انور عباس انورتجزیےلکھاری

قرارداد پاکستان پر عملدرآمد اور پاکستان کو درپیش مسائل ۔۔ انور عباس انور

23 مارچ 1940 کی تاریخی قرارداد لاہور جو آگے چل کر قرارداد مقاصد کے نام سے مشہورہوئی۔کہاجاتاہے کہ آل انڈیامسلم لیگ متحدہ ہندوستان کی تقسیم کے حق میں ہرگزنہ تھی۔آل انڈیا مسلم لیگ کے زعما اور قائدین بشمول محمد علی جناح تو بس یہ چاہتے تھے کہ انگریزی سرکار مسلمانوں کو ہندوؤ ں کے مساوی حقوق دے۔
یہ تو ہندوؤ ں اور نیشنل کانگرس کی قیادت لی تنگ نظری تھی جس نے مسلم لیگ کوعلیحدہ وطن کے حصول لے لیے جدوجہد کرنے پر اکسایا۔ اگر ہندو بنیا مسلمانوں کو مذہبی،معاشی،اقتصادی اور سیاسی حقوق مساویانہ دینے کے راستے میں ہٹ دھرمی کی دیوار کھڑی نہ کرتا تو آج پاکستان اور بھارت دنیا کی عظیم مملکت ہوتی۔
مسلم لیگ ہندوؤ ں کی تنگ نظری کے باعث مسلمانان ہند کے لیے الگ وطن حاصل کرنے میں کامیاب تو ہوگئی لیکن قراردادمقاصد پر پورے خلوص کے ساتھ عمل درآمد کرنے میں مخلص ثابت نہ ہوئی۔ جن حقوق کے حصول کیلیے انگریز اور ہندووں سے مطالبات کرتی رہی اور جدوجہد بھی کی گئی قیام پاکستان کے بعد وہ حقوق پاکستان کی اکائیوں کو دینے میں پس و پیش کرنے لگی جس کا وہی نتیجہ نکلا جو مسلمانوں نے اخذکیا یعنی حقوق کے حصول کے لیے آوازیں بلند ہونے لگیں۔قیام پاکستان کے دو تین سالوں میں ہی مسلم لیگ قرارداد مقاصد پیش کرنے والے شیر بنگال مولوی اے اے فضل حق کوبوجھ سمجھنے لگی اور اسے مسلم لیگ سے باہر دھکیل دیا۔
تحریک پاکستان کے عظیم راہنما حسین شہید سہروردی کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی طرز عمل اختیار کیا گیا وہ بھی مسلم لیگ کو خیرباد کہہ کردوسری سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے سیاست کرنے لگے۔وفاق پاکستان کی اکائیوں کے اندر بے چینی جنم لینے لگی۔ بلوچستان اور خیبرپختون خواہ کے بعد سندھ بھی آئین پاکستان میں صوبوں کے متعین حقوق سے بیزاری کا اظہار کرنے لگا۔سندھ بلوچ پشتون فرنٹ کاقیام واضح مثال ہے۔اس فرنٹ کی تشکیل کے بعد تین صوبے متحد ہوکر پنجاب کی بالادستی کے خلاف میدان میں اترآئے۔ان کا مطالبہ تھا کہ پاکستان کو متحد رکھنے کیلیے کنفنڈیشن قائم کی جائے۔ ایسی آوازیں آج بھی گاہے بگاہے ابھرتی رہتی ہیں۔جبکہ بلوچستان تو شعلوں کی لپیٹ میں ہے ۔گو افواج پاکستان بلوچستان میں دشمنان پاکستان کی لگائی ہوئی آگ کو سرد کرنے میں مصروف عمل ہے۔ دہشتگردی کی جنگ میں افواج پاکستان کی قربانیوں نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے بلکہ کررہی ہیں۔اسکا اعتراف اقوام عالم کررہا ہے۔ پاکستان کو اللہ نے بے پناہ وسائل سے نوازرکھا ہے ان وسائل کو استعمال کرکے اور تمام اکائیوں میں یکساں تقسیم کرکے پاکستان کی تمام اکائیوں کی شکایات کو دور کیا جا سکتاہے اور23 مارچ۔۔۔۔ قرارداد مقاصد پر عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
قرارداد مقاصد کومینار پاکستان پرکندہ کرواکر اور آئین پاکستان کے دیباچہ کا حصہ بناکر کیوں سمجھا جانے لگا کہ ہم نے وفاق کی اکائیوں یعنی صوبوں کوان کے تمام حقوق عطاکردئیے ہیں۔ حقوق آئین اور مینار پاکستان کے ستونوں پر لکھنے سے نہیں عملی طورپر فراہم کرنے سے صوبوں کے اندرپائی جانی والی بے چینی کو ختم کیا جاسکتا ہے۔حقوق دینے سے اور آئین پاکستان پر مکمل عمل درآمد کرکے ہی ہم نسل نو کو مطمئن کرنے کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔
23 مارچ 1940 کی قرارداد ہم سے یہی مطالبہ کرتی ہے۔قرارداد مقاصد ہی وطن عزیز کے اتحاد اتفاق میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ بس شرط یہی ہے کہ اس پر عملدرآمد نیک نیتی سے کیا جائے۔اور اس قرارداد میں وفاق کی اکائیوں کو جو حقوق دینے کا وعدہ کیا گیا ہے اس وعدے کی تکمیل ہی پاکستان کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز کا حل ہے۔اس وقت پاکستان میں جو نظام چل رہا ہے وہ پاکستان کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہی نہیں بلکہ وہ مکمل طور پر فرسودہ ہوچکا ہے۔ قرارداد مقاصد پر پر کرنے کے ساتھ ہی اس فرسودہ نظام کی جگہ نئے نظام کی ضرورت ہے۔
سیانے دعوی کرتے ہیں کہ اگر قیام پاکستان کے ساتھ ہی آئین تشکیل دیدیا جاتا اور قرارداد مقاصد کے تحت صوبوں کو صوبائی خود مختاری دیدی جاتی تو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی نوبت کو روکا جا سکتا تھا۔ قرارداد مقاصد کی منظوری کے روز ہمیں اس عہد جو ہمارے بزرگوں نے قرارداد مقاصد کی صورت میں کیا تھا آج ہمیں اسکی تجدید کرنی چاہیے ۔اور بلوچستان سمیت ملک کے دیگر حصوں میں سرگرم پاکستان اور اسٹبلشمنٹ سے ناراض عناصر کو قومی دھارے میں لانے کی کوشش کرنی بھی اتنی ہی لازم ہے جتنا جمہوریت کا استحکام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ناراض گروہوں کو یقین دلایا جائے کہ وہ پاکستان کے استنے کی مالک ہیں جتنے پنجابی سندھی اور پختون ہیں۔ قرارداد مقاصد ایک ایسی دستاویز ہے جو چاروں صوبوں کے عوام کے اتحاد کا مرکزنکتہ بن سکتا ہے۔جن عناصر کی یہ سوچ ہے کہ 23 مارچ 1940 کی سوچ بوسیدہ ہوچکی ہے لہذا یہ سوچ 23 مارچ 2018 کے حالات میں کارآمد نہیں۔۔۔ایسے عناصر کے اذہان اور سوچ زنگ آلود ہوچکی ہے انہیں اپنی سوچ کو 23 مارچ 1940 کی سوچ سے ہم آہنگ بنانا ہوگی۔یہی پیغام ہے یہی تجدید عہد ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker