Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
اتوار, مئی 10, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • برطانیہ میں تارکین وطن مخالف ’ریفارم یوکے‘ پارٹی کی کامیابی : تجزیہ ۔۔ سید مجاہد علی
  • خیبر پختونخوا میں فتح خیل چوکی پر حملے میں پانچ پولیس اہلکار ہلاک
  • اکڑ بکڑ بمبے بو اور ہُد ہُد کی داڑھی کے باغی بال : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
  • بحرین کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک 41 افراد کی گرفتاری کا دعویٰ
  • 9 مئی 2013 سے 9 مئی 2015 تک :سید علی حیدرگیلانی کےاغواء اور بازیابی کی کہانی : سینیئر صحافی مظہر جاوید سیال کی زبانی
  • باسٹھ برس کی معذرت  : مبارک باد تو بنتی ہے : رضی الدین رضی کی جیون کہانی 
  • مارچ کے بعد پیٹرول پانچویں بار مہنگا : قیمت میں 15 روپے کا اضافہ، نئے نرخ 414.78 فی لیٹر
  • معرکہ حق کی برسی اور پاکستانی قوم کی نفسیات : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • آتش فشاں کی آواز سُنیے : حامد میر کا کالم
  • معرکہِ حق اور میزائل چوک : وسعت اللہ خان کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»انور عباس انور»انور عباس انور کا کالم :بے نظیر بھٹو کا قتل ، ناہید خان کو شامل تفتیش کیوں نہیں کیا ؟
انور عباس انور

انور عباس انور کا کالم :بے نظیر بھٹو کا قتل ، ناہید خان کو شامل تفتیش کیوں نہیں کیا ؟

ایڈیٹردسمبر 18, 20210 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

راولپنڈی کے لیاقت باغ میں 27 دسمبر 2007 کو انکا پڑاؤ تھا جب وہ جلسہ گاہ پہنچیں تو وہ کتنی خوش تھیں، وہ کتنی مطمئن تھیں
شائد انہیں یقین تھا کہ دشمن ان کی جان لینے کی ٹھان چکے ہیں اور وہ اپنے مشن میں کمر بستہ ہو چکے ہیں اور انکا پیچھا کررہے ہیں۔ اور دشمن انہیں کسی وقت بھی اپنے بارود کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے عوام سے دوری قبول کرنے پر آمادہ نہہں ہوئیں۔ ہر دھمکی اور سکیورٹی الرٹ کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر مسلسل آگے بڑھتی رہیں۔
ملک بھر میں عوامی جلسوں میں اپنے آئندہ کے لائحہ عمل اور پارٹی منشورکا اعلان کرتی رھیں۔ وہ موت کو برحق سمجھتیں تھیں یہی وجہ تھی کہ شہید ہر جلسہ میں اپنے پارٹی ٹکٹ ہولڈرراولپنڈی کے لیاقت باغ میں 27 دسمبر 2007 کو ان کا پڑاؤ تھا جب وہ جلسہ گاہ پہنچیں تو وہ کتنی خوش تھیں، وہ کتنی مطمئن تھیں۔شائد انہیں یقین تھا کہ دشمن ان کی جان لینے کی ٹھان چکے ہیں اور وہ اپنے مشن میں کمر بستہ ہو چکے ہیں اور ان کا پیچھا کررہے ہیں۔ اور دشمن انہیں کسی وقت بھی اپنے بارود کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے عوام سے دوری قبول کرنے پر آمادہ نہہں ہوئیں۔ ہر دھمکی اور سکیورٹی الرٹ کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر مسلسل آگے بڑھتی رہیں۔
ملک بھر میں عوامی جلسوں میں اپنے آئندہ کے لائحہ عمل اور پارٹی منشورکا اعلان کرتی رہیں۔ وہ موت کو برحق سمجھتیں تھیں یہی وجہ تھی کہ شہید ہر جلسہ میں اپنے پارٹی ٹکٹ ہولڈروں سے عوام کے سامنے حلف لیتی تھیں کہ وہ عوام کی خدمت کریں گے انہیں ملنے والی ملازمتیں وہ عوام کو دیں گے انہیں فروخت نہیں کریں گے یا اپنے رشتہ داروں میں نہیں بانٹیں گے۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ندیم تاج نے انہیں 26 دسمبر 2007 کی رات پیغام بھیجا کہ وہ ان سے( بے نظیر بھٹو) سے اہم نوعیت کی ملاقات کرنا چاہتے ہیں جس پر بی بی شہید نےپیغام لانے والے کو بتایا کہ وہ دو گھنٹے سوئیں گی اور رات گئے ندیم تاج سے ملاقات کریں گی اور یہ ملاقات رات ڈیڑھ بجے ہوئی اس ملاقات میں شہید بے نظیر اور جنرل ندیم تاج کے علاوہ ان کے سلامتی کے مشیر رحمان ملک بھی موجود تھے۔
جنرل ندیم تاج نے انھیں بتایا کہ اس دن کوئی انھیں قتل کرنے کی کوشش کرے گا۔ آئی ایس آئی کے سربراہ میجر جنرل ندیم تاج کو اپنے ذرائع سے اتنا یقین تھا کہ وہ خود رات گئے بلاول بھٹو ہاؤس اسلام آباد پہنچے تھے۔ اس ملاقات کے متعلق برطانوی صحافی اوین بینیٹ جونز اپنی کتاب ‘دی بھٹو ڈائنیسٹی دی سٹرگل فار پاور ان پاکستان’ یعنی ‘پاکستان میں طاقت کے لیے جدوجہد میں بھٹو خاندان’ میں لکھتے ہیں: ‘یہ سنتے ہی بے نظیر کو شبہ ہوا کہ ندیم تاج کہیں ان پر اپنے پروگرام کو منسوخ کرنے کے لیے دباؤ تو نہیں ڈال رہے ہیں۔ انھوں نے تاج سے کہا اگر آپ ان خودکش بمباروں کے بارے میں جانتے ہیں تو آپ انھیں گرفتار کیوں نہیں کرتے؟ تاج کا جواب تھا کہ ‘یہ ناممکن ہے کیونکہ اس سے ان کے وسائل کا راز افشا ہوجائے گا۔’
آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ جنرل ندیم تاج کے مشورہ کے باوجود انہوں نے 27 دسمبر کو ایک ڈیڑھ بجےلیاقت باغ پہنچنے سے قبل اسلام آباد میں افغانستان کے اسوقت کے صدر حامد کرزئی سے سرینا ہوٹل اسلام آباد میں ملاقات کی ۔
ستائیس دسمبر دو ہزار سات کی سہ پہر وہ راولپنڈی کے لیاقت باغ پہنچیں تو وہ بے انتہا مسرور تھیں عوام کا ہجوم بیکراں دیکھ کر ان کی اندر کی خوشی ان کے چہرے سے جھلک رہی تھی۔ اس جلسہ میں عوام سے ہم کلام ہوتے وقت وہ جس اعتماد سے عوام کے نعروں کا جواب فضا میں بازو لہرا لہرا کر دے رہی تھیں وہ مناظر دید نی تھے۔ ہر جانب ترنگے جھنڈوں بہار تھی۔
بھٹو کی بیٹی نے آمر اور آمریت کے خلاف جس دلیری سے جدوجہد کی اس نے ثابت کردیا کہ انکے والد ذوالفقار علی بھٹو نے ان کا نام بےنظیر صحیح رکھا تھا۔ وہ بے مثال اور بے نظیر ہیں۔ سورج غروب ہونے کی طرف گامزن تھا کہ بی بی جسےان کے والد پیار سے پنکی پکارتے تھے اپنی تقریر ختتام کرنے سے قبل عوام کا لہو گرم اور انہیں جوش و ولولے میں دیکھ کر چند نعرے لگوائے اور دل میں عوام کی طرف سے ملنے والی محبتیں سمیٹ کر واپس جانے لگیں تو دشمن نے وارچلا گیا۔
وہ تو گاڑی میں بیٹھی ہوئی تھیں انہیں کس نے مشورہ دیا کہ وہ گاڑی سے باہر نکل کر محبین بھٹوز کے نعروں کا جواب دیں اس بات کی جانب شائد کسی نے اتنی توجہ نہیں جتنی دیی چاہئے تھی۔ شہید بےنظیر کی سیکرٹری ناہید خاں سے بھی کوئی خاطر خواہ پوچھ گچھ نہیں کی گئی ۔ناہید خاں سے پوچھ گچھ اس لیے ضروری تھی کیو نکہ وہ انکے بہت قریب تھیں اور گاڑی میں ان کے ساتھ موجود تھیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ آصف علی زرداری اور ان کے فرزند بلاول بھٹو زرداری نے ناہید خاں کو خود دور کرلیا۔ یہ سوال اپنی جگہ بدستور موجود ہےاور رہے گا کہ ناہید خاں کو شامل تفتیش کیوں نہیں کیا گیا تھا۔
بی بی شہید کے قتل نا حق کے ساتھ بہت ساری انصافیاں کی گئی ہیں محض چند گھنٹوں میں قتل گاہ کو دھونا ، اور اس بات کا پتہ نہ لگوا نا کہ قتل گاہ کو فوری دھو نے کے احکامات کس نے دیئے تھے جبکہ جنرل مشرف پر قاتلا نہ حملوں کی جگہ کو کئی روز تک رکاوٹیں لگا کر محفوظ رکھنا کھلا تضاد ہے۔
دشمنان بھٹوز نے ایک پلان کے تحت بی بی بے نظیر شہید کے قتل میں ان کے شوہر آصف علی زرداری کے ملوث ہونے کا پروپیگنڈہ کیا گیا تاکہ اصل حقائق سے عوام کی توجہ ہٹائی جائے۔ اس سے قبل محترمہ شہید کے بھائی میر مرتضی بھٹو کے قتل میں آصف علی زرداری کے ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا اور یہ پروپیگنڈہ اس قدر وسیع پیمانے پر کیا گیا کہ میر مرتضی شہید کی اہلیہ غنوی بھٹو بھی یہی زبان بولنے لگیں۔ محترمہ شہید کی27 دسمبر 2021 کو14 ویں برسی منائی جا رہی ہے۔
بی بی شہید کو ایک دن اس فا نی دنیا سے جانا تھا وہ چلیں گئیں لیکن جس سج دھج اور شان سے ابدی دنیا کی جانب روا نہ ہوئیں وہ تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہوگئی ہے اور ذوالفقار علی بھٹو کی دختر بی بی بے نظیر تاریخ میں امر ہو گئیں۔ ا نکی جان کے دشمن ان کے عظیم والد کے دشمن ( مسعود محمود) کی طرح دربدر پھر رہے ہیں۔
مورخین انکے ساتھ ظلم ستم ڈھانے والوں کو جب دیکھیں گے تو جنرل ضیاء الحق ، جنرل پرویز مشرف ، سردار فاروق احمد لغاری دور دور تک کہیں دکھائی نہیں دیں گے۔ اسی طرح ان کے اور پیپلزپارٹی کے ساتھ بے وفائی کرنے والے غلام مصطفی کھر ، غلام مصطفی جتوئی ، مولانا کوثر نیازی ، ممتاز علی بھٹو، عبدالحفیظ پیرزادہ و دیگر تاریخ کے گھپ اندھیرے میں پڑے دکھائی دیں گے۔
پیپلز پارٹی کے جن راہنماؤں نے بی بی شہید اور ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو سے اپنے راستے الگ کیے تھے بالاآخر انہیں لوٹ کر انہیں کے ساتھ کھڑا ہونا پڑا۔ بھٹو صاحب کے بنائے وزیر اعلی پنجاب محمدحنیف رامے اپنی مساوات پارٹی ، مولانا کوثر نیازی پاکستان پروگریسو پیپلز پارٹی ختم کرکے بی بی کے دست حق پرست پر دوبارہ بیعت ہوئے۔
دونوں باپ بیٹی سیاست کے افق پر درخشاں ستاروں کی مانند سدا چمکتے دمکتے رہیں گے اور گڑھی خدا بخش بھٹو کے قبرستان سے پاکستان کی سیاست کا محور رہیں گے۔وں سے عوام کے سامنے حلف لیتی تھیں کہ وہ عوام کی خدمت کریں گے انہیں ملنے والی ملازمتیں وہ عوام کو دیں گے انہیں فروخت نہیں کریں گے یا اپنے رشتہ داروں میں نہیں بانٹیں گے۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ندیم تاج نے انہیں 26 دسمبر 2007 کی رات پیغام بھیجا کہ وہ ان سے( بے نظیر بھٹو) سے اہم نوعیت کی ملاقات کرنا چاہتے ہیں جس پر بی بی شہید نےپیغام لانے والے کو بتایا کہ وہ دو گھنٹے سوئیں گی اور رات گئے ندیم تاج سے ملاقات کریں گی اور یہ ملاقات رات ڈیڑھ بجے ہوئی اس ملاقات میں شہید بے نظیر اور جنرل ندیم تاج کے علاوہ ان کے سلامتی کے مشیر رحمان ملک بھی موجود تھے۔
جنرل ندیم تاج نے انھیں بتایا کہ اس دن کوئی انھیں قتل کرنے کی کوشش کرے گا۔ آئی ایس آئی کے سربراہ میجر جنرل ندیم تاج کو اپنے ذرائع سے اتنا یقین تھا کہ وہ خود رات گئے بلاول بھٹو ہاؤس اسلام آباد پہنچے تھے۔ اس ملاقات کے متعلق برطانوی صحافی اوین بینیٹ جونز اپنی کتاب ‘دی بھٹو ڈائنیسٹی دی سٹرگل فار پاور ان پاکستان’ یعنی ‘پاکستان میں طاقت کے لیے جدوجہد میں بھٹو خاندان’ میں لکھتے ہیں: ‘یہ سنتے ہی بے نظیر کو شبہ ہوا کہ ندیم تاج کہیں ان پر اپنے پروگرام کو منسوخ کرنے کے لیے دباؤ تو نہیں ڈال رہے ہیں۔ انھوں نے تاج سے کہا اگر آپ ان خودکش بمباروں کے بارے میں جانتے ہیں تو آپ انھیں گرفتار کیوں نہیں کرتے؟ تاج کا جواب تھا کہ ‘یہ ناممکن ہے کیونکہ اس سے ان کے وسائل کا راز افشا ہوجائے گا۔’
آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ جنرل ندیم تاج کے مشورہ کے باوجود انہوں نے 27 دسمبر کو ایک ڈیڑھ بجےلیاقت باغ پہنچنے سے قبل اسلام آباد میں افغانستان کے اسوقت کے صدر حامد کرزئی سے سرینا ہوٹل اسلام آباد میں ملاقات کی ۔
ستائیس دسمبر دو ہزار سات کی سہ پہر وہ راولپنڈی کے لیاقت باغ پہنچی تو وہ بے انتہا مسرور تھیں تو عوام کا ہجوم بیکراں دیکھ کر انکی اندر کی خوشی انکے چہرے سے جھلک رہی تھی۔ اس جلسہ میں عوام سے ہم کلام ہوتے وقت وہ جس اعتماد سے عوام کے نعروں کا جواب فضا میں بازو لہرا لہرا کر دے رہی تھیں وہ مناظر دید نی تھے۔ ہر جانب ترنگے جھنڈوں بہار تھی۔
بھٹو کی بیٹی نے آمر اور آمریت کے خلاف جس دلیری سے جدوجہد کی اس نے ثابت کردیا کہ انکے والد ذوالفقار علی بھٹو نے انکا نام بےنظیر صحیح رکھا تھا۔ وہ بے مثال اور بے نظیر ہیں۔ سورج غروب ہونے کی طرف گامزن تھا کہ بی بی جسی انکے والد پیار سے انہیں پنکی پکارتے تھے اپنی تقریر ختتام کرنے سے قبل عوام کا لہو گرم اور انہیں جوش و ولولے میں دیکھ کر چند نعرے لگوائے اور دل میں عوام کی طرف سے ملنے والی محبتیں سمیٹ کر واپس جانے لگیں تو دشمن نے وارچلا گیا۔
وہ تو گاڑی میں بیٹھی ہوئی تھیں انہیں کس نے مشورہ دیا کہ وہ گاڑی سے باہر نکل کر محبین بھٹوز کے نعروں کا جواب دیں اس بات کی جانب شائد کسی نے اتنی توجہ نہیں جتنی دی ی چاہئے تھی۔ شہید بےنظیر کی سیکرٹری ناہید خاں سے بھی کوئی خاطر خواہ پوچھ گچھ نہیں کی گئی ۔ناہید خاں سے پوچھ گچھ اس لیے ضروری تھی کیو نکہ وہ انکے بہت قریب تھیں اور گاڑی میں انکے ساتھ موجود تھیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ آصف علی زرداری اور انکے فرزند بلاول بھٹو زرداری نے ناہید خاں کو خود دور کرلیا۔ یہ سوال اپنی جگہ بدستور موجود ہےاور رہے گا کہ ناہید خاں کو شامل تفتیش کیوں نہیں کیا گیا تھا۔
بی بی شہید کے قتل نا حق کے ساتھ بہت ساری انصافیاں کی گئی ہیں محض چند گھنٹوں میں قتل گاہ کو دھونا ، اور اس بات کا پتہ نہ لگوا نا کہ قتل گاہ کو فوری دھو نے کے احکامات کس نے دیئے تھے جبکہ جنرل مشرف پر قاتلا نہ حملوں کی جگہ کو کئی روز تک رکاوٹیں لگا کر محفوظ رکھنا کھلا تضاد ہے۔
دشمنان بھٹوز نے ایک پلان کے تحت بی بی بے نظیر شہید کے قتل میں ان کے شوہر آصف علی زرداری کے ملوث ہونے کا پروپیگنڈہ کیا گیا تاکہ اصل حقائق سے عوام کی توجہ ہٹائی جائے۔ اس سے قبل محترمہ شہید کے بھائی میر مرتضی بھٹو کے قتل میں آ صف علی زرداری کے ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا اور یہ پروپیگنڈہ اس قدر وسیع پیمانے پر کیا گیا کہ میر مرتضی شہید کی اہلیہ غنوی بھٹو بھی یہی زبان بولنے لگیں۔ محترمہ شہید کی27 دسمبر 2021 کو14 ویں برسی منائی جا رہی ہے۔
بی بی شہید کو ایک دن اس فا نی دنیا سے جانا تھا وہ چلیں گئیں لیکن جس سج دھج اور شان سے ابدی دنیا کی جانب روا نہ ہوئیں وہ تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہوگئی ہے اور ذوالفقار علی بھٹو کی دختر بی بی بے نظیر تاریخ میں امر ہو گئیں۔ ا نکی جان کے دشمن ان کے عظیم والد کے دشمن ( مسعود محمود) کی طرح دربدر پھر رہے ہیں۔
مورخین انکے ساتھ ظلم ستم ڈھانے والوں کو جب دیکھیں گے تو جنرل ضیاء الحق ، جنرل پرویز مشرف ، سردار فاروق احمد لغاری دور دور تک کہیں دکھائی نہیں دیں گے۔ اسی طرح ان کے اور پیپلزپارٹی کے ساتھ بے وفائی کرنے والے غلام مصطفی کھر ، غلام مصطفی جتوئی ، مولانا کوثر نیازی ، ممتاز علی بھٹو، عبدالحفیظ پیرزادہ و دیگر تاریخ کے گھپ اندھیرے میں پڑے دکھائی دیں گے۔
پیپلز پارٹی کے جن راہنماؤں نے بی بی شہید اوع انکے والد ذوالفقار علی بھٹو سے اپنے راستے الگ کیے تھے بالاآخر انہیں لوٹ کر انہیں کے ساتھ کھڑا ہونا پڑا۔ بھٹو صاحب کے بنائے وزیر اعلی پنجاب محمدحنیف رامے اپنی مساوات پارٹی ، مولانا کوثر نیازی پاکستان پروگریسو پیپلز پارٹی ختم کرکے بی بی کے دست حق پرست پر دوبارہ بیت ہوئے۔
دونوں باپ بیٹی سیاست کے افق پر درخشاں ستاروں کی مانند سدا چمکتے دمکتے رہیں گے اور گڑھی 8 بخش بھٹو کے قبرستان سے پاکستان کی سیاست کا محور رہیں گے۔

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

آصف زرداری بے نظیر بھٹو
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleکراچی؛نجی بینک میں دھماکہ،پی ٹی آئی کے ایم این اے کے والد سمیت 12افراد جاں بحق
Next Article نور الہدیٰ شاہ کا کالم : مرد بنو! مرد کا بچہ بنو!
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

غلام قوم میں پیدا ہونے والے بھٹو کے افکار کو کون سولی چڑھائے گا ؟ مہتاب حیدر تھیم کا کالم

اپریل 4, 2026

سولہ دسمبر یومِ سیاہ ، چار اپریل یومِ سیاہ تر : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم

اپریل 3, 2026

بھٹو ، نصراللہ اور ایک کتاب : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم

فروری 20, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • برطانیہ میں تارکین وطن مخالف ’ریفارم یوکے‘ پارٹی کی کامیابی : تجزیہ ۔۔ سید مجاہد علی مئی 10, 2026
  • خیبر پختونخوا میں فتح خیل چوکی پر حملے میں پانچ پولیس اہلکار ہلاک مئی 10, 2026
  • اکڑ بکڑ بمبے بو اور ہُد ہُد کی داڑھی کے باغی بال : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت مئی 10, 2026
  • بحرین کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک 41 افراد کی گرفتاری کا دعویٰ مئی 10, 2026
  • 9 مئی 2013 سے 9 مئی 2015 تک :سید علی حیدرگیلانی کےاغواء اور بازیابی کی کہانی : سینیئر صحافی مظہر جاوید سیال کی زبانی مئی 9, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.