہے مگر اس کے بارے میں عام لوگوں کی معلومات فیشن انڈسٹری‘ میک اپ‘ مصنوعی حسن اور آگ یا تیزاب سے جلنے والے جسمانی اعضا کی مرمت‘ بحالی اور علاج تک ہی محدود ہیں۔ چند برس قبل مجھے انگلینڈ میں ایک پلاسٹک سرجن ڈاکٹر کی معرفت جو بقول منیر نیازی مرحوم ’’یکے از مداحین‘‘ تھے زرداری صاحب والے مشہور سرے محل کے نزدیک ایک ایسے لیبارٹری نما ادارے کو اندر سے دیکھنے کا موقع ملا جو پلاسٹک سرجری کے حوالے سے دنیا کا سب سے پرانا اور جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے پہلا بڑا مرکز تھا جو دوسری جنگ عظیم میں ضایع شدہ جسمانی اعضا کی پلاسٹک سرجری کے ذریعے تعمیر نو کرتا تھا۔
یہاں میں نے علاج سے قبل اور علاج کے بعد مریضوں اور متاثرین کی ایسی ایسی تصویریں ویڈیوز اور رپورٹس دیکھیں جو بلاشبہ ’’جادوگری‘‘ سے کم نہ تھیں، اس کے بعد ادھر ادھر سے کچھ معلومات تو ملتی رہیں مگر مسرت مصباح کے Smile again (تیزاب سے جھلسائی گئی بچیوں اور خواتین کے علاج اور بحالی کے ادارے) کے بعد ہمارے شیخ زائد اسپتال کے انچارج اور عزیز دوست ڈاکٹر پروفیسر فرید احمد خان ہی (جن کا خصوصی مہارت کا شعبہ بھی پلاسٹک سرجری ہی ہے) وہ حوالہ ہیں جن کی وساطت سے مجھے اس شعبے کے جہان حیرت کو دیکھنے اور متعلقہ معلومات حاصل کرنے کا مزید موقع ملا ہے‘ ابھی حال ہی میں ڈاکٹر فرید صاحب نے پلاسٹک سرجری کے حوالے سے لاہور میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس کا اہتمام کیا ۔
جس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے ماہرین نے شرکت کی اور یوں نہ صرف اس شعبے سے متعلق پاکستان میں موجود ڈاکٹرز اور طلبہ و طالبات کو جدید ترین ریسرچ اور معلومات سے اعلیٰ سطحی استفادے کا موقع ملا بلکہ مجھ جیسے چند مہمان بھی اس سے مستفیض ہو سکے۔ حسن اتفاق سے اس وقت لاہور کے تین بڑے اسپتالوں اور منسلکہ تعلیمی اداروں کے استاد اور افسران اعلیٰ یعنی ڈاکٹر فیصل مسعود‘ ڈاکٹر راشد ضیا اور ڈاکٹر فرید احمد خان ان لوگوں میں سے ہیں جو اپنے پیشے اور شعبے میں غیرمعمولی مہارت اور صلاحیت کے ساتھ ساتھ علم و ادب اور فنون لطیفہ اور اس سے متعلق لوگوں سے بھی خصوصی تعلق خاطر رکھتے ہیں کہ میں خود اس کا عینی شاہد اور وصول کنندہ ہوں۔
ان کی شخصیت اور مہارت کا یہ خوشگوار اثر ان کے زیرنگرانی چلنے والے اداروں سروسز‘ میو‘ جناح اور شیخ زائد اسپتالوں میں ایک خوبصورت یاد اور محترم ورثے کی طرح ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور مجھے یقین ہے کہ ان کی صحبت سے فیض یاب ہونے والے ڈاکٹرز اور طلبہ بھی اپنے اپنے شعبے کے بہتر اور کامیاب انسانوں کی صف میں جگہ پائیں گے۔
گزشتہ چند مہینوں میں مجھے بوجوہ شیخ زائد اسپتال کے ماحول‘ لیبارٹریز‘ ڈاکٹرز‘ طبی سہولیات‘ عوامی ردعمل اور مختلف شعبہ جات کو بار بار اور قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے‘ صحت کے حوالے سے گرہ در گرہ مسائل اور حکومتی رویوں اور وسائل کے معاملات اپنی جگہ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر ڈاکٹر فرید احمد خان جیسے باصلاحیت کمٹڈ اور محنتی لوگوں کو سیاسی ترجیحات سے اوپر اٹھ کر صحت سے متعلق اداروں کی سربراہی سونپی جائے اور ان کی خدمات سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ان کو زیادہ سے زیادہ سہولیات مہیا کی جائیں تو صورت حال کو بہت بہتر اور تسلی بخش بنایا جا سکتا ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں شاعر نے کہا تھا کہ
اے اہل زمانہ قدر کرو‘ نایاب نہ ہوں کم یاب ہیں ہم
(بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker