Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعہ, اپریل 17, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • نیو یارک ٹائمز کی رپورٹر ٹرمپ کے وفد کے ساتھ واپس کیوں نہیں گئیں ؟ نصرت جاوید کا کالم
  • ایک بریکنگ نیوز کی کہانی : حامد میر کا کالم
  • مذاکرات کا دوسرا دور : ہوشمندی اور لچک کی ضرورت سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • دوبارہ مذاکرات ہوئے تو پاکستان میں ہی ہوں گے : وائٹ ہاؤس
  • ایران نے چینی سیٹلائٹ کی مدد سے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا
  • بات دل میں کہاں سے آتی ہے : ( کچھ باتیں حفیظ ہوشیار پوری کی ) وجاہت مسعود کا کالم
  • ڈونلڈ ٹرمپ: نوبل امن انعام کا خواہاں مگر امن دشمن ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • دو خطوط اور جنگ کا بیانیہ : معصومہ شیرازی کا کالم
  • ایران سے مذاکرات اگلے دو روز میں پاکستان میں ہو سکتے ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر ’بہت اچھا کام‘ کر رہے ہیں: ٹرمپ
  • ’ اس شہر میں تم جیسے دیوانے ہزاروں ہیں‘ : آشا بھوسلے لاکھوں دیوانوں کو اداس کر گئیں
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»آصف جیلانی»بھٹو صاحب کی شخصیت کے تضادات : نامور صحافی اور براڈکاسٹر آصف جیلانی کے قلم سے
آصف جیلانی

بھٹو صاحب کی شخصیت کے تضادات : نامور صحافی اور براڈکاسٹر آصف جیلانی کے قلم سے

ایڈیٹرجنوری 8, 202456 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
ZA-Bhutto court
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

سن انیس سو چون کی بات ہے۔ مظفر علی منصوری صاحب جو ان دونوں خبر رساں ایجنسی اے-پی-پی میں تھے اور ڈان کے مشیر حسن کے ساتھ میں سندھ چیف کورٹ کے چائے خانے میں بیٹھا تھا کہ چھبیں سال کا ایک نوجوان جو لباس سے نرا ”ٹیڈی بوائے“ نظر آتا تھا، پتلی موری والی ٹانگوں سے چپکی ہوئی پتلون، جسم پر کسا ہوا کوٹ، چمک دار غیر ملکی جوتے اور چال ایسی کہ جیسے کوئی رقص پر موسیقی کی تیز دھن سے قدم ملارہا ہو۔
یہ ذوالفقار علی بھٹو تھے جو کیلی فورنیا کی برکلے یونیورسٹی سے فارغ ہو کر تازہ تازہ پاکستان لوٹے تھے اور کراچی میں وکالت شروع کی تھی۔ اس زمانہ میں وہ سندھ کے مشہور وکیل رام چندانی ڈنگومل کے چیمبر سے منسلک تھے۔
گاندھی گارڈن کے عقب میں اس علاقہ میں جو گارڈن ایسٹ کہلاتا تھا یہ اپنے والد سر شاہ نواز کی کوٹھی میں رہتے تھے۔ میں اس زمانہ میں اسی علاقہ میں رہتا تھا اور گاہے بگاہے ملاقات ہوتی رہتی تھی۔
سندھ چیف کورٹ کے چائے خانہ میں مجھے دیکھ کر ہی وہ ہماری میز پر آئے تھے۔ اس دن وہ بہت خوش تھے کہنے لگے کہ آصف، مجھے پہلا مقدمہ ملا ہے جو بہت اہم ہے۔ سندھ کے ہاری رہنما حیدر بخش جتوئی کو ایوب کھوڑو نے گرفتار کر لیا ہے۔ ”میں ان کی حبس بےجا کی درخواست داخل کرنے حیدر آباد جا رہا ہوں لیکن مجھے ڈر ہے کہ بدبخت کھوڑو مجھے بھی پکڑ لے گا“۔
پھر کچھ توقف کے بعد بولے، اگر چار روز کے بعد میں کراچی واپس نہ آیا تو تم میرے لیے حبس بےجا کی درخواست داخل کر دینا۔
میں نے منصوری صاحب اور مشیر حسن سے بھٹو صاحب کا تعارف کرایا۔ مجھے علم تھا کہ ان کے والد سر شاہ نواز انہیں سفارت کار بنانا چاہتے تھے اور وہ انہیں لے کر ایوب کھوڑو کے پاس گئے تھے۔ لیکن انہیں بے التفاتی کا سامنا کرنا پڑا۔ میں نے کہا کہ بھٹو صاحب سفارت کار بننا چاہتے ہیں۔
منصوری صاحب نے پوچھا کہ کیوں سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں؟
اس پر بھٹو صاحب نے کہا ارادہ تو ہے لیکن۔۔۔۔
میں نے پوچھا کہ لیکن کیا؟
وہ بولے کوئی جماعت مناسب نظر نہیں آتی۔ پھر خود کہا کہ مسلم لیگ زمینداروں اور جاگیرداروں اور عہد رفتہ کے سیاست دانوں کی جماعت ہے۔
میں نے از را ہ تفنن کہا تو پھر کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہو جائیں۔
کہنے لگے کہ نظریات تو بھلے خوش نما ہوں لیکن میرے مزاج کے مطابق نہیں۔
منصوری صاحب نے کہا ہاں عیش و عشرت کی زندگی ترک کرنی ہوگی اور جاگیرداروں کا چولا اتار کر مزدوروں اور کسانوں میں کام کرنا پڑے گا۔
میں نے کہا کہ آزاد پاکستان پارٹی کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اس ترقی پسند پارٹی میں تو پڑھے لکھے روشن خیال لوگ ہیں اور خود ان کے وکالت کے پیشہ سے تعلق رکھنے والے ممتاز افراد ہیں جیسے بیرسٹر نور العارفین، محمود علی قصوری اور فخر الدین جی ابراہیم وغیرہ۔
بھٹو صاحب کہنے لگے، وہاں پہلے ہی سے میاں افتخار الدین اور شوکت حیات ایسے سیاست دان ہیں میں ان میں گہنا جاؤں گا۔
منصوری صاحب نے سوال کیا کہ عوامی لیگ کے بارے میں انہوں نے نہیں سوچا۔
بھٹو صاحب بولے اس پارٹی کی جڑیں بنگال میں ہیں، اس کے مسائل اور اس کی شبیہ بنگالی ہے۔ پاکستان کی اس مغربی حصہ میں یہ کبھی قبولیت حاصل نہیں کرسکے گی۔
مشیر حسن نے برجستہ کہا کہ اب صرف جماعت اسلامی بچ گئی ہے۔
اس پر انہوں نے زور دار قہقہہ لگایا اور کہا کہ میں اور ملاؤں کی جماعت میں شامل ہوں؟
میں نے کہا کیوں نہیں، دین بھی مل جائے گا اور دنیاوی سیاست میں بھی نام ہوگا۔
کہنے لگے نہیں وہاں مجھ جیسے روشن خیال شخص کی گنجایش نہیں۔
یہ تھا ہمارا پہلا مفصل تعارف ذوالفقار علی بھٹو سے۔ بڑے زمیندار سر شاہ نواز بھٹو کا بیٹا، ناز و نعمت میں پلا بڑھا، عیش و عشرت سے سرشار، جو غریب ہاریوں کے رہنما کا مقدمہ لڑنے جا رہا تھا اور جو ملک کی سیاست میں آنے کا آرزومند لیکن کوئی جماعت اسے خاطر خواہ نظر نہیں آتی۔ پھر ایک عرصہ گزر گیا۔ بھٹو صاحب کو نہ تو کوئی بڑا مقدمہ ملا، ویسے انہیں ضروت بھی نہیں تھی۔ زیادہ وقت ان کا اشرفیہ کی شبینہ پارٹیوں میں گزرتا تھا یا پھر لاڑکانہ میں المرتضی میں جہاں وہ صاحب ثروت افراد کو تیتر بٹیر کے شکار کی دعوتیں دیتے تھے۔
اکتوبر سن اٹھاون میں پاکستان میں پہلی بار جنرل ایوب خان کی قیادت میں فوج نے ملک فیروز خان نون کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا۔ اس مارشل لاء کے تحت ایوب خان نے ملک کے تمام صوبوں کی نمایندگی کے لئے کابینہ تشکیل کی تھی لیکن سندھ میں شدید مخالفت کی وجہ سے اس صوبہ سے کوئی وزیر نہیں مل رہا تھا۔ اس بارے میں جب ایوب خان نے صدر اسکندر مرزا سے ذکر کیا تو انہوں نے بھٹو صاحب کا نام تجویز کیا جن کے ہاں وہ عام طور پر شکار کھیلنے جاتے تھے۔ پھر اسکندر مرزا کی بیگم ناہید کے بھٹو صاحب کی اہلیہ نصرت بھٹو کی دوستی کے ناطے قریبی تعلقات تھے۔ یوں بھٹو صاحب وزیر تجارت کے عہدہ پر فائز ہوئے۔
بلاشبہ اس دور میں بھٹو صاحب کا سب سے بڑا کارنامہ روس کو پاکستان میں فولاد کے کارخانہ کے قیام کے منصوبہ کے لیے آمادہ کرنا تھا جس سے پاکستان نے صنعتی ترقی نے ایک نیا موڑ لیا۔ پھر سن تریسٹھ میں ان کا کارنامہ چین اور پاکستان کے درمیاں سرحد کے تعین کے بارے میں سمجھوتہ تھا۔
سن انیس سو اٹھاون میں فوجی حکومت کے راستے سیاست میں داخلے نے، ایسا جان پڑتا تھا کہ بھٹو صاحب کی سیاسی تقدیر پر فوج کی ایسی ان مٹ مہر ثبت کر دی جس سے انہیں تختہ دار تک نجات نہیں مل سکی۔
انہیں اس بات کا شدید احساس تھا کہ چونکہ ان کا تعلق ملک کے ایک چھوٹے صوبے، سندھ سے ہے لہٰذا اقتدار کے حصول میں انہیں فوج کے سہارے کے علاوہ اور کوئی راہ نہیں ہے اور اس کے لیے انہیں بہت قربانی دینی ہوگی۔
بنگلہ دیش کے بحران کے سلسلہ میں ان پر یہی الزام عائد ہوتا ہے کہ انہوں نے فوج کا موقف اختیار کیا اور شیخ مجیب سے ”ادھر تم ادھر ہم کے“ نعرے کی بنیاد پر دو بدو مقابلہ کیا اور مفاہمت کے تمام کواڑ بھیٹر دیے۔
پھر بنگلہ دیش کے قیام کے بعد انہوں نے ملک کی شکست خوردہ فوج کی امیج بحال کرنے کے جتن کیے، یہاں تک کہ فوج کی پرانی وردی بدل دی اور وعدہ کیا کہ وہ پاکستان کی فوج کو ایشیا کی بہترین لڑاکا فوج بنادیں گے۔
اور فوج کو بدنامی سے بچانے کے لیے انہوں نے مشرقی پاکستان میں سیاسی اور فوجی ہزیمت کے بارے میں حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ کو مقفل رکھا اور کسی کو اس کی سن گن نہ ہونے دی۔ جب کہ اس وقت اس بات کی سخت ضرورت تھی کہ قوم کھل کر ان عوامل پر بحث کرے جن کے نتیجہ میں ملک دولخت ہوا۔
پھر شکست خوردہ فوج کے سربراہ اور ملک کے ٹوٹنے کے حالات کے ذمہ دار جنرل یحیٰی کی معزولی کے بعد ان کی موت تک ان کے خلاف مقدمہ چلانے سے صاف انکار کیا۔ فوج اور فوجی جرنیلوں کا خوف بھٹو صاحب کے ذہن پر بری طرح سے طاری تھا۔
مجھے یاد ہے کہ سن اکہتر میں سقوط ڈھاکہ کے بعد جب بھٹو صاحب سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کرکے جرنیلوں کے بلاوے پر وطن واپس جا رہے تھے تو وہ لندن کے ہیتھ رو ہوائی اڈے پر رکے۔ اتوار کا دن تھا۔ وی آئی پی لاؤنج میں ان کی اس زمانہ کے برطانوی وزیر خارجہ سر ایلک ڈگلس ہیوم سے ملاقات ہوئی۔
اس ملاقات کے بعد پتہ چلا کہ جرنیلوں نے طیارہ لندن بھیجنے کے بجائے روم بھیجا ہے۔ اس پرواز کے لیے ہیتھ رو کے یورپی ٹرمنل پر جانا پڑا۔ روم کی پرواز تین گھنٹے بعد تھی۔ اس دوران میں ان کے ساتھ تھا۔ ملک ٹوٹنے کا صدمہ اتنا شدید تھا کہ مجھ سے زیادہ بات نہیں ہو رہی تھی اور بھٹو صاحب اس بات پر سخت پریشان تھے کہ جرنیلوں نے طیارہ روم کیوں بھیجا ہے۔ لاؤنج میں بیٹھے بیٹھے وہ بولے” آصف، رباط کے اس ڈرامہ کا قصہ سناؤ جو یحییٰ خان کو پیش آیا تھا“۔ میرا دل دھک سے رہ گیا کہ اس وقت جب ملک پر ایسی آفت آن پڑی ہے بھٹو صاحب یحییٰ خان کے ان کرتوتوں کا وہ قصہ سننے کے لیے بے تاب ہیں جو رباط میں پہلی اسلامی سربراہ کانفرنس کے دوران پیش آیا تھا اور جو میں نے انہیں سن انہتر میں لندن میں سنایا تھا جب وہ پیپلز پارٹی کی تنظیم کے سلسلہ میں یہاں آئے تھے۔
میں نے دل میں سوچا یہ کوئی وقت ہے ایسے قصوں کا۔ میں نے موضوع بدلنے کے لیے ان کی تشویش کو دہرایا کہ آخر جرنیلوں نے طیارہ روم کیوں بھجوایا ہے؟ کہنے لگے کہ کم بخت جنرل ان کا طیارہ کریش تو نہیں کرا دیں گے؟
میں نے ان کو تسلی دی کہ اس وقت فوج کو ان کی سخت ضرورت ہے ملک کے سنگین ترین بحران سے نکلنے کے لیے۔ میں نے کہا سن اٹھاون میں فوج کو ان کی اتنی ضرورت نہیں تھی جتنی کہ اس وقت تھی۔ میں نے کہا کہ وہ سن اٹھاون میں جب مارشل لاء کی حکومت میں شامل ہوئے تھے تو اس وقت ان کی سیاسی قوت نہیں تھی لیکن اب وہ بچی کھچی پاکستان کی پارلیمنٹ میں اکثریتی پارٹی کے سربراہ ہیں۔
بھٹو صاحب کے چہرے سے لگ رہا تھا کہ وہ یہ باتیں سننے کے لیے بے تاب تھے۔
سن بہتر کے اوائل میں بھٹو جب ایران، ترکی، مراکش، تیونس، الجزائر، لیبیا، مصر اور شام کے دورے پر نکلے تو میں ان کے ساتھ تھا۔ ترکی میں دارالحکومت انقرہ کی پہاڑی پر کمال اتاترک کے مقبرہ پر حاضری دینے کے بعد بھٹو صاحب نے وہاں رکھی کتاب میں کمال اتاترک کو خطاب کرتے ہوئے لکھا کہ جس طرح شکست خوردہ ترکی کو انہوں نے پر آشوب دور میں سنبھالا تھا اور اس کا احیاء کیا اور اس کی عظمت کو بحال کیا اس چیلنج سے وہ اپنے ملک میں دو چار ہیں۔
پھر جب دمشق میں انہوں نے آٹھ ملکوں کا دورہ مکمل کیا تو شام کے صدر حافظ الاسد کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ان کا یہ دورہ نشاۃ ثانیہ کاسفر تھا اور پاکستان کی مہارت اور عرب سرمایہ کے اشتراک سے ہم عالم اسلام کی ترقی اور قوت کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں۔ بھٹو صاحب کا واضح اشارہ جوہری توانائی کے میدان میں اشتراک کی طرف تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ لوگ بھی جو بھٹو صاحب کے سیاسی حریف تھے اور اب بھی ان کی سیاست کے مختلف پہلوں کے نکتہ چیں ہیں وہ اس بات کے معترف ہیں کہ پاکستان نے جوہری اسلحے کے میدان میں جو کچھ حاصل کیا ہے اس کا سہرا ذوالفقار علی بھٹو کے سر ہے اور دراصل اسی وجہ سے انہیں خمیازہ، اقتدار سے محرومی اور تختہ دار کی شکل میں دینا پڑا۔
یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ سن اکہتر میں بھٹو صاحب نے بنگلہ دیش کے بحران میں فوج کا بھرپور ساتھ دیا اور پھر فوج کے ہاتھوں دولخت پاکستان کو برے وقت سنبھالا لیکن اسی فوج نے سن ستر میں ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور اناسی میں تختہ دار پر چڑھا دیا۔
بھٹو صاحب سے میری آخری ملاقات جولائی سن تہتر میں لندن میں ہوئی تھی جب وہ برطانیہ کے سرکاری دورہ پر آئے تھے۔ یہ خاصی طویل ملاقات تھی شرط ان کی یہ تھی کہ اس کے بارے میں ایک لفظ بھی ان کے جیتے جی باہر نہیں آئے گا۔ وہ نہ جانے کیوں ماضی کی یادوں کو بار بار کرید رہے تھے خود انہوں نے سن چون کی سندھ چیف کورٹ کی ملاقات یاد دلائی اور شکایتاً کہا کہ میں یہ طعنہ دیتا تھا کہ وہ سیاست میں فوج کے بل پر آئے ہیں لیکن لوگ اس بات کا اعتراف کیوں نہیں کرتے کہ انہوں نے پاکستان کی سیاست کو زمینداروں اور جاگیرداروں کے محلات سے نکال کر عوام کے حوالہ کی۔
مجھے بھٹو صاحب کے جاگیردارانہ انداز کا بخوبی احساس تھا اور مجھے پورا علم تھا کہ وہ اپنی کوئی مخالفت برداشت کرنے کے عادی نہیں۔ مجھے ان کے نہایت سہل موڈ سے ہمت یہ ہوئی۔ میں نے کہا بلاشبہ پاکستان کی تاریخ میں یہ بات روشن رہے گی لیکن اس نکتہ چینی سے آپ دامن نہیں بچاسکتے کہ پیپلز پارٹی کے قیام کے وقت جو ترقی پسند لوگ آپ کے ساتھ تھے وہ لوگ جنہوں نے سن ستر کے انتخابات میں آپ کو اور آپ کی پارٹی کو فتح سے ہمکنار کرایا وہ اقتدار کے حصول کے بعد بہت جلد یکے بعد دیگرے آپ سے جدا ہو گئے۔ پھر آپ نے اپنی پیپلز پارٹی کا تمام تر انتظام ایک سرکاری افسر وقار احمد کے حوالے کر دیا ہے۔
میں نے کہا کہ لوگ اس بات کا بھی اعتراف کرتے ہیں کہ آپ ملک میں صدارتی نظام قائم کرنے کے زبردست خواہاں تھے لیکن آپ نے عوام کی اکثریت اور ان جماعتوں کی رائے کا خیال رکھا جو ملک میں پارلیمانی جمہوریت چاہتی تھیں اور آپ نے آئین انہی خواہشات کے مطابق مرتب کیا۔ لیکن اس کے ساتھ لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ اس کے فورا بعد آپ نے سرحد اور بلوچستان میں حزب مخالف کی نیپ کی حکومتیں برطرف کر دیں۔
بھٹو صاحب نے موضوع بدلتے ہوئے کہا کہ سن تریسٹھ کے وہ دن یاد ہیں جب دلی اور کلکتہ میں کشمیر کے بارے میں سردار سورن سنگھ سے مذاکرات کے دوران ملاقاتیں ہوئی تھیں اور ہندوستان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں بحث ہوئی تھی۔ کشمیر کے ذکر پر مجھے آپریشن جبرالٹر اور اس کے بعد سن پینسٹھ کی جنگ کے سلسلہ میں بھٹو صاحب کے رول پر سخت نکتہ چینی یاد آئی کہ انہوں نے کشمیر میں صورت حال کا صحیح تجزیہ نہیں کیا اور آنکھ بند کر کے چار ہزار کمانڈوز وادی میں جھونک دیے یہ جانے بغیر کہ کشمیر کے عوام کی انہیں حمایت ملے گی یا نہیں۔ پھر سن پینسٹھ کی جنگ میں یہ سوچے بغیر کہ اگر امریکا اور برطانیہ نے اسلحہ کی سپلائی بند کردی تو جنگ کیسے جاری رکھی جائے گی صدر ایوب خان کو اس جنگ میں کودنے پر مجبور کیا۔ ان سب باتوں کا ذکر میں کرنا چاہتا تھا لیکن عمدا نہیں کیا کیونکہ رات کافی گذر چکی تھی اور میں نہیں چاہتا تھا کہ یہ ملاقات بھٹو صاحب کی ناراضگی اور غصہ پرختم ہو۔
واپسی پر میں یہ سوچتا آیا کہ کس قدر تضادات ہیں ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت میں۔ ایک طرف ایسی سیاسی بصیرت جس کا پاکستان کے سیاست دانوں میں سخت فقدان رہا ہے۔ روشن خیال اور اعلی تعلیم سے لیس دوسری طرف خالص جاگیردارانہ تحکمانہ اور آمرانہ انداز۔
بہت سے لوگوں کی طرح میں بھی سوچتا ہوں کہ اگر سن اکہتر میں بھٹو صاحب شیخ مجیب سے سیاسی مفاہمت کرلیتے اور اقتدار میں شراکت پر تیار ہو جاتے تو آج پاکستان کا نقشہ ہی مختلف ہوتا اور ممکن ہے کہ فوج کو سیاسی میدان میں شکست ہو جاتی۔
اور اگر سن اکہتر کی جنگ کی شکست کے بعد وہ صحیح معنوں میں فوج کا محاسبہ کرتے تو پاکستان کی سیاست پر سے فوج کی بالادستی سے ہمیشہ کے لیے نجات مل جاتی۔
یہ دونوں بہترین مواقع تھے جو ذوالفقار علی بھٹو نے کھودیے جو خود ان کے لیے مہلک اور ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہوئے۔

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

ذوالفقار علی بھٹو سپریم کورٹ
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleسپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کر دی : نواز شریف اور جہانگیر ترین کی تاحیات نا اہلی ختم
Next Article امر جلیل کا کالم:تاریخ سے کھلواڑ
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

غلام قوم میں پیدا ہونے والے بھٹو کے افکار کو کون سولی چڑھائے گا ؟ مہتاب حیدر تھیم کا کالم

اپریل 4, 2026

سولہ دسمبر یومِ سیاہ ، چار اپریل یومِ سیاہ تر : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم

اپریل 3, 2026

بھٹو کا قتل دراصل تہذیب کا قتل ہے : پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا کالم

اپریل 2, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • نیو یارک ٹائمز کی رپورٹر ٹرمپ کے وفد کے ساتھ واپس کیوں نہیں گئیں ؟ نصرت جاوید کا کالم اپریل 16, 2026
  • ایک بریکنگ نیوز کی کہانی : حامد میر کا کالم اپریل 16, 2026
  • مذاکرات کا دوسرا دور : ہوشمندی اور لچک کی ضرورت سید مجاہد علی کا تجزیہ اپریل 16, 2026
  • دوبارہ مذاکرات ہوئے تو پاکستان میں ہی ہوں گے : وائٹ ہاؤس اپریل 16, 2026
  • ایران نے چینی سیٹلائٹ کی مدد سے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا اپریل 16, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.