نیروبی : پاکستانی صحافی ارشد شریف کو کینیا میں قتل کر دیا گیا ۔ موت کی تصدیق ان کی اہلیہ نے پیر کی صبح کی ہے۔ جویریہ صدیق نے ٹوئٹر پر اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’آج میں نے اپنا دوست، شوہر اور پسندیدہ صحافی کھو دیا ہے۔ جویریہ صدیق نے کہا ہے کہ ’پولیس نے انھیں بتایا ہے کہ ارشد شریف کو کینیا میں مار دیا گیا ہے۔‘
جویریہ نے یہ بھی اپیل کی ہے کہ ارشد شریف کی کینیا کی مقامی ہسپتال میں لی جانے والی آخری تصویر کو شیئر نہ کیا جائے۔
سوشل میڈیا پر ارشد شریف کی موت کی خبر نشر ہوئی تو پھر اس کے بعد پاکستان کے مقامی میڈیا نے بھی ذرائع سے ارشد شریف کی موت کی خبر نشر کی۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق ان کے چینل سے وابستہ صحافی ارشد شریف کی کینیا میں ایک حادثے میں موت واقع ہوئی ہے۔
جہاں اے آر وائی میں کام کرنے والے ان کے ساتھیوں نے اس موت پر سوشل میڈیا پر دکھ کا اظہار کیا وہیں چینل کے چیف ایگزیکٹو سلمان اقبال نے بھی تعزیتی ٹویٹ کیا اور کہا کہ انھیں اس خبر پر یقین نہیں ہو رہا ہے اور اس واقعے پر کہنے کو کوئی الفاظ نہیں مل رہے ہیں۔
ارشد شریف نے مئی میں الزام عائد کیا تھا کہ انہیں نامعلوم افراد کی جانب سے دھمکیا دی جا رہیں ہیں ۔ بعد ازاں وہ جان بچانے کے لیے پاکستان چھوڑ گئے خیال رہے کہ ارشد شریف کے بیرون ملک چلے جانے کے چند دن بعد اے آر وائی نے یہ واضح کیا تھا کہ ارشد شریف اب اے آر وائی سے وابستہ نہیں رہے۔مختلف صحافیوں کی طرف سے ارشد شریف کی کینیا میں موت کے واقعے سے متعلق تعزیتی ٹویٹ کیے گئے۔
تاہم ابھی تک پاکستانی حکومت اور کینیا کی طرف سے بھی سرکاری سطح پر اس واقعے سے متعلق کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں کہ پولیس ابھی کس قسم کی تحقیقات کر رہی ہے اور یہ واقعہ کہاں اور کیسے پیش آیا؟
ارشد شریف کو 23 مارچ کو حکومت پاکستان کی طرف سے پرائیڈ آف پرفارمنس کا ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ رواں برس پولیس نے ارشد شریف، اے آر وائی ڈیجیٹل نیٹ ورک کے صدر اور سی ای او سلمان اقبال، نیوزاینڈ کرنٹ افیئرز کے سربراہ عماد یوسف، اینکر پرسن خاور گھمن اور ایک پروڈیوسر کے خلاف 8 اگست کو پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر شہباز گل کے چینل پر نشر کیے گئے ایک متنازع انٹرویو پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا تھا۔
ایک دن بعد، وزارت داخلہ نے اس فیصلے کی وجہ کے طور پر’ایجنسیوں کی طرف سے منفی رپورٹس’ کا حوالہ دیتے ہوئے چینل کا این او سی کا سرٹیفکیٹ منسوخ کر دیا تھا اور اس کے بعد ارشد شریف ملک سے باہر چلے گئے تھے۔
ایک روز بعد وزارت داخلہ نے اس فیصلے کی وجہ کے طور پر’ایجنسیوں کی طرف سے منفی رپورٹس’ کا حوالہ دیتے ہوئے چینل کا این او سی کا سرٹیفکیٹ منسوخ کر دیا تھا اور اس کے بعد ارشد شریف ملک سے باہر چلے گئے تھے۔
بعد ازاں ’اے آر وائی نیوز‘ نے کوئی خاص وجہ کا حوالہ دیے بغیر اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ارشد شریف سے ‘راستے جدا’ کرلیے ہیں اور توقع ظاہر کی تھی کہ سوشل میڈیا پر ان کے ملازمین کا رویہ ادارے کے قواعد کے مطابق ہو۔

