آمنہ مفتیکالملکھاری

آمنہ مفتی کا کالم: جو بائیڈن، معاہدہ پیرس اور ماحول

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جاتے جاتے نئے صدر جو بائیڈن کے لیے ایک ایسا امریکہ چھوڑ گئے جہاں بہت کچھ درست ہونے والا ہے۔ دیگر معاملات کے ساتھ بائیڈن کے سامنے جو بڑا مسئلہ منہ پھاڑے کھڑا ہے وہ ماحولیاتی ایمرجنسی کا ہے۔ قدرتی تیل اور گیس کے استعمال نے جس طرح ماحول کو مسموم اور مکدر کیا ہے اس پہ کام کرنا بہت ضروری ہے۔
صدر جو بائیڈن نے اپنی صدارت کے پہلے دن ہی ’معاہدہ پیرس‘ میں دوبارہ شمولیت اختیار کرلی۔ اس معاہدے میں دنیا کے 194 ممالک اور یورپی یونین شامل ہیں۔
دنیا میں تیل اور گیس کی پیداوار نے کیا کیا سیاسی مسائل کھڑے کیے اور کن انسانی المیوں کو جنم دیا، ان سے تو ہم سب واقف ہیں لیکن ماحول کی تباہی کو اب بھی بہت سے حلقے، کسی ایجنڈے کا حصہ کہہ کے مسترد کر دیتے ہیں۔
جو بائیڈن کی ماحولیاتی پالیسی بالکل واضح ہے اور اس میں کوئی ابہام نہیں۔ نئے کنویں کھودنے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی اور 2050 تک پرانے کنویں بھی بند کر دیے جائیں گے۔ میتھین کا ضیاع روکا جائے گا وغیرہ وغیر۔یہ کام کبھی نہ کبھی ہونا تھا اور کسی نہ کسی نے کرنا تھا۔ صنعتی ترقی، ماحولیاتی تنزلی ثابت ہوئی۔ بات یہ بھی درست ہے کہ انسانی تاریخ سے ثابت ہے کہ اکثر سیاسی طور پہ جو کہا جارہا ہوتا ہے وہ ہو نہیں رہا ہوتا اور اس مقصد کے پردے میں کچھ اور ہو رہا ہوتا ہے۔دوسری عالمی جنگ کے بعد سے آج تک، پہلے روس اور امریکہ اور اب امریکہ، دنیا میں ہونے والی بہت سی بربادیوں کے ذمہ دار ہیں۔ ان خرابیوں کے پیچھے انسان کی وہی ازلی و ابدی بھوک ہے جو آخر کار اسے تباہ کر دے گی۔ صحیفوں میں یہ ہی لکھا ہے۔ قدرتی تیل اور گیس کو انسان نے جس طرح بغیر کسی اصول کے دھڑادھڑ نکالا اور استعمال کیا اس کا لازمی نتیجہ وہی تھا جو ہم آج دیکھ رہے ہیں۔ کاربن کی آلودگی، گرین ہاوس گیسز کے نقصان، عالمی درجۂ حرارت میں اضافہ۔ یہ کوئی قصہ کہانی نہیں۔
سموگ کے زہر سے آلودہ، ہم لوگ بھی اس ایشین براؤن کلاؤڈ کو اب نہ صرف جان گئے ہیں بلکہ خوب پہچان بھی گئے ہیں مگر کیا کیجیے کہ جس نے درد دیا وہی دوا دے گا، ہم بھی امریکہ کی طرف ہی دیکھ رہے ہیں۔ جو بائیڈن کی ماحولیاتی پالیسی کے تمام نکات درست ہیں۔ لیکن توانائی کے متبادل ذرائع کیا ہوں گے؟ بجلی سے چلنے والی کاریں یا دیگر ذرائع آمدورفت کے لیے بھی جو بجلی بنائی جائے گی وہ گیس یا کوئلے ہی سے بنے گی۔ شمسی توانائی یا بناسپتی ایندھن کیا بہتر متبادل ثابت ہو سکتے ہیں؟ بناسپتی ایندھن کے ساتھ گرین ہاوس گیسز کے مسائل وہیں رہیں گے۔ کافی عرصہ پہلے جب تیل کی دولت مشرق وسطی میں دھڑادھڑ مواقع پیدا کر رہی تھی تو کچھ دور اندیش چلا رہے تھے کہ جب یہ تیل ،گیس جو آج کوڑیوں کے مول بیچ رہے ہو، ختم ہو جائے گا تو کیا کرو گے؟
تیل اور گیس ختم نہیں ہوئے۔ مشرق وسطی، سیاسی اور انتظامی طور پہ تباہ ہو گیا، دنیا کا ماحول تباہ ہوا اور آج اگلی نسل سوال کر رہی ہے کہ ’آپ ہم لوگوں کے لیے کیسی دنیا چھوڑ کر جا رہے ہیں؟‘ یہ سوال ہم نے پیدا نہیں کیا تھا، سوال پیدا کرنے والے ہی جواب دیں گے اور وہ دے رہے ہیں۔ جو یقیناً یہ ہی ہو گا کہ توانائی کی متبادل ذرائع یا موجودہ ذرائع کا استعمال بھی مکمل طور پہ امریکہ ہی کے کنٹرول میں رہنا چاہیے کیونکہ وہ ہی ماحول دوست طریقے سے ان وسائل کو استعمال کر سکتا ہے۔ دوسرا دعوے دار یقیناً چین ہو گا۔اس وقت دنیا جہاں کھڑی ہے وہاں چین اور امریکہ دونوں ہی آلودگی پھیلانے والے ممالک میں سر فہرست ہیں۔ کورونا وائرس کے سلسلے میں بھی یہ دونوں ممالک ایک دوسرے پہ الزام دھرتے رہے۔ دنیا بدل رہی ہے، نئے گٹھ جوڑ، نئی پالیسیاں، نئے اتحاد، لیکن کیا اس بدلتی دنیا کی سیاست کا مرکز ماحولیات ہو گا؟
ہونے کو کیا نہیں ہوتا؟ اسی دنیا میں کھوپڑیوں کے مینار بھی بنے اور انسانی لہو ایسا ارزاں بھی کیا گیا کہ گلیوں بازاروں میں ندیوں کی طرح بہا، ایٹم بم برسائے گئے اور کبھی مذہب کے نام پہ اپنے مقاصد حاصل کیے گئے تو آج اگر ماحول کے نام پہ کچھ سیاست کر لی جائے گی تو کیا مضائقہ ہے؟ شاید، آلودگی کی ماری یہ زمین پھر سے جی اٹھے؟ انسان نے تو کسی نہ کسی بات پہ لڑنا مرنا ہی ہے اس بار یہ وجہ ماحول ہی سہی۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker