عمار مسعودکالملکھاری

عمار مسعود کاکالم:نواز شریف کی جمہوریت کب آئے گی؟

اس سماج میں ہر چیز الٹ ہو گئی ہے۔ جو ڈاکو ہیں وہ چور چور کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ جن کا کام انصاف دینا ہے وہ طاقتوروں کے جرم چھپا رہے ہیں۔ جن کو پڑھنے کی ضرورت ہے وہ بول رہے ہیں۔ جن کا شعار سیاست میں مداخلت ہے وہ مسلسل بیان دے رہے ہیں کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ جن کا مذہب امن کا پیامبر ہے وہ لوگوں کو تشدد پر آمادہ کر رہے ہیں۔ جن کو عوام ووٹ سے منتخب کرتے ہیں وہ معتوب ٹھہرا دیے گئے ہیں۔ جو مجرم ہے وہ جرم کے خلاف تقریریں کر رہے ہیں۔ سیاستدان گیٹ نمبر چار کے بھکاری ہونے پر فخر کر رہے ہیں۔ غریب افلاس سے مر رہے ہیں اور حکومت ترقی کے نعرے لگا رہی ہے۔ قیمتیں اس سرزمین پر آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور حکمران دساور کی مثالیں دے رہے ہیں۔ یو ٹرن کو سعادت بتایا جا رہا ہے۔ جھوٹ کو سیاسی فتح کا نام دیا جا رہا ہے۔ بولنے والوں کے منہ بند کر دیے گئے ہیں اور چیخنے چلانے والوں کو کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ جمہوری ایوانوں میں ایکسٹنشن جیسی قابل نفرت چیز کے ثمرات بیان کیے جا رہے ہیں۔
نہ یہ ملک ایسا تھا نہ اس کے لوگ ایسے تھے۔ حبس اور جبر کے ماحول میں سب کچھ بدل گیا ہے۔ جمہوریت بھی سیاست بھی اور انسانیت بھی۔ اب فاتح وہ ہے جس کے ہاتھ زیادہ پلاٹ لگے۔ اب سیاست دان وہی ہے جو اسٹیبلشمنٹ کا منظور نظر ہو۔ اب صحافی وہی ہے جو گالی گلوچ میں مہارت رکھتا ہو۔ حق گوئی اور بے باکی کا کوئی خریدار نہیں۔ سچ کا ماننے والا کوئی نہیں۔ عجیب حبس کا عالم ہے۔ عجب جبر کی کیفیت ہے۔ سچ اور جھوٹ میں تفریق ختم ہو گئی ہے۔ حق اور شر میں حد فاصل مٹ چکی ہے۔
تاریخ میں ہم پہلی قوم نہیں ہیں جو اس قہر کا شکار ہوئی ہو۔ ظلم کی اس روایات سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں۔ بہت سی قومیں ذہنی اور جسمانی محکومی میں اپنی نسلیں گنوا چکی ہیں۔ یہ وہ اقوم تھیں جنہیں اس طرح کے سماج سے رہائی کا رستہ نظر نہیں آتا تھا۔ لیکن انسان کی سرشت میں تنوع ہے۔ وہ کنویں کا میں ڈک ساری عمر نہیں رہ سکتا۔ اس کے سر پر آہنی خود ہمیشہ دھرا نہیں رہ سکتا۔ ایک وقت ایسا آتا ہے جب لوگ جبر کی قوتوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ ظلم کی دیواریں گرانا چاہتے ہیں۔ سوچ پر پڑی زنجیروں کو توڑنا چاہتے ہیں۔ گہرے سناٹے میں آواز بلند کرنا چاہتا ہے۔
ایسے ماحول میں جہاں مدتوں سے اندھیرا ہو وہاں روشنی دکھانے والے کو سودائی کہا جاتا ہے۔ جہاں حق بات کہنے والے کو مجذوب سمجھا جاتا ہے۔ لوگ قفس میں رہنے کے اتنے عادی ہو جاتے ہیں کہ وہی قید خانہ انہیں اپنے گھر سا معلوم ہوتا ہے۔ وہ اس قید خانے سے رہائی ہی نہیں چاہتے۔ وہ اسی کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔ انہیں رہائی کا شوق ہی نہیں رہتا۔
تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جب ظلم بڑھ جاتا ہے تو کوئی آواز بلند ہوتی ہے۔ کوئی نعرہ مستانہ لگاتا ہے۔ ابتدا میں لوگ ایسی بات پر توجہ نہیں دیتے۔ لیکن ہر سماج میں ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو اس آواز پر لبیک کہتے ہیں۔ پھر بات لوگوں کو سمجھ آنا شروع ہو جاتی ہے۔ پھر لوگ اس آواز کے گرد جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب لوگوں کو ادراک ہوتا ہے کہ ان کی زندگیاں اندھیرے میں گزر گئی ہیں۔ ان کی سانسیں قید میں بسر ہو گئی ہیں۔ ایسے میں لوگ رہائی کا نعرہ لگاتے ہیں۔
یہی کیفیت پاکستان کی اس وقت ہے۔ کتنی دہائیاں گزر گئیں جب یہاں پر نفرت کا راج رہا۔ ہمیں ہمارے لوگوں نے تقسیم کیا۔ اپنے ہی آشیانے کو آگ لگا دی۔ ہماری آنکھوں پر پٹی باندھی، زبانوں کو تالے لگائے اور دماغوں کو مقفل کر دیا۔ لوگ روشنی کی طرف ابھی بھاگ نہیں رہے درست کہنا تو یہ ہو گا کہ ابھی تک ان کی آنکھوں کو روشنی دیکھنے کی استطاعت میسر ہوئی ہے۔ اس سے آگے منظر اور خوش کن ہو سکتے ہیں۔ یہ احساس ان میں پایا جا رہا ہے۔
معاشروں میں انصاف کی بنیاد جمہوریت ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں اس کو بے انصافی بنا کر پیش کیا گیا ہے ۔ ہم اس سماج میں جمہوریت کے حق میں دلیل دیتے ہوئے بھی انجانے میں آمریت کو فروغ دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اس مضمون کے ثمرات کا ادراک ہی نہیں ہے۔ نہ ہمیں جمہوری حقوق کا پتہ ہے نہ جمہوری فرائض کی کوئی خبر ہے۔ نہ رات کے اندھیرے کا احساس ہے نہ دن کا اجالے ہمارے لئے کوئی معنی رکھتا ہے۔ ہمیں چوہتر سال میں پہلی دفعہ اس کانسیپٹ سے آگاہی ہوئی ہے۔ یہی اس وقت ہماری معراج ہے۔
آج نواز شریف جو کر رہا ہے کہہ رہا ہے بہت سوں کو وہ بات نہیں سمجھ آ رہی۔ کوئی اس بات کو جنوں کہتا ہے کوئی مجذوب کی بڑ قرار دیتا ہے۔ بہت سے لوگ بے یقینی کی کیفیت میں ہیں۔ انہیں اس بات پر شک ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے دہائیوں کا اندھیرا چھٹ جائے۔ کچھ لوگ مخمصے میں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ رد انصاف، انصاف کرنے لگے۔ ظلم کی دیواریں اچانک گر جائیں۔ اندھیرا اچانک چھٹ جائے۔
تاریخ کو دیکھیں تو یہی سبق ملتا ہے کہ ظلم کے ایوان ریت کی دیوار ہوتے ہیں۔ ایک ضرب کاری کے منتظر ہوتے ہیں۔ ایک للکار کے مستحق ہوتے ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ نواز شریف جس تبدیلی کا ذکر رہے ہیں وہ تبدیلی کب تک آئے گی؟ انقلاب کیسے آئے گا؟ جمہوریت کے ثمرات کیسے ملیں گے؟ لوگ سیدھے سیدھے سوال کرتے ہیں سیدھے سیدھے جواب چاہتے ہیں۔ لوگوں کے لئے بس اتنا کہہ دینا کافی ہے تبدیلی اس وقت آئے گی جب لوگ خود تبدیل ہوں گے۔ سماج اس وقت بدلے گا جب بائیس کروڑ لوگ خود کو بدلنے پر راضی ہوں گے۔ جمہوریت کا سورج اس دن چمکے گا جب لوگ اپنی آنکھیں کھول کر دیکھنا شروع کر دیں گے۔ ثمرات کی منزل تک پہنچے کے لئے ضروری ہے کہ مضمرات کو ختم کیا جائے۔ جب لوگ خود ظلم کے خلاف نکلیں تو یہ سب ممکن ہو گا۔ یقین مانیے اب اس لمحے کے آنے میں زیادہ دیر نہیں ہے کیونکہ ظلم سے اب لوگوں کی طبیعت بھر چکی ہے۔ آمریت کے جوتے کھا کھا کر لوگ اب تھک چکے ہیں۔ سیلیکٹڈ حکمران برداشت کر کر کے اب لوگوں کی چیخیں نکل چکی ہیں۔
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker