ادبلکھاری

عصمت چغتائی ،،روایت شکنی سے روایت سازی تک ۔۔اشرف جاوید ملک

ڈاکٹر فرزانہ کوکب بہاالدین زکریا یونیورسٹی شعبہ اردو میں اسٹنٹ پروفیسر ہیں ۔محقق ،تنقید نگار ،مضمون نگار،تخلیقی ذہن کی حامل ایک ایسی قابل ادیبہ ہیں جنہیں سچی کھری اور جینوئن تخلیق کارہ کہا جا سکتا ہے۔آپ ملتان کی علمی ادبی اور ثقافتی انجمنوں کےلئے ایک ایسا نام ہیں ، جن کی ملتان شہر کی تقاریب میں شمولیت منتظمین کے لئے اعزاز کا باعث رہی ہے ۔آپ نے تانیثیت کے موضوعات پر بھی لکھا ہے اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے آپ کی آرا معتبر رہی ہیں ۔وہ سچ لکھتی اور سچ پسند کرتی ہیں ۔انسان شناسی اور انسان تعظیمی ان کا مزاج ہے ۔ڈاکٹر فرزانہ کوکب گھریلو ذم داریاں بھی نبھا رہی ہیں اور درس و تدریس کے پیشہ سے بھی وابستہ ہیں ۔
ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ حال ہی میں فکشن ہاؤ س سے کتابی صورت میں شائع کیا گیا ہے ۔
جس کا نام ہے ”عصمت چغتائی ،روایت شکنی سےروایت سازی تک ‘‘ دیدہ زیب سرخ پنے کے ساتھ عصمت چغتائی کی تصویر اور اندریں چار صد سولہ صفحات کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے ۔
ڈاکٹر قاضی عابد نے پیش لفظ اور قاضی جاوید نے تعارف نامہ تحریر کیا ہے ۔انتساب ڈاکٹر صاحبہ نے اپنے شریک حیات معروف صحافی اور نیوز اینکر جمشید رضوانی اور اپنے بچوں کے نام کیا ہے ۔
کتاب کا پہلا باب ساٹھ صفحات پر پھیلا ہوا ہے جس میں عصمت چغتائی کے حالات زندگی اور شخصیت پر بات کی گئی ہے محقق کا کام حقائق بیان کرنا ہے ۔ وہ کسی بھی شخصیت کے حالات و جذبات اور عرصہ زندگی کو باریک بینی کے ساتھ درست طور پر بیان کرتا چلا جاتا ہے ، جیسا کہ ڈاکٹر فرزانہ کوکب نے بیان کیا ، اگر عصمت چغتائی کی شخصیت متنازعہ رہی ، اس کے دھرم اور اس کی میت کے جلادئیے جانے کے حوالے سے بہت بحث ہو چکی ہے جو حقائق موجود تھے ڈاکٹر فرزانہ کوکب نے ان سب کا تجزیہ اس کتاب کے پہلے باب میں بہترین طور پر پیش کیا ہے ۔یہ ڈاکٹر فرزانہ کوکب کی دوربیں نگاہ کا کمال ہے کہ انہوں نے عصمت چغتائی کی ذاتی زندگی میں جھانکا اور حقائق سے پردہ پوشی نہیں کی ۔ملک و بین الملک ہر طول و عرض سے اپنی ضرورت کا قابل تحقیق مواد ,کتب و رسائل اور جدید ذرائع ابلاغ سے مدد حاصل کی ۔کتاب کا دوسرا باب عصمت چغتائی کی افسانہ نگاری کے بارے میں ہے، جس میں نہ صرف اردو افسانے کی تاریخ اور اہمیت کے بارے میں رائے قائم کرنے کے ساتھ ساتھ عصمت چغتائی کے فن افسانہ نگاری کے بارے میں تفصیلی بحث کو شامل کتاب کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر فرزانہ کے بقول
”عصمت چغتائی نے ڈاکٹر رشید جہاں کا اثر قبول کیا “
”عصمت چغتائی کی کہانیوں کا کینوس خاندانی زندگی اور اس کے ٹوٹنے بکھرنے کے موضوع تک محدود ہے“
ان کے ہاں مسائل کا تعلق زیادہ تر مسلم طبقات کی تہذیبی اور گھریلو زندگی سے ہے اور انہوں نے اپنے موضوعات کا دائرہ متوسط اور نچلے طبقے کے مسائل تک ہی محدود رکھا ہے ۔جس کے مشاہدہ میں بڑی گہرائی ہے ۔ان کے بقول عصمت چغتائی نے اپنے افسانوں میں زیاہ تر عورتوں کے مسائل کو بیان کیا ہے ۔
عورت اس کے ہاں بیک وقت کمزور بھی ہے اور طاقتور بھی ۔عصمت چغتائی کو اپنے افسانوں سے شہرت بھی ملی اور بدنامی بھی۔ اس کے افسانوں میں عورت کے سماجی اور جذباتی استحصال کو بھی موضوع بنایا گیا ہے ۔
انہوں نے عورت بن کر ہی عورت کو موضوع بنایا ہے ۔
جنس نگاری کے سلسلے میں عصمت چغتائی اپنی کہانیوں میں عورتوں کی مخصوص کمزوری ہم جنسیت پرستی کو بھی مزے لے لے کر بیان کرتی ہیں ۔
ڈاکٹر فرزانہ کوکب نے اس کتاب میں پیشہ،کنواری،سونے کے گھونٹ،عشق عشق عشق، نیند،چند تصویر بتاں،گنگا بہتی ہے،پینی،زرخرید،وہ کون تھا، جیسے عصمت چغتائی کے مشہور افسانوں کا تجزیہ بھی پیش کیا ہے ۔
تیسرے باب میں عصمت چغتائی کی ناول نگاری کے فن کے بارے میں تحقیق کو شامل کتاب کیا گیا ہے ۔چوتھے باب میں عصمت چغتائی کے ناولٹ،خاکہ نگاری،مضامین ،ڈرامے،رپورتاژ اور آپ بیتی کے حوالے سے بحث کو اس کتاب کی زینت بنایا گیا ہے ۔جبکہ پانچویں اور آخری باب ”عصمت چغتائی کے مقام و مرتبہ “ کے عنوان سے مفصل بحث کو کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے ۔
یہ کتاب ایک اہم تحقیق کے طور پر سامنے آئی ہے جس میں عصمت چغتائی کی تخلیقات اور شخصی معلومات کو بہتر طور پر ایک ضخیم کتاب کی صورت میں یکجا کر دیا گیا ہے ۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker