دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کی دوسری لہر کے دوران کیسوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں 24 گھنٹے کے دوران اس وائرس سے 39 افراد دم توڑ گئے، جس کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہزار 205 ہوگئی ہے جبکہ مثبت کیسز کی شرح آٹھ فیصد بڑھ گئی ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 42 ہزار 904 ٹیسٹ کیے گئے جن کے نتیجے میں تین ہزار 499 نئے مریض سامنے آئے جبکہ وبا سے متاثرہ دو ہزار 469 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
اس صورت حال کے پیش نظر سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں کرونا متاثرین کے لیے انتظامات کم پڑنے کا خدشہ ہے، خاص طور پر وینٹی لیٹرز اور بیڈز کم ہوتے جارہے ہیں۔
پنجاب کے ہسپتالوں میں ابھی تک کی تیاریاں کافی بتائی جارہی ہیں، لیکن اگر کیسز بڑھتے رہے تو ہسپتالوں میں جگہ کم پڑ سکتی ہے۔
ترجمان محکمہ صحت پنجاب محمد حماد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ صوبے کے ہسپتالوں میں کل 509 وینٹی لیٹرز ہیں اور مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے یہ مناسب ہیں لیکن آنے والے دنوں میں اگر تعداد بڑھتی رہی تو پھر ان کی تعداد میں بھی اضافہ کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں موجود سہولیات برقرار ہیں جبکہ فیلڈ ہسپتال جہاں قرنطینہ سینٹرز بنائے گئے تھے وہاں بھی انتظامات ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مکمل ہیں۔
محمد حماد کے مطابق: ‘کورونا وائرس کی پہلی لہر کے موقع پر حالات کے پیش نظر جو انتظامات کیے گئے تھے وہ اب بھی کافی ہیں تاہم اس تعداد میں اب کمی لازمی ہے جس کے لیے واحد راستہ احتیاط ہے۔’
دوسری جانب خیبرپختونخوا اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ پشاور میں بڑے سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں کورونا کیسز میں اضافے کے سبب مریضوں کے لیے بستر کم پڑگئے ہیں۔
وزیر ثقافت اور وزیر محنت شوکت علی یوسف زئی نے اسمبلی میں بیان دیا کہ پشاور میں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس، خیبر ٹیچنگ ہسپتال اور ایک نجی ہسپتال نے کورونا کے مریضوں کو داخل کرنے کی سہولت ختم کردی ہے، جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ہسپتالوں میں جگہ کم پڑتی جارہی ہے۔
صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے بھی کورونا کے پھیلاؤ میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ جمعہ کو ‘یوم دعا’ منایا جائے گے۔ ساتھ ہی انہوں نے علما سے درخواست کی ہے کہ وہ اجتماعات میں لوگوں کو کورونا سے بچاؤ کی تدابیر پر عمل کرنے سے متعلق آگاہی دیں۔
سندھ اور بلوچستان حکومتوں کی جانب سے بھی ان سہولیات سے متعلق ایسے ہی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کے بعد پنجاب میں ریسٹورنٹس کے اندر بیٹھ کر کھانا کھانے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اگر اب تک کورونا سے متاثرین کی مکمل صورت حال پر نظر دوڑائیں تو سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اب تک کورونامتاثرین کی تعداد چار لاکھ 68 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔
سب سے زیادہ کیسز صوبہ سندھ میں ایک لاکھ 77 ہزار 625، پنجاب میں ایک لاکھ 21ہزار 83، خیبرپختونخوا میں چار لاکھ سات ہزار 919، بلوچستان میں 17 ہزار 268 ، گلگت بلتستان میں چار ہزار 683 اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سات ہزار 67 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔
(بشکریہ:انڈپینڈنٹ اردو)
فیس بک کمینٹ

