پاکستان نے پہلگام سانحہ کے بعد بھارتی حکومت کے یک طرفہ اقدامات کا ترکی بہ ترکی جواب دیا ہے۔ قومی سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں بھارتی شہریوں کے ویزے منسوخ کرنے، واہگہ بارڈر بند کرنے ، بھارتی سفارت خانے کا عملہ 30 تک محدود کرنے کے علاوہ ہمہ قسم تجارتی تعلقات معطل کرنے اور پاکستانی حدود پر سے بھارتی طیاروں کی پرواز پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
پاکستان نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے بارے میں بھارتی اعلان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کسی بھی طرح پاکستان کا پانی بند کرنے کی کوشش کی گئی تو اسے جنگ کا اقدام سمجھا جائے گا ۔ پاکستان نے بھی بھارت کے دفاعی اتاشیوں اور ان کے معاونین کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کسی مصدقہ تحقیقات اور قابل تصدیق شواہد کی عدم موجودگی میں پہلگام حملے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوششیں فضول، عقلیت سے عاری اور منطقی شکست کی نشانی ہیں۔ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی بلاامتیاز مذمت کرتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف دنیا میں صف اول کی ریاست ہونے کے ناطے اسے بےپناہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
پاکستان کے ان اعلانات کے ساتھ ہی وزیر دفاع خواجہ آصف نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ہمارے شہروں میں ہمارے شہریوں پر حملہ ہوا تو انڈیا کے شہری بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جمعرات کو اسلام آباد میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر وفاقی وزرا کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ انڈیا کی کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ہماری معلومات کے مطابق بھارت جنگ کی جگہ پاکستان کے شہروں میں دہشت گردی کی تیاری کر رہا ہے۔ ہم اس کے لیے چوکنا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ ثابت ہوا کہ ہمارا ایک بھی شہری انڈین سہولت کاری یا منصوبہ بندی کے ذریعے ہونے والے حملے میں شہید ہوا ہے تو اس کا منہ توڑ جواب دیں گے۔ دو دن سے پراپیگنڈا چل رہا ہے۔ اگر اس نے کوئی اور شکل اختیار کی تو پاکستان کی وحدت کا مظاہرہ ہوگا اور ہندوستان کو بھی پتہ چلے گا کہ ہم کس طرح کا جواب دے سکتے ہیں۔
پاکستان کی طرف سے ایسے اعلانات غیر متوقعہ نہیں تھے۔ بھارتی حکومت نے کسی تحقیق و شواہد کے بغیر پاکستان کے خلاف اقدامات کرنے کا جو یک طرف فیصلہ کیا تھا، پاکستان کی طرف سے بھی ویسے ہی جواب کی توقع کی جارہی تھی۔ لیکن اس بات کا امکان نہیں ہے کہ ایک دوسرے پر پابندیاں لگا کر اور سخت بیانات میں دل کی بھڑاس نکال کر یہ دونوں ہمسایہ ملک مطمئن ہوجائیں گے۔ بھارت کے بعد اب پاکستان میں جو فضا تیار کی جارہی ہے، اس میں کسی نہ کسی تصادم کا امکان بڑھتا جارہا ہے۔ ایک قیاس یہ ہے کہ بھارت ماضی کی طرح آزاد کشمیر میں کوئی حملہ کرکے اسے ’اسٹریٹیجیکل اسٹرائیک ‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کرے گا کہ اس نے ان ’دہشت گرد کیمپوں‘ کو تباہ کردیا ہے جہاں پہلگام میں حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی تربیت ہوئی تھی۔ ماضی میں پاکستان نے ایسے دعوؤں کی تردید اور اس کے ثبوت میں فوٹیج اور مقامی لوگوں کے بیانات نشر کرکے بھارتی دعوؤں کو بے اثر کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم اس بار بھارت کی طرف سے غیر معمولی اشتعال انگیزی اور پاکستان کے اندرونی سیاسی حالات کی وجہ سے شاید پاکستان بھی کسی قسم کا جوابی حملہ کرے۔ پاکستانی ماہرین واضح کررہے ہیں کہ پاکستان کے پاس میزائل حملہ کرنے کی غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔ کسی بھارتی ایڈونچر کی صورت میں بھارت میں اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔ تاہم ایسی صورت میں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہورہا ہے کہ کیا ایک دوسرے پر ایک دو میزائل پھینک کر اور ’دشمن‘ کو نقصان پہنچانے کے دعوے کرنے کے بعد نئی دہلی اور اسلام آباد میں حکومتوں کی تسلی ہوجائے گی۔ اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس دونوں ممالک کسی قسم کی مسلح جھڑپ کو ایک خاص حد کے اندر رکھنے میں کامیاب رہیں گے۔ قیاس ہے کہ نئی دہلی اور اسلام آباد میں معاملہ کے اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔ تاہم پاکستان اور بھارت کے درمیان جب بھی کوئی جھڑپ ہوگی تو اس کے جنگ میں بدلنے اور تنازعہ کے بڑھنے کا اندیشہ پیدا ہوگا۔ دونوں ملکوں کے علاوہ دنیا کا کوئی ملک بھی موجودہ حالات میں خطے کی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کسی قسم کی مقابلہ بازی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
اسی لیے ماہرین یہ اندازے لگانے کی کوشش بھی کررہے ہیں کہ بھارت موجودہ صورت حال میں پاکستان سے انتقام لینے کے لیے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے معاہدے کو ختم کردے۔ دونوں ملک فروری 2021 میں اس جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے اور اس وقت سے ایل او سی پر سکون ہے اور پاکستان و بھارت کی فوجیں ایک دوسرے پر حملوں سے گریز کرتی رہی ہیں۔ بھارت نے اگر اس آپشن پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا تو پاکستان بھی گولہ باری کا جواب اسی شدت سے دے گا۔ یوں ایل او سی پر ماضی کی طرح روزانہ کی بنیاد پر ہلاکتوں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا ۔ اور دونوں طرف شہری آبادیاں اس کی زد میں آئیں گی۔ تاہم وزیر دفاع خواجہ آصف نے قیاس ظاہر کیا ہے کہ بھارت براہ راست کسی جنگی کارروائی میں ملوث ہونے کی بجائے دہشت گردی کی کسی کارروائی کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ ایسی کسی حرکت سے پاکستان کی طرف سے شدید سفارتی رد عمل تو ضرور آئے گا لیکن اس سے دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان براہ راست تصادم کا امکان کم ہو گا۔ تاہم بھارتی حکومت کے نقطہ نظر سے اس قسم کی کوئی کارروائی پاکستان سے ’انتقام‘ لینے کا مقصد پورا کرنے میں ناکام رہے گی۔ بلاشبہ بھارت اگر کسی دہشت گرد گروہ کے ذریعے پاکستان میں حملہ کراتا ہے تو پاکستانی حکام کو تو اس کی خبر ہوجائے گی اور شاید اس کا رد عمل بھی سامنے آئے گا لیکن بھارتی حکومت ایسے کسی حملہ کی ذمہ داری قبول کرکے اپنے عوام کے سامنے ’سرخرو‘ نہیں ہوسکے گی۔ اس لیے خواجہ آصف کا یہ قیاس درست نہیں ہوسکتا کہ بھارت ، پاکستان میں دہشت گردی کے ذریعے حساب برابر کرے گا۔
فی الوقت دونوں ملکوں میں جذبات کو بھڑکایا جارہا ہے اور ایک دوسرے کو اپنی عسکری برتری سے متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس صورت میں پہلے سے مشکلات کا شکار ہمسایہ ممالک ایک دوسرے سے مزید دور ہورہے ہیں۔ خطے میں امن اور یہاں آباد کروڑوں لوگوں کی سہولت کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان مصالحت و امن کی بات کرنے والے عناصر شدید مایوسی کا شکار ہیں۔ پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کو یکساں طور سے احسا س ہے کہ دونوں کے پاس جوہری ہتھیار ڈیٹرنٹ کے طور پر موجود ہے، اس لیے دونوں ملک کسی طویل اور سنگین عسکری مہم جوئی سے بچنا چاہیں گے۔ لیکن دونوں ملکوں کے سیاست دانوں اور ان کے زیر اثر میڈیا نے عوامی جذبات بھڑکانے کا افسوسناک رویہ اختیار کیا ہؤا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی جگہ پر اندازے کی کسی غلطی سے کوئی غلط فیصلہ ہونے کا امکان موجود رہتا ہے۔ پاکستان وبھارت کے درمیان جنگ ٹالنے کی خواہش رکھنے والے عناصر کی سب سے بڑی تشویش بے یقینی کی یہی صورت حال ہے۔
دیگر معاملات کے علاوہ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا ایک مقصد پاکستان کو یہ باور کرانا بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ملکی زراعت کے لیے بھارت سے آنے والے دریاؤں کا محتاج ہے۔ نریندر مودی کی حکومت نے گزشتہ ایک دہائی سے اس معاہدے کو پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک تو اس معاہدے کو کوئی ایک فریق یک طرفہ طور سے ختم نہیں کرسکتا۔ دوسرے اگر بھارت یہ تہیہ کرلے کہ اس نے پاکستان کے حصے کا پانی روکنا ہے تو ایسے منصوبہ پر عمل کے لیے کثیر وسائل اور کئی سال درکار ہوں گے۔ اس قسم کی منصوبہ بندی دونوں ملکوں کو ایک حقیقی جنگ کے قریب لاسکتی ہے اور یہ تنازعہ سنگین صورت اختیار کرسکتا ہے۔ بھارت خود بھی چین سے آنے والے دریاؤں کا محتاج ہے۔ اگر چین نے بھی بھارت کے ساتھ وہی سلوک کیا جو بھارت ، پاکستان کے ساتھ کرنا چاہتا ہے تو یہ حالات بھارت کے لیے بھی خوشگوار نہیں ہوں گے۔ یہ امکان تو نہیں ہے کہ چین پاکستان کی ہمدردی میں بھارت جانے والے دریاؤں کا پانی روک لے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ سندھ طاس معاہدہ نے دو ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے سوال کو عمدہ طریقے سے حل کیا تھا۔ اس لیے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں دنیا کے ہر ملک کو دریاؤں کے حوالے سے من مانی کرنے کا موقع مل جائے گا جو وسیع تر عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بنے گا۔
امریکہ میں صدر ٹرمپ کی حکومت عام طور سے جنگ مخالف حکمت عملی پر کاربند ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی طویل المدت تنازعہ واشنگٹن کے لیے بھی قابل قبول نہیں ہوگا۔ صدر ٹرمپ اس وقت چین کا مقابلہ کرنے کے لیے حلیف تلاش کررہے ہیں۔ بھارت ان میں سر فہرست ہے۔ تاہم پاکستان کے ساتھ جنگی چپقلش کی صورت میں بھارتی معیشت اس حد تک متاثر ہوسکتی ہے کہ وہ عالمی منظر نامہ میں کوئی مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل نہ رہے ۔ یوں امریکہ بھی برصغیر میں رونما ہونے والے حالات کا بغور مطالعہ کررہا ہوگا۔ اس کی خواہش ہوگی کہ ایسا کوئی تصادم رونما نہ ہو جس میں سب کو نقصان اٹھانا پڑے۔
پاکستان کے تمام تر دعوؤں کے باوجود وہ معاشی لحاظ سے بھارت کے ساتھ جنگ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ لیکن اگر بھارت نے کوئی جنگ مسلط کی تو اس کا جواب نہ دینا بھی ممکن نہیں ہوگا۔ ایسا تصادم البتہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے لیے معاشی طور سے تباہ کن ہوسکتا ہے۔ ایک تو بھارت میں زیادہ اہم صنعتی اور اسٹریٹیجیکل ٹارگٹ موجود ہیں جن کا نشانہ لے کر پاکستان بھارت کے لیے زیادہ بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ دوسرے بھارت تسلسل سے معاشی طور سے ترقی کرتا رہا ہے اور اس وقت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے۔ تاہم کوئی بھی جنگ اس کی اس حیثیت کو متاثر کرے گی اور بھارتی منڈیوں پر عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوگا۔ایک دوسرے کو مطعون کرنے والے دونوں ممالک کو جان لینا چاہئے کہ جنگ یاجنگی حالات کسی مسئلہ کا حل نہیں ہیں۔ انتقام کے مقصد سے اٹھایاہؤا ہر قدم تباہی کی طرف اٹھے گا۔ لہذا دونوں ملکوں میں دوطرفہ بداعتمادی میں اضافہ کی بجائے ، اس میں کمی ہونی چاہئے۔
پاکستان اور بھارت جب تک مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے اور للکارنے کی حکمت عملی ترک نہیں کی جاتی ، برصغیر کے لیے اچھے حالات کی پیش گوئی ممکن نہیں ہوگی۔
(بشکریہ:کاروان ناروے)
فیس بک کمینٹ

